ترے ذوق بندگی کا رہے معترف زمانہ
ترے ذوق بندگی کا رہے معترف زمانہ اسے سجدہ کر کے ندرتؔ کبھی ہوش میں نہ آنا وہ سجود شوق پیہم وہ کسی کا آستانہ وہی ڈھونڈھتی ہیں آنکھیں جو گزر گیا زمانہ ترے ساتھ میں حرم میں ترے ساتھ بت کدہ میں نہ کہیں قرار تجھ کو نہ کہیں مرا ٹھکانا میں اسے ادا کروں گا جو ہے فرض عشق مجھ پر مگر اپنے ...