قومی زبان

گھر سلگتا سا ہے اور جلتا ہوا سا شہر ہے

گھر سلگتا سا ہے اور جلتا ہوا سا شہر ہے زندگانی کے لیے اب دو جہاں کا قہر ہے جاؤ لیکن سرخ شعلوں کے سوا پاؤ گے کیا سنسناتے دشت میں کالی ہوا کا قہر ہے دل یہ کیا جانے کہ کیا شے ہے حرارت خون کی جسم کیا سمجھے کہ کیسی زندگی کی لہر ہے اے محبت میں تری بیتابیوں کو کیا کروں بڑھ کے چشم یار سے ...

مزید پڑھیے

کم نہیں ہے رنج و غم میں یہ خوشی میرے لیے

کم نہیں ہے رنج و غم میں یہ خوشی میرے لیے بادلوں سے جھانکتی ہے چاندنی میرے لئے اس کی آنکھوں میں نمی ہے منہ سے کچھ کہتا نہیں اک اذیت بن گئی ہے خامشی میرے لئے پھر غلط فہمی کی چنگاری ہوا دینے لگی اس نے لکھا ہے یہ خط ہے آخری میرے لئے رقص کرتی ہے مری پرچھائیں اس کی یاد میں اب تو جینا ...

مزید پڑھیے

ٹوٹ کر خود بکھر گئے ہیں آپ

ٹوٹ کر خود بکھر گئے ہیں آپ کس کے سائے سے ڈر گئے ہیں آپ مجھ کو دکھلا رہے ہیں آئینہ اپنی حد سے گزر گئے ہیں آپ اب جہاں چاہیں جائیے صاحب میرے دل سے اتر گئے ہیں آپ دل نے کیا کیا نہ کچھ دعائیں دیں میرے گھر جب ٹھہر گئے ہیں آپ میں نے جب بھی زبان کھولی ہے دل چرا کر مکر گئے ہیں آپ کس طرف ...

مزید پڑھیے

وہ کیا جئے گا جس کو کوئی تجربہ نہ ہو

وہ کیا جئے گا جس کو کوئی تجربہ نہ ہو جب تک کہ زندگی میں کوئی حادثہ نہ ہو کیوں بار بار آتا ہے ہونٹوں پہ تیرا نام تجھ سے مرا پرانا کوئی سلسلہ نہ ہو دشوار راستوں سے ڈراتے ہیں کیسے لوگ جیسے ہمارا کوئی یہاں رہنما نہ ہو کرتی ہوں یہ دعائیں خدا سے کہ میرا دوست ہر بات پر خفا ہو مگر بے وفا ...

مزید پڑھیے

خیالوں میں بسا کر تجھ کو اک پیکر بناتی ہوں

خیالوں میں بسا کر تجھ کو اک پیکر بناتی ہوں ہزاروں رنگ بھر کے دل نشیں منظر بناتی ہوں بہت روتی ہوں جب بستی کہیں کوئی اجڑتی ہے میں کنکر اور پتھر جوڑ کر پھر گھر بناتی ہوں شب غم کی سیاہی میں چھلکتے ہیں جو پلکوں سے میں قطرہ قطرہ اشکوں سے مہ و اختر بناتی ہوں غموں کی یورشیں سہہ کر تن ...

مزید پڑھیے

اپنے مرکز پہ نہ پورا ہوا چکر میرا

اپنے مرکز پہ نہ پورا ہوا چکر میرا اجنبی ہاتھ بدلتے رہے محور میرا میرے قالب کی شناسا نہیں ہیئت میری اپنے سائے سے بھی بیزار ہے پیکر میرا میرے سینے پہ تو دشمن کا کوئی زخم نہیں میرے پہلو میں جو اترا ہے تو خنجر میرا میں تو اب تک نہیں سیکھا ہوں زمیں پر چلنا اور خلاؤں میں ہے چھایا ہوا ...

مزید پڑھیے

اس دشت‌ ہلاکت سے گزر کون کرے گا

اس دشت‌ ہلاکت سے گزر کون کرے گا بے امن خرابوں میں سفر کون کرے گا خورشید جو ڈوبیں گے ابھرنے ہی سے پہلے اس تیرگیٔ شب کی سحر کون کرے گا چھن جائیں سر راہ جہاں چادریں سر کی اس ظلم کی نگری میں بسر کون کرے گا جس دور میں ہو بے ہنری وجہ سیادت اس دور میں تشہیر ہنر کون کرے گا اڑ جائیں گے ...

مزید پڑھیے

اس گرمئ بازار سے بڑھ کر نہیں کچھ بھی

اس گرمئ بازار سے بڑھ کر نہیں کچھ بھی سچ جانیے دکان کے اندر نہیں کچھ بھی ہم جہد مسلسل سے جہاں ٹوٹ کے گر جائیں وہ لمحہ حقیقت ہے مقدر نہیں کچھ بھی مجبور تجسس نے کیا ہے ہمیں ورنہ اس قید کی دیوار کے باہر نہیں کچھ بھی یہ میری تمنا ہے کہ جنبش میں ہیں پردے اک خواہش پیہم ہے پس در نہیں کچھ ...

مزید پڑھیے

حرص مال و منال میں کھویا

حرص مال و منال میں کھویا ہم نے فردا بھی حال میں کھویا ایک لمحہ تھا تجھ کو پانے کا وہ بھی فکر مآل میں کھویا میں نے پندار عاشقی سارا اک ادھورے سوال میں کھویا وہ ستارا جو راہ دکھلاتا خود غرور‌ کمال میں کھویا کارواں محو ہے اندھیروں میں رہنما قیل و قال میں کھویا ساعتیں سرنگوں ...

مزید پڑھیے

تفاوت راہ

حسین کافوری انگلیوں میں سفید سگریٹ لیے وہ لڑکی کھڑی کھڑی اپنے شنگرفی نرم ہونٹوں سے یوں لگاتی کہ جیسے جیون کے موم رس کو وہ گھونٹ بھر بھر کے پی رہی ہو مگر طلب کا وصال لب کا یہ لمحہ تیز گام و گریز پا تھا سیاہ ایڑی زمیں پر اس کو بے حسی سے کچل رہی تھی

مزید پڑھیے
صفحہ 1994 سے 6203