قومی زبان

صحرا صحرا بھٹک رہی ہوں میں

صحرا صحرا بھٹک رہی ہوں میں اب نظر آ کہ تھک رہی ہوں میں بچھ رہے ہیں سراب راہوں میں ہر قدم پر اٹک رہی ہوں میں کیوں نظر خود کو میں نہیں آتی کب سے آئینہ تک رہی ہوں میں ہائے کیا وقت ہے کہ اب اس کی بے دلی میں جھلک رہی ہوں میں وقت سے ٹوٹتا ہوا لمحہ اور اس میں دھڑک رہی ہوں میں جس نے رسوا ...

مزید پڑھیے

یہاں ہوا کے سوا رات بھر نہ تھا کوئی

یہاں ہوا کے سوا رات بھر نہ تھا کوئی مجھے لگا تھا کوئی ہے مگر نہ تھا کوئی تھی ایک بھیڑ مگر ہم سفر نہ تھا کوئی سفر کے وقت جدائی کا ڈر نہ تھا کوئی وہ روشنی کی کرن آئی اور چلی بھی گئی کھلا ہوا مری بستی کا در نہ تھا کوئی بس ایک بار وہ بھولا تھا گھر کا دروازہ پھر اس کے جیسا یہاں در بدر ...

مزید پڑھیے

غلط بیانی پہ اس کی یقیں دکھاتی رہی

غلط بیانی پہ اس کی یقیں دکھاتی رہی میں سب سمجھتی رہی اور مسکراتی رہی یہ سوچ کر کہ تغافل تو اس کی فطرت ہے میں اپنے دل کو بڑی دیر تک مناتی رہی اسے تو لوٹ کے آنا ہی تھا وہ لوٹ آیا مگر وہ آیا تو ہاتھوں سے عمر جاتی رہی عجب روایتی عورت ہے زندگی میری ہمیشہ حسب ضرورت ہی چاہی جاتی ...

مزید پڑھیے

آپ تو عشق میں دانائی لیے بیٹھے ہیں

آپ تو عشق میں دانائی لیے بیٹھے ہیں اور دوانے ہیں کہ رسوائی لیے بیٹھے ہیں ہم خانۂ ہجر میں یادیں تری رقصاں ہوں گی ہم اسی شوق میں تنہائی لیے بیٹھے ہیں تجربہ ہم پہ تغافل کا نہ کیجے ورنہ کچھ ہنر ہم بھی کرشمائی لیے بیٹھے ہیں ایک مدت سے وہ وحشت ہے کہ بس کیا کہیے گھر میں ہم اک دل ...

مزید پڑھیے

جو مشکل راستے ہیں ان کو یوں ہموار کرنا ہے

جو مشکل راستے ہیں ان کو یوں ہموار کرنا ہے ہمیں جذبوں کی کشتی سے سمندر پار کرنا ہے ہمارے حوصلے مجروح کرنا چاہتے ہیں وہ ہمیں سورج کے رخ پر سایۂ دیوار کرنا ہے جو تھک کر سو گئے ہیں وہ تو خود ہی جاگ جائیں گے ابھی جاگے ہوئے لوگوں کو بس بیدار کرنا ہے اٹھا لو ہاتھ میں پرچم محبت کے ...

مزید پڑھیے

کترا کے زندگی سے گزر جاؤں کیا کروں

کترا کے زندگی سے گزر جاؤں کیا کروں رسوائیوں کے خوف سے مر جاؤں کیا کروں میں کیا کروں کہ تیری انا کو سکوں ملے گر جاؤں ٹوٹ جاؤں بکھر جاؤں کیا کروں پھر آ کے لگ رہے ہیں پروں پر ہوا کے تیر پرواز اپنی روک لوں ڈر جاؤں کیا کروں جنگل میں بے امان سی بیٹھی ہوئی ہوں میں آواز کس کو دوں میں ...

مزید پڑھیے

عمل کا رد عمل وقت کا جواب ہوں میں

عمل کا رد عمل وقت کا جواب ہوں میں قبول کیجئے قدرت کا انتخاب ہوں میں اذیتوں کا سفر صبر اور خاموشی ابھی تو سارے محاذوں پہ کامیاب ہوں میں تمہارے شوق میں شامل نہیں جنون ابھی تمہاری تشنہ لبی کے لیے سراب ہوں میں انا پہ آئی تو ٹکرا گئی ہوں دریا سے بساط ویسے مری کچھ نہیں حباب ہوں میں

مزید پڑھیے

درد سلگایا گیا آنچ بڑھا لی گئی ہے

درد سلگایا گیا آنچ بڑھا لی گئی ہے جان ٹھٹھرے ہوئے رشتوں کی بچا لی گئی ہے گھر کی دہلیز پہ لوٹا ہے پشیماں کوئی دشت سب چھان لیے خاک اڑا لی گئی ہے عین ممکن تھا چھلک جاتے ہمارے آنسو ساعت غم بڑی ترکیب سے ٹالی گئی ہے راستہ کر دیا ہموار کسی کا ہم نے ایک دیوار انا تھی جو گرا لی گئی ...

مزید پڑھیے

کیسے طوفان اس سفر میں ہیں

کیسے طوفان اس سفر میں ہیں جیسے کچھ حادثے نظر میں ہیں میرے بھی دل میں راکھ اڑتی ہے تیرے بھی خواب اس اثر میں ہیں وہ گھنا پیڑ ہو کہ سایہ طلب آخرش سب ہی چشم تر میں ہیں پیاس سے دم مرا بھی گھٹتا ہے شب کے سناٹے بھی خبر میں ہیں خواہش بے نوا ہے جب سے سوا تیرے افسانے ہر نگر میں ہیں

مزید پڑھیے

اک عجب سر خوشی نگاہ میں ہے

اک عجب سر خوشی نگاہ میں ہے جیسے تو پھر سے میری چاہ میں ہے تو بھی رہ رہ کے مجھ کو یاد کرے میرا بھی دل تری پناہ میں ہے تیز بارش ہے اور چراغ مرا کیسا گھمسان اس سپاہ میں ہے دھوپ سر پر برہنہ پا بے گھر خود فراموشی تو گناہ میں ہے چادر شب ہے اور صف ماتم مضمحل کوئی رنج شاہ میں ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 2089 سے 6203