قومی زبان

چوٹ نئی ہے لیکن زخم پرانا ہے

چوٹ نئی ہے لیکن زخم پرانا ہے یہ چہرہ کتنا جانا پہچانا ہے ساری بستی چپ کی دھند میں ڈوبی ہے جس نے لب کھولے ہیں وہ دیوانا ہے آؤ اس سقراط کا استقبال کریں جس نے زہر کے گھونٹ کو امرت جانا ہے اک اک کر کے سب پنچھی دم توڑ گئے بھری بہار میں بھی گلشن ویرانہ ہے اپنا پڑاؤ دشت وفا بے آب و ...

مزید پڑھیے

جب بانٹنا ہی عذاب ٹھہرا (ردیف .. و)

جب بانٹنا ہی عذاب ٹھہرا پھر کیسا حساب مانگتے ہو سب ہونٹوں پہ مہر لگ چکی ہے اب کس سے جواب مانگتے ہو کلیوں کو مسل کے اپنے ہاتھوں پھولوں سے شباب مانگتے ہو ہر لفظ صلیب پر چڑھا کر تم کیسی کتاب مانگتے ہو سب روشنیوں کو چھین کر بھی دیوانوں سے خواب مانگتے ہو فردوس بریں میں مل سکے ...

مزید پڑھیے

بظاہر یہ جو بیگانے بہت ہیں

بظاہر یہ جو بیگانے بہت ہیں ہمارے جانے پہچانے بہت ہیں خرد مندو مبارک عزم افلاک زمیں پر چند دیوانے بہت ہیں شبستانوں سے تم نکلو تو دیکھو بھرے شہروں میں ویرانے بہت ہیں تمہارا مے کدہ تم کو مبارک ہمیں یادوں کے پیمانے بہت ہیں گلا کیا غیر کی بیگانگی کا کہ جو اپنے ہیں بیگانے بہت ...

مزید پڑھیے

ثبات دل تھا مگر بیقرار ہو گیا تھا

ثبات دل تھا مگر بیقرار ہو گیا تھا وہ نور میری حرارت سے نار ہو گیا تھا ثبات دل تھا مگر بیقرار ہو گیا تھا وہ نور میری حرارت سے نار ہو گیا تھا ہوا چلی ہی نہیں اے محاذ راہ گزر وگرنہ خاک کا پتلا غبار ہو گیا تھا جب اس کی دھوپ نے دیکھی ہماری سوریہ مکھی ہمارا نام گلوں میں شمار ہو گیا ...

مزید پڑھیے

وہ بار فرض تکلف مجھی کو دھونا پڑا

وہ بار فرض تکلف مجھی کو دھونا پڑا اسے رلانے کہ خاطر مجھے بھی رونا پڑا وہ ایک حسن تھا جس کی تھی صرف خواب میں بود اسے جگانے کی چاہت میں مجھ کو سونا پڑا میں دیکھتا ہوں یہ چھینٹے لگیں گے کس کے ہاتھ مجھے جو آج اداسی سے ہاتھ دھونا پڑا یہ کیا ہوا کہ تری دھن میں جن سے بچھڑے تھے انہیں کے ...

مزید پڑھیے

نہیں تھا کوئی گلہ آگ کو روانی سے

نہیں تھا کوئی گلہ آگ کو روانی سے ہوا تھی جس نے لیا انتقام پانی سے پیام آتے رہے جائے لا مکانی سے گیا نہ کوئی جواب اس سرائے فانی سے کہاں کے دشت قدامت ہی کھو گئی اب تو پلے بڑھے ہیں یہ شہروں کی مہربانی سے حیات پھر سے چلی لڑکھڑا کے مستی میں سنبھل گئی تھی کسی مرگ ناگہانی سے پھہر کے ...

مزید پڑھیے

دنیا جہاں کے جام چھلک جائیں ریت پر

دنیا جہاں کے جام چھلک جائیں ریت پر کیا کیجیے کہ ہونٹ بہک جائیں ریت پر پانی کی چاہ بھی ہو سمندر کا خوف بھی لہروں کے ساتھ ساتھ ہمک جائیں ریت پر گو لاکھ سیپیوں میں سمندر کی قید ہوں موتی وہی جو پھر بھی جھلک جائیں ریت پر کاسہ ہر اک صدف کا لٹا جائے اشرفی لعل و جواہرات کھنک جائیں ریت ...

مزید پڑھیے

بندھ جائیں سامان طنابیں کھل جائیں

بندھ جائیں سامان طنابیں کھل جائیں کاش خدا پر میری دعائیں کھل جائیں میں تو بس اس کی ہی خوشی میں جی لوں گا گر میرے عیسیٰ کی سانسیں کھل جائیں صبح ہوئی ہے لیکن ابھی اندھیرا ہے اتنا مت جاگو کی یہ آنکھیں کھل جائیں چند لکیریں لکھ پائیں کتنی تحریر ایک جبیں پر کتنی شکنیں کھل جائیں اس ...

مزید پڑھیے

تمہیں آنسو بہانے کو بھی مل جائیں کئی کندھے (ردیف .. ا)

تمہیں آنسو بہانے کو بھی مل جائیں کئی کندھے مگر مجھ کو اذیت میں پریشاں کون دیکھے گا تمہیں جو اس کی خاطر جاگتے بیٹھے رہے شب بھر جو اب سو جاؤ تو صبح درخشاں کون دیکھے گا میں بھاگا تو چلا آؤں تمہاری اک ندا سن کر سر وقت جنوں انکار درباں کون دیکھے گا میں تیرے ہجر میں بیٹھا ہوا کچھ ...

مزید پڑھیے

قریب آنے لگا وہ تو رات گہری ہوئی

قریب آنے لگا وہ تو رات گہری ہوئی وہ رات ٹھہری رہی جب تلک دوپہری ہوئی سبوں نے اپنے پیاروں کے لب چکھے علی الصبح گزار کر شب ہجراں سبوں کی سحری ہوئی وہ کون ہوگا جو واپس نہ لوٹ پائے گا ہے انتظار میں اک رہ گزار ٹھہری ہوئی ہمارے چہرے کی زردی پہ ہاتھ رکھ اس نے اک ایسا رنگ لگایا کہ چھب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2023 سے 6203