قومی زبان

خیال و خواب میں ہونا صدائے باد میں رہنا

خیال و خواب میں ہونا صدائے باد میں رہنا کسی کی آس میں جینا کسی کی یاد میں رہنا پر اسراری عجب سی ہے تری ویران آنکھوں میں تجھے بھی راس آیا خانۂ برباد میں رہنا محبت ایک بحر بیکراں ہے اور محبت میں کہیں پر قید ہونا ہے دل آزاد میں رہنا کسی کی یاد ہے الجھی ہوئی سانسوں کی ڈوری سے کسی کے ...

مزید پڑھیے

ترا خیال بہت دیر تک نہیں رہتا

ترا خیال بہت دیر تک نہیں رہتا کوئی ملال بہت دیر تک نہیں رہتا اداس کرتی ہے اکثر تمہاری یاد مجھے مگر یہ حال بہت دیر تک نہیں رہتا میں ریزہ ریزہ تو ہوتا ہوں ہر شکست کے بعد مگر نڈھال بہت دیر تک نہیں رہتا جواب مل ہی تو جاتا ہے ایک چپ ہی نہ ہو کوئی سوال بہت دیر تک نہیں رہتا میں جانتا ...

مزید پڑھیے

کوئی سایا اچھے سائیں دھوپ بہت ہے

کوئی سایا اچھے سائیں دھوپ بہت ہے مر جاؤں گا اچھے سائیں دھوپ بہت ہے سانولی رت میں خواب جلے تو آنکھ کھلی ہے میں نے دیکھا اچھے سائیں دھوپ بہت ہے اب کے موسم یہی رہے تو مر جائے گا اک اک لمحہ اچھے سائیں دھوپ بہت ہے کوئی ٹھکانہ بخش اسے جو گھوم رہا ہے مارا مارا اچھے سائیں دھوپ بہت ...

مزید پڑھیے

کتا بھونکتا ہے

پرانے شہر کی ویراں گلی میں جب بھی آدھی رات ہوتی ہے تو کتا بھونکتا ہے کتا بھونکتا ہے ایک سایا سا ابھرتا ہے مرے کمرے کے ویراں طاق پر رکھے دئے کی لو لرزتی ہے سڑک کے اک سرے سے اجنبی سی چاپ ابھرتی ہے اداسی گھر کے دروازے پر آ کر بین کرتی ہے اور کتا بھونکتا ہے کتا بھونکتا ہے نیم شب کو ...

مزید پڑھیے

یادیں پاگل کر دیتی ہیں

یادیں پاگل کر دیتی ہیں باتیں پاگل کر دیتی ہیں چہرہ ہوش اڑا دیتا ہے آنکھیں پاگل کر دیتی ہیں تنہا چلنے والوں کو یہ راہیں پاگل کر دیتی ہیں دن تو خیر گزر جاتا ہے راتیں پاگل کر دیتی ہیں

مزید پڑھیے

خدا سے ظلم کا شکوہ ضرور میں نے کیا

خدا سے ظلم کا شکوہ ضرور میں نے کیا بڑا قصور یہ اے رشک حور میں نے کیا کسی سے دل کا لگانا گناہ ہے ناصح جو یہ قصور ہے تو یہ قصور میں نے کیا وہ ذکر وعدۂ وصل عدو پہ کہتے ہیں ضرور میں نے کیا بالضرور میں نے کیا ترا خیال مرے دل میں آ نہیں سکتا کہ جس کو دور کیا اس کو دور میں نے کیا جناب ...

مزید پڑھیے

کیا وصل کی امید مرے دل کو کبھی ہو

کیا وصل کی امید مرے دل کو کبھی ہو اس شوخ کی تصویر بھی جب مجھ سے کھنچی ہو مجھ کو نہ بلاتے ہیں نہ آتے ہیں مرے گھر افسوس ہے ان سے نہ یہی ہو نہ وہی ہو اے پیر مغاں مجھ کو ترے سر کی قسم ہے توبہ تو کہاں توبہ کی نیت بھی جو کی ہو وہ مجھ سے یہ کہتے ہیں کہ محشر کو ملوں گا میں ان سے یہ کہتا ہوں ...

مزید پڑھیے

فروغ حسن میں کیا بے ثبات دل کا وجود

فروغ حسن میں کیا بے ثبات دل کا وجود وہ آفتاب یہ شبنم وہ آگ یہ بارود زہے مدارج و عرفان و لطف بزم شہود ہمیں ہیں عبد ہمیں عبدیت ہمیں معبود وہ بار بار محبت سے ذکر خیر کریں شہید غم کی یہی فاتحہ یہی ہے درود سواد شام محبت ہے دود بے آتش طلوع‌ صبح تمنا ہے آتش بے دود بلطف‌ و عیش و نشاط ...

مزید پڑھیے

کیا کہوں ہم نشیں یہ میرا بھاگ

کیا کہوں ہم نشیں یہ میرا بھاگ ایک جان اور سیکڑوں ہیں کھڑاگ پھر کبھی مے سے توبہ کر لوں گا اب تو بوتل کا کھل گیا ہے کاگ دیدہ و دل کی نبھ نہیں سکتی اس میں پانی ہے اور اس میں آگ کر کے وہ ذکر جور ڈھائیں گے تار بولا کہ ہم نے بوجھا راگ اب خزاں میں کہاں وہ رنگ چمن جلد تر لٹ گیا دلہن کا ...

مزید پڑھیے

سوال وصل پہ عذر وصال کر بیٹھے

سوال وصل پہ عذر وصال کر بیٹھے وہ کس خیال سے ایسا خیال کر بیٹھے اب آؤ مان بھی جاؤ جو کچھ ہوا وہ ہوا ذرا سی بات کا اتنا ملال کر بیٹھے ہم اٹھتے بیٹھتے بھی ان کے پاس ڈرتے ہیں وہ اور کچھ نہ الٰہی خیال کر بیٹھے وہ اس لیے مرے پہلو میں بیٹھتے ہی نہیں کہ یہ کہیں نہ سوال وصال کر بیٹھے

مزید پڑھیے
صفحہ 2144 سے 6203