قومی زبان

زیاں

ایک انجان درد کا لمحہ راز کرتا ہے منکشف کیسے یوں ہی پہروں گزار دیتے ہیں سوچتے ہیں کہ آج کر لیں شمار درد اپنا زیادہ ہے کہ خوشی وقت آگے ہی بڑھتا جاتا ہے اور کچھ ہاتھ بھی نہیں آتا ایسا لگتا ہے رائیگاں ہے سب فتح کی سر خوشی شکست کا غم یوں ہی ہستی کا یہ زیاں ہے سب

مزید پڑھیے

سچ

وہ کہتا ہے وہ سچ بولتا ہے ایسا سچ جو دل کو چیر دے روح میں شگاف ڈال دے وہ سچ ہی تو کہتا ہے اس کے سچ بولنے کی عادت سے کتنے دل فگار اور روحیں چھلنی ہوتی ہیں اس کے سچ کا زہر روز وہ نہیں میں ہی پیتی ہوں اس کے سچ کا نشانہ میں ہی بنتی ہوں اسے اپنی حق گوئی کا کوئی انعام سند اعزاز ملنا چاہیے سو ...

مزید پڑھیے

شب کو تھا وہ کسی کی بانہوں میں

شب کو تھا وہ کسی کی بانہوں میں آگ جلتی رہی نگاہوں میں کھل کے برسا نہیں کبھی ساون ایک بادل ہے ان نگاہوں میں تیرے کوچے میں وہ نہیں آیا برف سی جم گئی تھی راہوں میں کشتیاں جل گئی ہیں سب شاید اک دھواں ہے کسی کی آہوں میں کب تجھے بھول پائی پل بھر کو یہ بھی شامل مرے گناہوں میں

مزید پڑھیے

نوک ہر خار پر جو خوں ٹھہرا

نوک ہر خار پر جو خوں ٹھہرا مری ہستی میں تو جنوں ٹھہرا تری راہوں کو چن لیا دل نے پھر مرے خواب کا زبوں ٹھہرا جانے کس دھن میں چل رہی تھی ہوا خطۂ یاس میں سکوں ٹھہرا رنگ بدلے کئی زمانوں نے دل کی حالت کہ جوں کا توں ٹھہرا میں ہنسی بھی میں گڑگڑائی بھی وہ نہ یوں ٹھہرا اور نہ یوں ...

مزید پڑھیے

نہ رمز میں کسی معنی میں نہ سوال میں ہے

نہ رمز میں کسی معنی میں نہ سوال میں ہے یہ میرا کھویا ہوا دل ترے خیال میں ہے نہ اب سکون ملے نا اسے قرار کہیں نہ اب خموش ہے دل اور نہ عرض حال میں ہے تری جبیں پہ جو اک بار جگمگایا تھا وہ اک ستارہ میرے لمحۂ وصال میں ہے پلٹ کے تو نے جو دیکھا تو یوں لگا مجھ کو کہ مرے پیار کا حاصل ترے ...

مزید پڑھیے

مری صدا کو ہوائیں بھی قید کرتی ہیں

مری صدا کو ہوائیں بھی قید کرتی ہیں مری نگہ کو فضائیں بھی قید کرتی ہیں جبھی تو کھل کے برستی ہیں ابر کی صورت کہ میرے اشک گھٹائیں بھی قید کرتی ہیں بس ایک حد ہے کہ آگے نکل نہیں پاتے قدم قدم پہ وفائیں بھی قید کرتی ہیں یہ اک حصار بناتی ہیں چار سو میرے مجھے تو تیری دعائیں بھی قید کرتی ...

مزید پڑھیے

رستے میں شام ہو گئی گھر جاؤں کیا کروں

رستے میں شام ہو گئی گھر جاؤں کیا کروں اک قرض ہے سفر میں یہ بھر جاؤں کیا کروں کچا مرا مکان تھا بارش میں بہہ گیا سیل رواں میں خود بھی اتر جاؤں کیا کروں واپس وہیں پہ رستہ مجھے لے کے آ گیا میں آگے چل پڑوں کہ ٹھہر جاؤں کیا کروں در تو کھلے ہوئے ہیں نہ مہماں نہ میزباں گھبرا کے سوچتی ہوں ...

مزید پڑھیے

اک درد کی لذت ہی سہی خواہش غم میں

اک درد کی لذت ہی سہی خواہش غم میں آنکھیں ہی نہ بہہ جائیں کہیں بارش غم میں اس گھر کی سجاوٹ تو انوکھی ہے سدا سے دل روز اجڑتا رہا آرائش غم میں اتنا بھی سکوں پہلے تو حاصل ہی نہیں تھا جتنا ہے میسر ابھی آسائش غم میں اب دوسری دنیا ہی سنور جائے گی شاید جنت کی تمنا ہے بہت کاوش غم میں ہاں ...

مزید پڑھیے

یہ اور بات جگر لخت لخت ہو جاتا

یہ اور بات جگر لخت لخت ہو جاتا اس ایک پل کے لیے دل بھی سخت ہو جاتا حضور شہ سر تسلیم خم جو کر دیتے بنا ہے آج جو تختہ وہ تخت ہو جاتا نصیب کاتب تقدیر ہی تو لکھتا ہے ہمارا لکھا ہوا کیسے بخت ہو جاتا پھر اس کے بعد سبھی منزلیں ہماری تھیں یہ حوصلہ ہی سفر کا جو رخت ہو جاتا اسے بھی چوس گئی ...

مزید پڑھیے

لمحے شمار ذات بھی کرنے نہیں دئے

لمحے شمار ذات بھی کرنے نہیں دئے پورے یہ واجبات بھی کرنے نہیں دئے پیش نظر ہیں اپنے مقدر کی تلخیاں ان سے مطالبات بھی کرنے نہیں دئے بدلے جو حرف لفظ کے معنی بدل گئے محفوظ واقعات بھی کرنے نہیں دئے دنیا کے سانحات نے دل کو رلا دیا تحریر حادثات بھی کرنے نہیں دئے موسم نئے تھے دل کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2091 سے 6203