قومی زبان

کسی کے رنج و غم میں جو بشر شامل نہیں ہوتا

کسی کے رنج و غم میں جو بشر شامل نہیں ہوتا وہ دنیا میں کبھی تعظیم کے قابل نہیں ہوتا مریض عشق سے اے چارہ گر یہ بے رخی کیسی کسی بے بس کا دل رکھنا کوئی مشکل نہیں ہوتا نہایت بے مزہ ہوتی ہے وہ روداد الفت کی تمہارا ذکر جس روداد میں شامل نہیں ہوتا کوئی پوچھے مرے دل سے ذرا محفل کی ...

مزید پڑھیے

نہ رسوا اس طرح کرتے بلا کر مجھ کو محفل میں

نہ رسوا اس طرح کرتے بلا کر مجھ کو محفل میں اگر پاس وفا ہوتا ذرا بھی آپ کے دل میں نہ اب وہ ولولے باقی نہ اب وہ حوصلے دل میں مرا ہونا نہ ہونا ایک ہے دنیا کی محفل میں حوادث سے ہے نسبت خاص ایسے زندگانی کو ہے قائم ربط باہم جس طرح دریا و ساحل میں بڑی مدت سے یہ عالم نہ جیتا ہوں نہ مرتا ...

مزید پڑھیے

ناخدا کی مشکلیں آسان کر جاتا ہوں میں

ناخدا کی مشکلیں آسان کر جاتا ہوں میں اپنی کشتی آپ جب طوفاں سے ٹکراتا ہوں میں ان کا ہر اک قول اکثر بے عمل پاتا ہوں میں ناصحوں کی بات کو خاطر میں کب لاتا ہوں میں کس قدر ہے نارسا میرا مقدر دیکھیے عین منزل کے قریب آ کر بھٹک جاتا ہوں میں ہر بلا ناگہاں میرا مقدر بن گئی ہر بلا سے خود کو ...

مزید پڑھیے

یہ بہاریں یہ چمن یہ آشیاں میرے لئے

یہ بہاریں یہ چمن یہ آشیاں میرے لئے سر بہ سر ثابت ہوئے آزار جاں میرے لئے پوچھتے کیا ہو دل بے خانماں کی دوستو اک مصیبت ہے دل بے خانماں میرے لئے اب طبیعت مشکلوں سے اس قدر مانوس ہے فصل گل سے کم نہیں دور خزاں میرے لئے چل دیا جب ناخدا طوفاں میں مجھ کو چھوڑ کر بن گئی ساحل ہر اک موج رواں ...

مزید پڑھیے

غافل ہوں تری یاد سے ایسا تو نہیں ہے

غافل ہوں تری یاد سے ایسا تو نہیں ہے ہر وقت مرے دل میں تری یاد مکیں ہے دنیائے محبت بڑی دل کش ہے حسیں ہے ہر ایک کو راس آئے ضروری تو نہیں ہے مانا کہ زمانے کا ہر اک نقش حسیں ہے اس پر بھی زمانے میں کوئی تجھ سا نہیں ہے اک عرض تمنا کے سوا ہم نے کیا کیا کس بات پہ وہ شعلہ بدن چیں بہ جبیں ...

مزید پڑھیے

مسرت چیز کیا ہے رنج کیا ہے

مسرت چیز کیا ہے رنج کیا ہے یہ سارا کھیل اک احساس کا ہے بہار زندگی کہتے ہیں جس کو کسی کے اک تبسم کی ضیا ہے خطائے بے وفائی اور ہم سے یقیناً آپ کو دھوکا ہوا ہے ابھی بدلی نہیں انساں کی فطرت یہ اب بھی دشمن مہر و وفا ہے کسی کے جور کا حد سے گزرنا ہماری خامشی کی انتہا ہے کسی کی بزم تک ...

مزید پڑھیے

غم میں اک لطف شادمانی ہے

غم میں اک لطف شادمانی ہے ٹھوکروں میں بھی کامرانی ہے صرف اک عشق غیر فانی ہے ورنہ ہر چیز آنی جانی ہے جو نہیں آشنا محبت سے دل پہ اس بت کی حکمرانی ہے موت اور زندگی میں ہے یہ فرق اک حقیقت ہے اک کہانی ہے یاد تیری ہے زیست کا حاصل غم ترا وجہ شادمانی ہے چشم پر نم یہ میری خاموشی دل کے ...

مزید پڑھیے

بے حال سے ہم کیوں رہتے ہیں کیوں چاک ہے دامن کیا کہیے

بے حال سے ہم کیوں رہتے ہیں کیوں چاک ہے دامن کیا کہیے یہ جوگ لیا ہے برسوں سے ہم نے کس کارن کیا کہیے یہ منزل حق کے دیوانو کچھ سوچ کرو کچھ کر گزرو کیا جانے کب کیا کر گزرے یہ وقت کا راون کیا کہیے اک وہ بھی عالم تھا کہ تری پل بھر کی جدائی ڈستی تھی اب سوچ ہے کیوں کر کاٹیں گے پربت یہ جیون ...

مزید پڑھیے

یہ ہاہا کار کچھ ہے

یہ ہاہا کار کچھ ہے غلط سرکار کچھ ہے سیاست یار کچھ ہے وطن سے پیار کچھ ہے محبت پیار کچھ ہے ہمیں درکار کچھ ہے یہ اس کے پار کچھ ہے مزہ منجھدار کچھ ہے کہیں اصرار کچھ ہے افق کے پار کچھ ہے دوا تیمار کچھ ہے مجھے آزار کچھ ہے نہ تم وہ ہو نہ میں ہوں سمے کی مار کچھ ہے کسے تیری خبر ...

مزید پڑھیے

بھلا چاہے گا کوئی کیا کسی کا

بھلا چاہے گا کوئی کیا کسی کا ہو دشمن آدمی جب آدمی کا جفا کاری ہے زندہ آپ ہی سے جفا کاری ہے شیوہ اپ ہی کا مرا شیوہ ہے اخلاص و محبت برا چاہوں گا میں کیوں کر کسی کا خدا کا شکر ہے اس بے وفا نے سبب پوچھا ہے میری خامشی کا ترے دل میں بھی ہو درد محبت ترا دل کاش ہو جائے کسی کا دلوں میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2025 سے 6203