قومی زبان

ڈرتے تھے اسی سبزہ آبائی سے پہلے

ڈرتے تھے اسی سبزہ آبائی سے پہلے چہرے پہ مسیں پھوٹ پڑیں کائی سے پہلے پھر آنکھوں نے تخلیق کے سامان جٹائے ہم تجھ سے ملے تھے تری رعنائی سے پہلے سنتے ہیں شعاعیں ہیں صداؤں سے سبک گام بینائی چلی جاتی ہے گویائی سے پہلے اور اب تری پرچھائیں کے چرچے ہیں سبھی اور کیا دھوپ کھلی تھی تری ...

مزید پڑھیے

موجوں سے ٹکرائے ہیں ہم طوفانوں سے کھیلے ہیں

موجوں سے ٹکرائے ہیں ہم طوفانوں سے کھیلے ہیں اک جینے کی خاطر ہم نے کیا کیا صدمے جھیلے ہیں قلب و نظر کے افسانے یہ رونق بزم عیش طرب جیتے جی کی باتیں ہیں سب جیتے جی کے میلے ہیں ان کے دم سے رونق ہستی ان کے دم سے یہ دنیا خاک بسر ہیں ظاہر میں جو لوگ بڑے البیلے ہیں یہ اپنی ہمت تھی ہم ہر ...

مزید پڑھیے

زمانے بھر میں بہت معتبر اجالا ہے

زمانے بھر میں بہت معتبر اجالا ہے یہ دیکھنا ہے مگر کس کے گھر اجالا ہے ہوا نہ سامنا دونوں کا اتفاقاً بھی اندھیرا ہے بھی کہیں بے خبر اجالا ہے مری اس ادنیٰ سی جرأت کی کوئی داد تو دے گو پھونک کر ہی سہی گھر مگر اجالا ہے سراغ منزل ہستی ملے ملے نہ ملے یہی بہت ہے مرا راہبر اجالا ہے یہ ...

مزید پڑھیے

بھلا چاہے گا کوئی کیا کسی کا

بھلا چاہے گا کوئی کیا کسی کا ہو دشمن آدمی جب آدمی کا جفا کاری ہے زندہ آپ ہی سے جفا کاری ہے شیوہ آپ ہی کا مرا شیوہ ہے اخلاص و محبت برا چاہوں گا میں کیوں کر کسی کا خدا کا شکر ہے اس بے وفا نے سبب پوچھا ہے میری خامشی کا ترے دل میں بھی ہو درد محبت ترا دل کاش ہو جائے کسی کا دلوں میں ...

مزید پڑھیے

پئے جاتا ہوں ساقی کی نظر سے

پئے جاتا ہوں ساقی کی نظر سے مجھے کیا گردش شام و سحر سے مناسب ہے غرور حسن لیکن اتر جائے گا سودا بھی یہ سر سے یہ کن بیتے دنوں کی یاد آئی یہ کیسے اشک ٹپکے چشم تر سے بہت مشاق ہوگا رہزنی میں کسے تھی یہ توقع راہبر سے ستم ڈھا کر ہمارے دل پہ اکثر زمانہ خود گرا اپنی نظر سے ترے جلوؤں کی ...

مزید پڑھیے

رات اچھا لگا

رات اچھا لگا چاند تم سا لگا آ گیا جس پہ دل کون کیسا لگا ہیر رانجھا لگی ہیر رانجھا لگا جس کسی سے ملے کم زیادہ لگا خود کو پہچانتے اک زمانہ لگا اپنی اپنی نظر کون کیسا لگا کچھ پکڑ میں نہیں سب ہوا سا لگا کھیل کھیلا کوئی گھر کسی کا لگا بسکہ رستا رہے زخم ایسا لگا کل کی چھوڑو ...

مزید پڑھیے

لہو میں گھل گھل کے بہہ رہے تھے رگوں کے اندر (ردیف .. ے)

لہو میں گھل گھل کے بہہ رہے تھے رگوں کے اندر ہم اپنی مٹی میں کچھ روانی بچا رہے تھے اسے خبر بھی نہیں ہم اس شب خاموش رہ کر بچی ہوئی ہے جو اک کہانی بچا رہے تھے یہ سوچ کس درجہ تشنگی سے مرے تھے ہم لوگ کہ پانی پی نہیں رہے تھے پانی بچا رہے تھے

مزید پڑھیے

کچھ ایسے دو جہاں سے رابطہ رکھا گیا ہے

کچھ ایسے دو جہاں سے رابطہ رکھا گیا ہے کہ ان خوابیدہ آنکھوں کو کھلا رکھا گیا ہے مری آنکھوں میں اب تو ریت پائے گا نہ پانی یہاں دریا نہ صحرا بس خلا رکھا گیا ہے پس پردہ گلے مل کر وہ شاید رو پڑیں گے جنہیں پوری کہانی میں جدا رکھا گیا ہے

مزید پڑھیے

تمہاری دنیا کے باہر اندر بھٹک رہا ہوں

تمہاری دنیا کے باہر اندر بھٹک رہا ہوں میں بعد ترک جہاں یہی پر بھٹک رہا ہوں میں تجھ سے ملنے سمے سے پہلے پہنچ گیا تھا سو تیرے گھر کے قریب آ کے بھٹک رہا ہوں میں ایک خانہ بدوش ہوں جس کا گھر ہے دنیا سو اپنے کاندھوں پہ لے کے یہ گھر بھٹک رہا ہوں میں ہر قدم پر سنبھل سنبھل کر بھٹکنے ...

مزید پڑھیے

کبھی رنج و غم تو کبھی بے کسی ہے

کبھی رنج و غم تو کبھی بے کسی ہے مری زندگی بھی عجب زندگی ہے گلہ کیا کروں ان کے زور و ستم کا ہمیشہ سے ان کی یہ عادت رہی ہے محبت میں جینا محبت میں مرنا مری زندگی کا عقیدہ یہی ہے ہوا کیا ہے آخر ہمیں بھی پتا ہو بھلا ہم سے کیوں آج یہ بے رخی ہو اگرچہ غم دہر کا سامنا ہے مگر میرے ہونٹوں پہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2024 سے 6203