قومی زبان

کئی عذاب رتوں کا عتاب باقی ہے

کئی عذاب رتوں کا عتاب باقی ہے کچھ عارضوں کا بھی تو احتساب باقی ہے یہ کیا کہ شب کی اسیری میں قید ہو جائیں یقیں ہے جبکہ رخ ماہتاب باقی ہے پڑاؤ ڈال رہے ہیں سحر کے اگلے قدم مری زمیں میں ابھی اضطراب باقی ہے میں کیسے مان لوں اے جاں کہ حرف تازہ میں ترے جنوں کا وہ پہلا نصاب باقی ہے

مزید پڑھیے

آپ شاید بھول بیٹھے ہیں یہاں میں بھی تو ہوں

آپ شاید بھول بیٹھے ہیں یہاں میں بھی تو ہوں اس زمیں اور آسماں کے درمیاں میں بھی تو ہوں حیثیت کچھ بھی نہیں بس ایک تنکے کی طرح فکر و فن کے اس سمندر میں رواں میں بھی تو ہوں بے سبب بے جرم پتھر شاہزادی بن گئی بس یہی تھی اک صدائے بے زباں میں بھی تو ہوں انکساری پائیداری سب روا داری ...

مزید پڑھیے

اڑنے کی آرزو میں ہوا سے لپٹ گیا

اڑنے کی آرزو میں ہوا سے لپٹ گیا پتا وہ اپنی شاخ کے رشتوں سے کٹ گیا خود میں رہا تو ایک سمندر تھا یہ وجود خود سے الگ ہوا تو جزیروں میں بٹ گیا اندھے کنویں میں بند گھٹن چیختی رہی چھو کر منڈیر جھونکا ہوا کا پلٹ گیا

مزید پڑھیے

رت خزاں کی ہے اور ہری ہوئی ہے

رت خزاں کی ہے اور ہری ہوئی ہے شاخ گل تو تو باوری ہوئی ہے کیا اڑانوں کو حوصلہ دے گی اے ہوا تو تو خود ڈری ہوئی ہے زندگی مل کبھی تو فرصت سے بات ابھی تجھ سے سرسری ہوئی ہے کوئی منظر نہیں ہے آنکھوں میں رتجگوں کی تھکن بھری ہوئی ہے قربتیں کروٹیں بدلتی ہوئی اور انا بیچ میں دھری ہوئی ...

مزید پڑھیے

مجھ کو تو مشق سماعت ہے چلو تم بولو

مجھ کو تو مشق سماعت ہے چلو تم بولو تم کو سننا مری عادت ہے چلو تم بولو میں نے خاموشی کو آسان کیا ہے خود پر میری برسوں کی ریاضت ہے چلو تم بولو تم سے آباد ہے باتوں کی طلسمی دنیا یہ تمہاری بھی ضرورت ہے چلو تم بولو ہمہ تن گوش زمانہ ہے ابھی موقع ہے تم کو حاصل یہ سہولت ہے چلو تم ...

مزید پڑھیے

عشق میں مجنوں و فرہاد نہیں ہونے کے

عشق میں مجنوں و فرہاد نہیں ہونے کے یہ نئے لوگ ہیں برباد نہیں ہونے کے یہ جو دعوے ہیں محبت کے ابھی ہیں جاناں اور دو چار برس بعد نہیں ہونے کے کیا کہا توڑ کے لاؤ گے فلک سے تارے دیکھو ان باتوں سے ہم شاد نہیں ہونے کے نقش ہیں دل پہ مرے اب بھی تمہارے وعدے خیر چھوڑو وہ تمہیں یاد نہیں ہونے ...

مزید پڑھیے

مجھ سے انجان تو نہیں ہو تم

مجھ سے انجان تو نہیں ہو تم اتنے بے دھیان تو نہیں ہو تم یہ بظاہر جو بے نیازی ہے کچھ پریشان تو نہیں ہو تم کیسی وحشت ہے کیوں بھٹکتے ہو خانہ ویران تو نہیں ہو تم آؤ بیٹھو کرو گلے شکوے کوئی مہمان تو نہیں ہو تم عشق میں کام عقل سے لو گے ایسے نادان تو نہیں ہو تم کیا کہا تخلیہ ارے ...

مزید پڑھیے

خود کو اس طرح آج شاد کریں

خود کو اس طرح آج شاد کریں تم کو بھولیں تمہیں کو یاد کریں تم سے ملنا نہیں قیامت تک فیصلہ یہ بھی آج صاد کریں رنگ کتنے ہیں تیرے چہرے کے کس حوالے سے تجھ کو یاد کریں کر کے احسان ہم پہ ناحق ہی ہم سے وابستہ وہ مفاد کریں آگ گھر کی انہیں بھی یاد رہے شہر میں جو کبھی فساد کریں آج خود سے ...

مزید پڑھیے

انگلیوں سے مٹی میں صورتیں بناتے ہو

انگلیوں سے مٹی میں صورتیں بناتے ہو اک جہاں بناتے ہو اک جہاں مٹاتے ہو خاک سے دوبارہ کیا آسماں بنا لو گے آسماں کو تم ایسے خاک میں ملاتے ہو کیا ازل سے پہلے تھا کیا ابد سے آگے ہے دیکھتے ہیں یہ پردہ کب کہاں گراتے ہو کارگاہ ہستی میں جب فنا مقدر ہے پھر فنا کے عالم کو کیسے بھول جاتے ...

مزید پڑھیے

لفظ چنتے ہوئے ترتیب نئی لگتی ہے

لفظ چنتے ہوئے ترتیب نئی لگتی ہے دل دکھانے کی یہ ترکیب نئی لگتی ہے میری تحسیں سے کیا آپ نے دانستہ گریز کیوں قصیدے میں یہ تشبیب نئی لگتی ہے اب حقیقت کی طرح اس کو بھی تسلیم کریں زندگی کی کوئی تادیب نئی لگتی ہے کچھ نئے خواب نئی خواہشیں دامن میں لیے ہر نئے سال کی ترغیب نئی لگتی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2090 سے 6203