قومی زبان

صبح دم کا مزا نہیں لیتے

صبح دم کا مزا نہیں لیتے لوگ تازہ ہوا نہیں لیتے جھوٹ کا آسرا نہیں لیتے درد والے دوا نہیں لیتے برسر اقتدار ہوں کب سے لوگ کیوں فائدہ نہیں لیتے کون جانے وہ دل سے دیتا ہو ہم کسی کی دعا نہیں لیتے بے جھجھک اب ملا کرو ہم سے آج کل ہم دوا نہیں لیتے جن کے روشن ضمیر ہوتے ہیں دور سے ذائقہ ...

مزید پڑھیے

ہم ہیں طوفان حوادث سے گزرنے والے

ہم ہیں طوفان حوادث سے گزرنے والے ہم نہیں موج بلا خیز سے ڈرنے والے آپ جی بھر کے دل زار پہ بیداد کریں ہم کسی طور شکایت نہیں کرنے والے کاش تو درد محبت سے شناسا ہوتا عہد و پیمان محبت سے مکرنے والے پھول ہی پھول نہیں اس میں کئی خار بھی ہیں دیکھ کر راہ محبت سے گزرنے والے تیری اس خاص ...

مزید پڑھیے

مری دنیائے دل زیر و زبر ہے

مری دنیائے دل زیر و زبر ہے محبت کی نظر بھی کیا نظر ہے ہمارا بخت بھی کیا اوج پر ہے مزاج دشمنی زیر و زبر ہے سحر تک خاک بھی باقی نہ ہوگی یہ بزم ماہ و انجم رات بھر ہے مری مانے تو مانے کیا مرا دل یہ کافر آپ کے زیر اثر ہے امیر شہر کو اس سے غرض کیا فقیر شہر کب سے در بدر ہے ہمارا دل جسے ...

مزید پڑھیے

سر پہ آئی جو آفت وہ ٹل ہی گئی

سر پہ آئی جو آفت وہ ٹل ہی گئی زندگی رنج و غم سے نکل ہی گئی لاکھ محتاط تھے دیدہ و دل سے ہم پھر بھی ان کی نظر چال چل ہی گئی عمر بھر ہم رہے غم سے دامن کشاں زندگی آپ کے غم میں ڈھل ہی گئی راز رکھا محبت کے ہر راز کو پھر بھی یہ بات منہ سے نکل ہی گئی چارہ سازوں کے الطاف کا شکریہ زندگی غم کے ...

مزید پڑھیے

اٹھایا ہی نہیں جاتا جو بار زندگی ہم سے

اٹھایا ہی نہیں جاتا جو بار زندگی ہم سے کنارہ کر چکی شاید کسی کی یاد بھی ہم سے کبھی مانوس تھی کتنی بہار زندگی ہم سے مگر دامن کشاں ہے آج کل ہر اک خوشی ہم سے شب غم اس طرح بھی کٹ گئی ہے بارہا اپنی کسی کی یاد پہروں گفتگو کرتی رہی ہم سے کسی کے واسطے ترک تعلق مشغلہ ٹھہرا ہمارے دل پہ جو ...

مزید پڑھیے

دل لگا بیٹھا ہوں اس عیار سے

دل لگا بیٹھا ہوں اس عیار سے جس کو نفرت ہے وفا سے پیار سے دیکھیے ہم کس قدر ہیں بے نیاز کچھ نہ مانگا حسن کی سرکار سے اے نگاہ ناز تیرا شکریہ مطمئن ہے دل تری گفتار سے کس لئے ہوں زندگی سے بد گماں کاش وہ پوچھے کسی دن پیار سے زندگی بھی ہم سے ہے بیزار سی زندگی سے ہم بھی ہیں بیزار سے ہر ...

مزید پڑھیے

ہم پر نگاہ لطف کبھی ہے کبھی نہیں

ہم پر نگاہ لطف کبھی ہے کبھی نہیں تم ہی کہو یہ کیا ہے اگر دل لگی نہیں گو جی رہا ہے آج بھی کوئی ترے بغیر لیکن یہ زندگی تو کوئی زندگی نہیں اس کی بلا سے کوئی جئے یا کوئی مرے جس کو کسی کے درد کا احساس ہی نہیں دل میں نہ آرزو ہے کوئی اب نہ ولولہ اک شمع جل رہی ہے مگر روشنی نہیں آخر ہم ان ...

مزید پڑھیے

اس طرح کے لطف سے کوئی کہاں تک شاد ہو

اس طرح کے لطف سے کوئی کہاں تک شاد ہو لطف کے پردے میں جب بیداد ہی بیداد ہو ایسے جینے سے کوئی کیا مطمئن کیا شاد ہو ہر نفس جب آہ و زاری ہر نفس فریاد ہو میری بربادی کا قصہ میرے غم کی داستاں اے وفا نا آشنا شاید تجھے کچھ یاد ہو بن ترے محسوس یوں کرتا ہوں جیسے زندگی سربسر مجھ پر کوئی ...

مزید پڑھیے

تلخیٔ ایام رہن جام کی

تلخیٔ ایام رہن جام کی بادہ خانے میں بسر ہر شام کی بزم میں ساقی کی چشم مست نے شرم رکھ لی ایک تشنہ کام کی کاش سن لیتے وہ میری داستاں بات رہ جاتی دل ناکام کی مٹ نہ پائی زندگی کی تلخیاں بادہ نوشی ہم نے گو ہر شام کی ہم کہاں تھے اس قدر بے رنگ و نام دوستو گردش ہے صبح و شام کی بادہ ...

مزید پڑھیے

ذرا سا آدمی ہوں

ذرا سا آدمی ہوں بلا کا آدمی ہوں کہا نہ آدمی ہوں سنا کیا آدمی ہوں کہاں کا آدمی ہوں میں دکھتا آدمی ہوں ترے ہی فضل سے میں خدایا آدمی ہوں نہ زندہ ہوں نہ مردہ ڈرا سا آدمی ہوں خدا والے تو تم ہو میں سیدھا آدمی ہوں نہایت کم ہوں انساں زیادہ آدمی ہوں زباں کردار کچھ ہے میں کیسا آدمی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2026 سے 6203