قومی زبان

ہم پر نگاہ لطف کبھی ہے کبھی نہیں

ہم پر نگاہ لطف کبھی ہے کبھی نہیں تم ہی کہو یہ کیا ہے مگر دل لگی نہیں گو جی رہا ہے آج بھی کوئی ترے بغیر لیکن یہ زندگی تو کوئی زندگی نہیں اس کی بلا سے کوئی جئے یا کوئی مرے جس کو کسی کے درد کا احساس ہی نہیں دل میں نہ آرزو ہے کوئی اب نہ ولولہ اک شام جل رہی ہے مگر روشنی نہیں آخر ہم ان ...

مزید پڑھیے

آپ ناحق ملال کرتے ہیں

آپ ناحق ملال کرتے ہیں مفت جی کو نڈھال کرتے ہیں جنس اخلاص اس زمانے میں آپ بھی کیا کمال کرتے ہیں مائل لطف تھے جو کل ہم پر آج جینا محال کرتے ہیں آپ ملتے ہیں جب کبھی ہم سے لوگ لاکھوں سوال کرتے ہیں بے پیے مے حرام ہوتی ہے رند پی کر حلال کرتے ہیں آپ زندہ ہو کس طرح عاصیؔ دوست اکثر سوال ...

مزید پڑھیے

درد والے ہو تو پھر ایسا کرو

درد والے ہو تو پھر ایسا کرو ساتھ کچھ ہمدرد بھی رکھا کرو اپنا بیگانہ نہ تم دیکھا کرو ہر کسی سے مصلحت برتا کرو دوسروں کے درد کی چھوڑو میاں پہلے اپنے درد کا چارہ کرو گو بلندی ہو کہ پستی ہر جگہ ذہن و دل دونوں کھلے رکھا کرو اس قدر خاموشیاں اچھی نہیں لوگ کیا سوچیں گے کچھ سوچا ...

مزید پڑھیے

ناسازیٔ حالات نے دل توڑ دیا ہے

ناسازیٔ حالات نے دل توڑ دیا ہے دنیا کی ہر اک بات نے دل توڑ دیا ہے کچھ ساقئ محفل بھی رہا رندوں سے برہم کچھ شدت آفات نے دل توڑ دیا ہے آغاز ملاقات میں کیا جوش تھا دل میں انجام ملاقات نے دل توڑ دیا ہے بے حال و پریشاں ہے بشر روز ازل سے فرسودہ روایات نے دل توڑ دیا ہے اپنوں کی عنایات ...

مزید پڑھیے

اور مشکل یہ آ پڑی ہم پر

اور مشکل یہ آ پڑی ہم پر طنز کرتے ہیں آپ بھی ہم پر پھر بھی زندہ ہیں ہم زمانے میں ہر جفا اس نے توڑ لی ہم پر مٹ رہے ہیں خلوص کے بندے ختم ہے دور عاشقی ہم پر سادہ لوہی کا یہ صلہ پایا اب بگڑتا ہے ہر کوئی ہم پر بن ترے گھومتے ہیں جب تنہا مسکراتی ہے چاندنی ہم پر ایک تہمت ہیں زندگی پر ...

مزید پڑھیے

اس طرح دل کو بے آسرا چھوڑ کر

اس طرح دل کو بے آسرا چھوڑ کر ہم کہاں جائیں در آپ کا چھوڑ کر کیا بھروسہ مریض غم عشق کا کچھ دعا کیجئے اب دوا چھوڑ کر یوں بھی ہوتا ہے اپنوں سے بد ظن کوئی یوں بھی جاتا ہے کوئی بھلا چھوڑ کر موج طوفاں نے بڑھ کر سہارا دیا چل دیا جب مجھے ناخدا چھوڑ کر بادہ خانے میں رسوائیاں ہی سہی کون ...

مزید پڑھیے

خواب جنت کے ہیں بے محل دوستو

خواب جنت کے ہیں بے محل دوستو کچھ بھی ہوتا نہیں بے عمل دوستو میرا دعویٰ نہیں بے عمل دوستو دیکھنا یاد آؤں گا کل دوستو ہم مزاج غزل سے ہیں خوب آشنا ہم سے قائم ہے حسن غزل دوستو رنج کے بعد راحت بھی ہے لازمی آج گزرا تو آئے گی کل دوستو لاکھ چاہو مگر مسئلہ زیست کا بے عمل ہو سکے گا نہ حل ...

مزید پڑھیے

نا آشنائے درد دل بیقرار لوگ

نا آشنائے درد دل بیقرار لوگ کیا جانیں آبروئے غم انتظار لوگ تسکین دل کے واسطے ہوتے نہ خار لوگ اے کاش جانتے ترے غم کا وقار لوگ نظریں بچا کے چلتے ہیں بیگانہ وار لوگ اک پل میں بھول جاتے ہیں برسوں کا پیار لوگ ان کے دلوں میں اب وہ محبت نہیں رہی کتنا بدل گئے ہیں الٰہی یہ یار ...

مزید پڑھیے

موجوں سے ٹکرائے ہیں ہم طوفانوں سے کھیلے ہیں

موجوں سے ٹکرائے ہیں ہم طوفانوں سے کھیلے ہیں اک جینے کی خاطر ہم نے کیا کیا صدمے جھیلے ہیں قلب و نظر کے افسانے یہ رونق بزم عیش و طرب جیتے جی کی باتیں ہیں سب جیتے جی کے میلے ہیں ان کے دم سے رونق ہستی ان کے دم سے یہ دنیا خاک بسر ہیں ظاہر میں جو لوگ بڑے البیلے ہیں یہ اپنی ہمت تھی ہم ہر ...

مزید پڑھیے

زندگانی جب ہمیں راس آئے گی

زندگانی جب ہمیں راس آئے گی دیکھ لینا موت بھی آ جائے گی وہ نظر جب بھی کرم فرمائے گی لازماً دنیا ہمیں اپنائے گی میرے گھر سے شام غم کب جائے گی آج جائے گی تو کل پھر آئے گی کون زندہ رہ سکے گا بن ترے کس سے یہ تہمت اٹھائی جائے گی کون جانے کیا ہو پھر توبہ کا حشر میکدے پر جب گھٹا گھر آئے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2027 سے 6203