قومی زبان

یہ صحن و روش یہ شمس و قمر یہ دشت و بیاباں کچھ بھی نہیں

یہ صحن و روش یہ شمس و قمر یہ دشت و بیاباں کچھ بھی نہیں جز اپنی حد پرواز نظر اے دیدۂ حیراں کچھ بھی نہیں ہے مجھ سے وجود ہست و عدم یوں ہست و عدم ہیں لا یعنی یہ زیست کا ساماں کچھ بھی نہیں یہ عمر گریزاں کچھ بھی نہیں اے دست جنوں ہے عار تجھے کیوں میری قبائے ہستی سے میں چاک جگر کا قائل ہوں ...

مزید پڑھیے

اک فقط ساحل تلک آتا ہوں میں

اک فقط ساحل تلک آتا ہوں میں رو میں جانے کیسے بہہ جاتا ہوں میں منزلوں کی جستجو میں بارہا منزلوں سے آگے بڑھ جاتا ہوں میں بھاگتا ہوں رات جس جنگل سے دور صبح اسی کو سامنے پاتا ہوں میں کس افق میں دفن ہو جاتا ہے دن ہر شب اس الجھن کو سلجھاتا ہوں میں مر گیا جو شخص مجھ میں اس کا ...

مزید پڑھیے

ضابطوں کی اور قدروں کی روانی دیکھنا

ضابطوں کی اور قدروں کی روانی دیکھنا پھر ہوا میں چار سو اک بد گمانی دیکھنا لمحہ لمحہ پھیلتا ہی جا رہا ہے چار سو شہر میں جنگل کی اک دن بیکرانی دیکھنا چاہتا ہے وہ مجھے خوش دیکھنا ہر حال میں چھین لے گا مجھ سے میری نوحہ خوانی دیکھنا آنے والی اور ابھی راتیں ہیں تاریک و مہیب اور ...

مزید پڑھیے

نظر نواز نظر کا یہ زاویہ کیوں ہے

نظر نواز نظر کا یہ زاویہ کیوں ہے نمود عکس پہ حیران آئینہ کیوں ہے زباں پہ حرف انا الحق لرز رہا ہے کیوں جنون عشق تذبذب کا مرحلہ کیوں ہے وہی ہے منزل آخر جہاں سفر آغاز بندھا ہوا مرے قدموں سے دائرہ کیوں ہے حیات و موت کا مقصد اگر نہیں معلوم شکست و ریخت کا بے کار سلسلہ کیوں ہے یہ کس ...

مزید پڑھیے

بہت آزاد ہوتا جا رہا ہے

بہت آزاد ہوتا جا رہا ہے یہ دل برباد ہوتا جا رہا ہے سبھی آموختوں کو بھول جاؤں سبق یہ یاد ہوتا جا رہا ہے خدا کے نام پر دنیا میں کیا کیا ستم ایجاد ہوتا جا رہا ہے مجھے لگتا ہے اب میرا ہی قیدی مرا صیاد ہوتا جا رہا ہے جو سچ پوچھو غزل کا فن تو پنہاںؔ خود اپنی داد ہوتا جا رہا ہے

مزید پڑھیے

اے دل تری بربادی کے آثار بہت ہیں

اے دل تری بربادی کے آثار بہت ہیں شہکار کے بہروپ میں فن کار بہت ہیں ناواقف آداب محبت کو سزا کیا اے حسن ازل تیرے خطا کار بہت ہیں یادوں کی بہاریں بھی ہیں ویرانۂ دل میں اس دشت بیاباں میں یہ گلزار بہت ہیں یہ وقت کی سازش ہے کہ سورج کی شرارت سائے مری دیوار کے اس پار بہت ہیں دل خود جو ...

مزید پڑھیے

انجمن بہار میں ناز بتاں کی بات کر

انجمن بہار میں ناز بتاں کی بات کر لطف خرام ساقی و سرو رواں کی بات کر شیخ حرم کا ذکر کیا دیکھ امنڈ چلی گھٹا ساقی نو بہار کی پیر مغاں کی بات کر زہد و ورع کا واسطہ جوئے طہور کی قسم آج کسی کے دیدۂ بادہ فشاں کی بات کر توبہ کی آج فاتحہ پڑھنے چلے ہیں بادہ کش ابر سیاہ پوش ہے رطل گراں کی ...

مزید پڑھیے

جب طبیعت سکوں سے گھبرائی

جب طبیعت سکوں سے گھبرائی لے چلا ذوق آبلہ پائی وہ ہوئے مائل مسیحائی موت پھر زندگی سے شرمائی زلف بکھری کہ بس گھٹا چھائی اہل تقوی پہ اک بلا آئی طائر آرزو نے پر تولے صحن دل میں چلی ہے پروائی مڑ کے طوفاں کو بارہا دیکھا نزد ساحل جو موج لے آئی کشمکش وہ جنون و ہوش میں ہے بن گیا حسن ...

مزید پڑھیے

حیات لاابالی مجھ کو فرحتؔ سازگار آئی

حیات لاابالی مجھ کو فرحتؔ سازگار آئی کہ استغنا میں عشرت بے نیاز اضطرار آئی ستم کی راہ سے جب بے وفائی کامگار آئی تو پھر راہ محبت سے وفا کیوں سوگوار آئی فریب یک تبسم سے قبائے گل ہے صد پارہ شگوفوں کے لئے کیا کیا بھرم لے کر بہار آئی مری قسمت مجھے منزل پہ اب لائی تو کیا حاصل جو دن ...

مزید پڑھیے

تڑپ کلی کی ہے یہ عشرت نمو کے لئے

تڑپ کلی کی ہے یہ عشرت نمو کے لئے کہ اضطراب ہے عرفان رنگ و بو کے لئے رموز عرش تو کھل جائیں گے کبھی نہ کبھی حیات وقفہ ہے خود اپنی جستجو کے لئے کچھ اس قدر دل پر شوق بے خبر بھی نہیں مگر بضد ہے وہ انجام آرزو کے لئے چمن میں غنچے ہوئے مائل‌ اذاں جس دم لٹائی صبح نے شبنم وہیں وضو کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1946 سے 6203