قومی زبان

تضاد فطرت نفس نفس ہے

تضاد فطرت نفس نفس ہے کہیں محبت کہیں ہوس ہے یہیں تو لیتی ہے روح سانسیں یہ دل دریچہ بدن قفس ہے گلاب ساعت رہے سلامت جہاں بھی خوشبو سے رنگ مس ہے میں اپنے خوابوں کی راکھ ہوں اب نہ آگ باقی نہ خار و خس ہے نظر جو آ نہ سکے وہ پنہاںؔ اگر یقیں ہے کہ ہے تو بس ہے

مزید پڑھیے

جان من آپ تو بیزار ہوئے بیٹھے ہیں

جان من آپ تو بیزار ہوئے بیٹھے ہیں کیا مسیحا مرے بیمار ہوئے بیٹھے ہیں اس ادا پر مرا دل کیا مری جاں بھی حاضر آپ یوں کھنچ کے جو تلوار ہوئے بیٹھے ہیں دشمن جاں تھے تو کرتے تھے تعاقب لیکن جان جاں ہو کے تو بیکار ہوئے بیٹھے ہیں شام کی چائے کا وعدہ وہ ادھر بھول گئے ہم ادھر صبح سے تیار ...

مزید پڑھیے

آوارہ بنجارے سارے

آوارہ بنجارے سارے سورج چاند ستارے سارے اس چکراتی دھرتی پر ہیں گردش کے تو مارے سارے خود سے جیت نہ پایا کوئی اپنے آگے ہارے سارے شبنم بادل بھاپ اور آنسو اک دریا کے دھارے سارے اک دھرتی کی کوکھ سے پیدا دکھ سانجھی دکھیارے سارے جو کچھ ہے جھولی میں اس کی قدرت ہم پر وارے سارے خود ...

مزید پڑھیے

سارےگاما پا دھانی

سارےگاما پا دھانی سر میں لے سانسیں جانی نادانی سی نادانی من کرتا من مانی دنیا جانی پہچانی ہستی اپنی انجانی آئینے میں آئینہ حیرانی سی حیرانی آنکھوں سے مت چھلکانا اجڑے دل کی ویرانی بادل پی کے آیا تھا پروائی بھی مستانی خود کو ہارے تو جیتے راجا کے من کو رانی گھر میں بھی بس ...

مزید پڑھیے

خوں رنگ ہوئی شام شفق سے بھی زیادہ

خوں رنگ ہوئی شام شفق سے بھی زیادہ دل ڈوب گیا دور افق سے بھی زیادہ لڑکی وہ ہوئی جاتی ہے زخموں کی دھنک سی سادہ جو رہی سادہ ورق سے بھی زیادہ بچپن کے کھلونے کی طرح مجھ کو بھلا دو میں یاد رکھوں تم کو سبق سے بھی زیادہ کیا دیکھ لیا خواب نے آئینۂ تعبیر دل ہو گیا فق چہرۂ فق سے بھی ...

مزید پڑھیے

دل کو یہ سمجھانا ہے

دل کو یہ سمجھانا ہے دنیا پاگل خانہ ہے وہ کیسا بیگانہ ہے دل جس کا دیوانہ ہے فطرت کے بیگار سبھی شمع ہے پروانہ ہے جیون دکھ سکھ سکھ دکھ سب الجھا تانا بانا ہے ہیرے موتی رو لینا ہنسنے کا ہرجانا ہے سپنا ہے یہ جیون اور دنیا اک افسانہ ہے حاصل کا بھی حاصل کیا آخر تو مر جانا ہے منزل ...

مزید پڑھیے

تا ابد حاصل ازل ہوں میں

تا ابد حاصل ازل ہوں میں یا فقط لقمۂ اجل ہوں میں خود کو بھی خود سے ماورا چاہوں اپنی ہستی میں کچھ خلل ہوں میں میرا ہر مسئلہ اسی کا ہے اس کے ہر مسئلے کا حل ہوں میں اس کی آنکھوں کا آئینہ خانہ جھیل میں جیسے اک کنول ہوں میں گنگناتی رہی جسے پنہاںؔ مجھ کو لگتا ہے وہ غزل ہوں میں

مزید پڑھیے

خبر کہاں تھی مرے علم اکتسابی کو

خبر کہاں تھی مرے علم اکتسابی کو کتاب دل ہے بہت حق کی بازیابی کو وہ ضبط شوق جو بنیاد ضبط مے خانہ اسی کا ہوش نہ ساقی کو نہ شرابی کو ابھی کہاں ہے مرے زخم دل کی وہ رنگت گلاب دیکھ کے جل جائے جس گلابی کو خدا کے سامنے انسان کی طرف داری عزیز رکھتا ہے دل اپنی اس خرابی کو غزل کو ڈر ہے کہ ...

مزید پڑھیے

بس اتنا جانتی ہوں زندگی کو

بس اتنا جانتی ہوں زندگی کو کہاں جینے دیا اس نے کسی کو مہک اٹھتا ہے کوئی زخم پھر سے چٹکتے دیکھتی ہوں جب کلی کو اسے میں چاند کیسے کہہ سکوں گی ترستی ہوں میں جس کی چاندنی کو تعین مت کرو تم ذائقوں کا مجھے چکھنے دو اپنی زندگی کو نہیں پنہاںؔ یہ شہرت کا وسیلہ عبادت جانتی ہوں شاعری ...

مزید پڑھیے

زندگی سچ کی حمایت نہیں کرنے دیتی

زندگی سچ کی حمایت نہیں کرنے دیتی ایسی کوئی بھی عبادت نہیں کرنے دیتی مصلحت عقل سے کہتی ہے کہ اک حد میں رہو اور دل کو بھی شرارت نہیں کرنے دیتی الجھی رہتی ہے نظر سے کوئی دزدیدہ نظر قلب و جاں کی جو حفاظت نہیں کرنے دیتی اب تو حال دل بیمار خدا ہی جانے حالت زار عیادت نہیں کرنے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1947 سے 6203