قومی زبان

محبت کا زمانا یاد آیا

محبت کا زمانا یاد آیا مجھے اپنا فسانا یاد آیا جبیں کی شورشیں اللہ اکبر پھر ان کا آستانہ یاد آیا وہ روداد الم پھر یاد آئی ترا آنسو بہانا یاد آیا اسیروں کو قفس کی زندگی میں نشیمن کا زمانا یاد آیہ لب گل کا تبسم کچھ نہ پوچھو تمہارا مسکرانا یاد آیا وہ عالم اپنی ازخود رفتگی کا وہ ...

مزید پڑھیے

غم حیات کو ناخوش گوار کر نہ سکا

غم حیات کو ناخوش گوار کر نہ سکا مرا ضمیر مجھے شرمسار کر نہ سکا خرد کو نذر فریب بہار کر نہ سکا جنوں کی عام روش اختیار کر نہ سکا نہ پوچھ غم کی نزاکت عجیب راز ہے یہ کہ میں نگاہ سے بھی آشکار کر نہ سکا قلیل وقفۂ ہستی نے کر دیا مجبور بقدر ذوق ترا انتظار کر نہ سکا

مزید پڑھیے

ترے ستم پہ قناعت نہ کی تو کچھ نہ کیا

ترے ستم پہ قناعت نہ کی تو کچھ نہ کیا تمام عمر محبت نہ کی تو کچھ نہ کیا یہ دیکھ کر کہ سکوں سے گزر رہی ہے حیات تری نظر نے شرارت نہ کی تو کچھ نہ کیا غم اک عطا ہے مگر تو نے اے دل ناداں بجائے شکر شکایت نہ کی تو کچھ نہ کیا برا نہ مان کہ دستور کے خلاف نہیں جو دوستی میں عداوت نہ کی تو کچھ نہ ...

مزید پڑھیے

ترے یقین کے قابل اگر نہیں تو نہ ہو

ترے یقین کے قابل اگر نہیں تو نہ ہو جو داستان وفا معتبر نہیں تو نہ ہو ہزار رنج اٹھا کر بھی مسکرائیں گے حیات عشق اگر مختصر نہیں تو نہ ہو بہار آئے تو کیوں کر قفس میں چین پڑے اگر کسی کو غم بال و پر نہیں تو نہ ہو اب اٹھ کے جائیں کہاں بت کدے کی راہ ہیں ہم یہ راستہ بھی تری رہ گزر نہیں تو ...

مزید پڑھیے

کہاں تک ضبط کرتا بے خودی سے آشنا ہو کر

کہاں تک ضبط کرتا بے خودی سے آشنا ہو کر نقاب راز میں نے بھی الٹ دی لب کشا ہو کر حیات عشق کی ہر سانس صرف جستجو کر دے لطافت دل کی زائل کر نہ منزل آشنا ہو کر خدا معلوم اس کی جستجو مجھ کو کہاں لائی کہ خود بھی کھو گیا ہوں اپنے مرکز سے جدا ہو کر فضائے دہر کر دی پر سکوں کیف ترنم سے کسی نے ...

مزید پڑھیے

تاریک بت کدے کو درخشاں بنا دیا

تاریک بت کدے کو درخشاں بنا دیا سجدہ کیا تو کفر کو ایماں بنا دیا کٹنے دیا نہ چین سے اک لمحۂ حیات دل مطمئن ہوا تو پریشاں بنا دیا غنچوں کی سادگی نے چمن میں دیا فریب پھولوں کے حسن نے مجھے حیراں بنا دیا اشکوں میں کچھ ملا کے اسیروں نے خون دل شام قفس کو صبح گلستاں بنا دیا ندرتؔ متاع ...

مزید پڑھیے

خدا سے آشنائی چاہتا ہوں

خدا سے آشنائی چاہتا ہوں مگر کچھ رہنمائی چاہتا ہوں کوئی انداز ہو لیکن اچھوتا وہ ناز دل ربائی چاہتا ہوں بہت نادم ہوں اپنی حسرتوں پر ارے توبہ خدائی چاہتا ہوں اجازت ہو تو دل کا حال کہہ لوں کہ میں بھی لب کشائی چاہتا ہوں متاع درد دل کو کم ملی ہے توجہ انتہائی چاہتا ہوں سمجھ تو لوں ...

مزید پڑھیے

اک بار پھر کہو اسی ناز و ادا کے ساتھ

اک بار پھر کہو اسی ناز و ادا کے ساتھ تو نے تمام عمر گزاری وفا کے ساتھ ساقی شراب ناب مزہ دے رہی ہے اور اس اتفاق وقت اس ابر و ہوا کے ساتھ یہ کیا بتائیں ہم کہ شریک سفر تھا کون منزل پہ آ گئے ہیں کسی رہنما کے ساتھ جور و جفا میں بخل نگاہ کرم میں عذر یہ کیا سلوک ہے دل درد آشنا کے ...

مزید پڑھیے

دروازے کے باہر

وقت ہے باہر کھڑا یہ کسے معلوم ہے دروازہ کھولیں کیا ہمارا منتظر ہو کون سا دکھ کونسی راحت نصابوں میں لکھی سچائی یا آنکھوں سے گرتا اشک تاریکی کھڑی ہو یا کسی ٹہنی کا تنہا پھول آنکھیں سرد گہری جن میں کچھ کھلتا نہ ہو کہ کیا ہے پوشیدہ نمایاں کیا ہے کس کا عکس ہے کیسی شبیہ ہے یہ سمندر ہے ...

مزید پڑھیے

کورا برتن

وہ راہ چلتے ہوئے ملی تھی وہ جس کے چشمے کے موٹے شیشوں پہ ذات کے دکھ کی گرد کی تہ جمی ہوئی تھی وہ جس کے چہرے وہ جس کے ماتھے پر اک مسلسل سفر کا نوحہ لکھا ہوا تھا وہ جس کی آنکھوں میں رتجگوں کی عذاب دیدہ زہر کی خوشبو رچی ہوئی تھی وہ جس کی باتوں میں اس کے اندر کا زرد سناٹا بولتا تھا وہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2142 سے 6203