قومی زبان

دل کو پھر بنانے میں وقت چاہیے کچھ تو

دل کو پھر بنانے میں وقت چاہیے کچھ تو کرچیاں اٹھانے میں وقت چاہیے کچھ تو ساتھ وہ نہیں پل کا عمر بھر کا لگتا تھا اس کو اب بھلانے میں وقت چاہیے کچھ تو اس قدر نہیں آساں جتنا ہم نے سمجھا تھا حال دل سنانے میں وقت چاہیے کچھ تو تنکا تنکا چن چن کر ہم نے جو بنایا تھا آشیاں جلانے میں وقت ...

مزید پڑھیے

محبت میں کمی سی رہ گئی ہے

محبت میں کمی سی رہ گئی ہے کہ بس اک بے بسی سی رہ گئی ہے نہ جانے کیوں ہمارے درمیاں اب فقط اک برہمی سی رہ گئی ہے عجب یہ سانحہ گزرا ہے ہم پر ترے غم کی خوشی سی رہ گئی ہے سمندر کتنے آنکھوں میں اتارے تو پھر کیوں تشنگی سی رہ گئی ہے نہیں چڑھتا ہے اب یادوں کا دریا مگر اک بیکلی سی رہ گئی ...

مزید پڑھیے

کیا دیکھیں ہم سورج چاند ستاروں میں

کیا دیکھیں ہم سورج چاند ستاروں میں ان کا چہرہ روشن ہے اندھیاروں میں روز تمہاری خبریں پڑھتے رہتے ہیں تم تو بس اب ملتے ہو اخباروں میں دروازے پر نام تمہارا لکھا ہے نقش تمہارے ثبت ہوئے دیواروں میں بچے خوف سے گھر سے باہر نہ نکلیں دھول اڑتی ہے گلیوں میں چوباروں میں اپنے جیسی فانی ...

مزید پڑھیے

میلوں میں گھومتے رہے تنہائی بیچ دی

میلوں میں گھومتے رہے تنہائی بیچ دی پھر یوں ہوا کہ چشم تماشائی بیچ دی سودا کبھی خسارے کا اس نے کیا نہیں شہرت خرید لی کبھی رسوائی بیچ دی بے نام سے تعلق خاطر کے واسطے اک اجنبی کے ہاتھ شناسائی بیچ دی اچھا کیا کہ گرمئ بازار دیکھ کر اونچے لگے جو دام تو گویائی بیچ دی اب بندش نگاہ کی ...

مزید پڑھیے

موج دریا کے لبوں پر تشنگی ہے کربلا

موج دریا کے لبوں پر تشنگی ہے کربلا ریگ ساحل پر تڑپتی زندگی ہے کربلا صبر کی اور ضبط کی یہ منزلیں ہیں آخری عزم اہل بیت کا کیا دیکھتی ہے کربلا حق کبھی جھکتا نہیں ہے سر بھی کٹ جائے اگر ذہن و دل کے واسطے اک آگہی ہے کربلا کیوں سکینہ اور زینب اس قدر خاموش ہیں دور تک صحرا میں دیکھو ...

مزید پڑھیے

رویے مار دیتے ہیں یہ لہجے مار دیتے ہیں

رویے مار دیتے ہیں یہ لہجے مار دیتے ہیں وہی جو جان سے پیارے ہیں رشتے مار دیتے ہیں کبھی برسوں گزرنے پر کہیں کچھ بھی نہیں ہوتا کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ لمحے مار دیتے ہیں کہانی ختم ہوتی ہے کبھی انجام سے پہلے ادھورے نا مکمل سے یہ قصے مار دیتے ہیں کبھی منزل پہ جانے کے نشاں تک بھی ...

مزید پڑھیے

شہر سب حادثوں کی زد میں تھا

شہر سب حادثوں کی زد میں تھا رات دن سانحوں کی زد میں تھا عکس در عکس بٹ گیا تھا وجود اس قدر آئنوں کی زد میں تھا منزلوں کا سراغ کیا پاتے کہ سفر راستوں کی زد میں تھا روح کے زخم ہی نہ تھے ناسور جسم بھی کرچیوں کی زد میں تھا گو تھا مختار کل مگر انساں کتنی مجبوریوں کی زد میں تھا ایک ...

مزید پڑھیے

ہماری سادہ دلی تھی تمہاری بات نہیں

ہماری سادہ دلی تھی تمہاری بات نہیں ہمیں میں کوئی کمی تھی تمہاری بات نہیں ہمارے اپنے ہی دکھ تھے ہمیں کو رونا تھا تمہاری اپنی خوشی تھی تھی تمہاری بات نہیں عذاب سارے جنون و خرد کے میرے تھے تمہیں تو بے خبری تھی تمہاری بات نہیں تمہاری بات ہی مانیں گے اور نبھائیں گے یہ بات تم نے کہی ...

مزید پڑھیے

دکھ سے خوشیاں کشید کرنا ہے

دکھ سے خوشیاں کشید کرنا ہے اس طرح ہم کو عید کرنا ہے اپنے ہاتھوں سے دیں گے خود ہی کفن خود ہی دل کو شہید کرنا ہے تجھ سے ملنا ہے اب خیالوں میں تیری خوابوں میں دید کرنا ہے اس کا کہنا ہے مدتوں کے بعد نئے وعدے وعید کرنا ہے اتنی جلدی نہ کر مروت میں ظلم مجھ پہ مزید کرنا ہے

مزید پڑھیے

یاد رکھنے کا بھی وعدہ ہو ضروری تو نہیں

یاد رکھنے کا بھی وعدہ ہو ضروری تو نہیں بھول جانے کا ارادہ ہو ضروری تو نہیں نام اچھا سا کوئی ہم نے رکھا ہے لکھ کر دل کا کاغذ ابھی سادہ ہو ضروری تو نہیں اس تبسم کو مرے دکھ کی علامت نہ سمجھ یہ کسی غم کا لبادہ ہو ضروری تو نہیں یوں ہی اک بار کبھی ایک نظر ڈالی تھی اس کو احساس زیادہ ہو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2092 سے 6203