قومی زبان

ترے ذوق بندگی کا رہے معترف زمانہ

ترے ذوق بندگی کا رہے معترف زمانہ اسے سجدہ کر کے ندرتؔ کبھی ہوش میں نہ آنا وہ سجود شوق پیہم وہ کسی کا آستانہ وہی ڈھونڈھتی ہیں آنکھیں جو گزر گیا زمانہ ترے ساتھ میں حرم میں ترے ساتھ بت کدہ میں نہ کہیں قرار تجھ کو نہ کہیں مرا ٹھکانا میں اسے ادا کروں گا جو ہے فرض عشق مجھ پر مگر اپنے ...

مزید پڑھیے

مختلف طریقوں سے رنج عمر بھر پایا

مختلف طریقوں سے رنج عمر بھر پایا زندگی تو کیا پائی ہم نے درد سر پایا دوست سے توقع تھی کچھ کرم نمائی کی میں طویل شکوے کو مختصر نہ کر پایا واقعہ سہی لیکن جرم ہے یہ کہنا بھی میں نے اپنے عالم سے ان کو بے خبر پایا بوالہوس میں اور مجھ میں فرق کچھ بتاؤ تو کس کو دوربیں پایا کس کو کم نظر ...

مزید پڑھیے

جو آسماں پہ گھٹا چھا گئی تو کیا ہوگا

جو آسماں پہ گھٹا چھا گئی تو کیا ہوگا یکایک آپ کی یاد آ گئی تو کیا ہوگا ابھی تو دل ہے غم عاشقی سے بیگانہ نظر نظر سے جو ٹکرا گئی تو کیا ہوگا رہے جو ہوش بھی قائم نہ وقت نظارہ نگاہ شوق بھی گھبرا گئی تو کیا ہوگا محال جرأت اظہار مدعا نہ سہی جو اس جبیں پہ شکن آ گئی تو کیا ہوگا کہاں ...

مزید پڑھیے

روا نہیں ہے اگر یہ تو ناروا بھی نہیں

روا نہیں ہے اگر یہ تو ناروا بھی نہیں کہ عرض شوق سے توہین مدعا بھی نہیں جنوں کو عشق کی معراج جاننے والے یہ انتہا تو محبت کی ابتدا بھی نہیں کہاں یہ تھا کہ ترے مرکزنظر تھے ہمیں کہاں یہ ہے کہ سزاوار اعتنا بھی نہیں کرم نہ تھا تو ترستے تھے ہم جفا کے لیے کرم ہوا تو مظالم کی انتہا بھی ...

مزید پڑھیے

بیان درد کو کس حسن سے تمام کیا

بیان درد کو کس حسن سے تمام کیا مری زباں سے زیادہ نظر نے کام کیا اس آستاں پہ بشر کیا ملائکہ ہیں نثار مری جبیں نے جسے سجدہ گاہ عام کیا تلاش دوست اک امر محال تھا لیکن یہ واقعہ ہے کہ ذوق عمل نے کام کیا انہیں دلا کے تغافل شعاریوں کی قسم اک آہ سرد بھری اور گلہ تمام کیا

مزید پڑھیے

سکوں کی موج اٹھی شور و شر روانہ ہوا

سکوں کی موج اٹھی شور و شر روانہ ہوا مرا ورود حریفوں کو تازیانہ ہوا بہ پاس وضع مرا مسلک وفا ہے وہی اگرچہ آپ کو بدلے ہوئے زمانہ ہوا خوشا وہ سر کہ جھکا جو حد تعین میں زہے وہ سجدہ کہ جو صرف آستانہ ہوا ستم کیا جو بہ منشائے دشمنی تو نے مری طرف سے جواب اس کا مخلصانہ ہوا غم حیات کی ...

مزید پڑھیے

گردش ساغر سبو کے درمیاں

گردش ساغر سبو کے درمیاں زندگی ہے ہاؤ ہو کے درمیاں زخم اور پوشاک بھی رکھے گئے آئنہ اور آب جو کے درمیاں تیسرا رستہ کدھر کو جائے ہے آرزو اور جستجو کے درمیاں کتنی بے معنی سی ہے یہ زندگی خاموشی اور گفتگو کے درمیاں زندگی ترجیح کس کو دیتی ہے سبز رو اور خوش گلو کے درمیاں یاد کی اک ...

مزید پڑھیے

گلیوں کی بس خاک اڑا کے جانا ہے

گلیوں کی بس خاک اڑا کے جانا ہے ہم کو بھی آواز لگا کے جانا ہے رستے میں دیوار ہے ٹوٹے خوابوں کی ہم کو وہ دیوار گرا کے جانا ہے ہم بھی اک دن آئے گا جب جائیں گے ہم کو بھی یہ رسم نبھا کے جانا ہے جو بھی ہے وہ سب مٹی ہو جائے گا ہم کو بس اک خواب بچا کے جانا ہے میرے اندر صدیوں کی خاموشی ...

مزید پڑھیے

وہ دور خوابوں کے ساحلوں میں عذاب کس کے ہیں خواب کس کے

وہ دور خوابوں کے ساحلوں میں عذاب کس کے ہیں خواب کس کے یہ کون جانے کہ اب رتوں میں عذاب کس کے ہیں خواب کس کے یہ کون جانے کہ کس کا چہرہ غبار لمحوں میں خاک ہوگا یہ کون جانے کہ اب دنوں میں عذاب کس کے ہیں خواب کس کے یہ زرد چہرے کی ساری زردی یہ بانجھ آنکھوں کا رتجگا پن یہ پوچھتے ہیں کہ ...

مزید پڑھیے

جہاں وہم و گماں ہو جائے گا کیا

جہاں وہم و گماں ہو جائے گا کیا یہاں سب کچھ دھواں ہو جائے گا کیا ستارے دھول اور مٹی بنیں گے سمندر آسماں ہو جائے گا کیا تمہارا عشق تو لا حاصلی ہے یہ غم بھی رائیگاں ہو جائے گا کیا یوں سر پر ہاتھ رکھ کر چل رہے ہو تو اس سے سائباں ہو جائے گا کیا یہ میرا اختتام زندگی بھی کہیں پہ درمیاں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2143 سے 6203