قومی زبان

پھر بھنور میں ہے سفینہ اس لئے بے چین ہوں

پھر بھنور میں ہے سفینہ اس لئے بے چین ہوں ہو گیا ضائع پسینہ اس لئے بے چین ہوں پھر ٹھٹھرتی رات میں فٹ پاتھ پر ہوگا غریب آ گیا پھر وہ مہینہ اس لئے بے چین ہوں پھر سنا ہے سرحدوں پر بڑھ گئیں سرگرمیاں پھر سے ہوگا چاک سینہ اس لئے بے چین ہوں سیکھ پایا ہی نہیں اب تک معافی کا ہنر ہے ابھی ...

مزید پڑھیے

بیاج میں کھیت نہ زیور نہ وہ دھن چاہتا ہے

بیاج میں کھیت نہ زیور نہ وہ دھن چاہتا ہے سود خور آج تو بیوہ کا بدن چاہتا ہے سوچ کر مجھ کو یہ اب نیند نہیں آتی ہے کھیلنے کے لیے بچہ مرا گن چاہتا ہے سانولا رنگ ہے خود اس کی بہن کا لیکن میرا بیٹا ہے کہ وہ گوری دلہن چاہتا ہے شاعری کے لیے کیا کیا نہیں چھوڑا ہم نے ساتھ دولت کے زمانہ ہے ...

مزید پڑھیے

ہے نہیں میرا جتانا بھی مجھے چاہتا ہے

ہے نہیں میرا جتانا بھی مجھے چاہتا ہے اور وہ شانہ بہ شانہ بھی مجھے چاہتا ہے تھام کر انگلی سکھایا بھی اسی نے چلنا اب وہی شخص مٹانا بھی مجھے چاہتا ہے بس ترا ہو کے رہوں گا میں یہ کیسے کہہ دوں بات یہ ہے کہ زمانہ بھی مجھے چاہتا ہے پہلے کہتا تھا کہ ہوں اس کے بدن کا گہنا ہاں مگر اب وہ ...

مزید پڑھیے

مل کے قطرے بھی سمندر سے سمندر ہو گئے

مل کے قطرے بھی سمندر سے سمندر ہو گئے کتنے پستہ قد مقدر کے سکندر ہو گئے چھوڑ کر سب لہلہاتے کھیت پاگل پن میں ہم شہر آئے اور یہاں بنیوں کے نوکر ہو گئے آج تک ہیں منتظر جو کر نہ پائے دستیاب قدر اس نے کی نہیں جس کو میسر ہو گئے چاہتے تھے درد ہم کرنا زمانے سے بیاں بس اسی کوشش میں جانے کب ...

مزید پڑھیے

کسے غرض ہے کہ اب دھوپ سے بچائے مجھے

کسے غرض ہے کہ اب دھوپ سے بچائے مجھے ہر ایک موڑ پہ بابو جی یاد آئے مجھے یہ کون لوگ ہیں جو رکھ دئے بدن گروی یہ کون لوگ ہیں لگتے ہیں اپنے سائے مجھے اب اس کے آگے بنا راستوں کے جانا ہے اب اس کے آگے کوئی راستہ بتائے مجھے مجھے سلگتے ہوئے ہو گئی ہے اک مدت کہیں سے کوئی ہوا آئے اور جلائے ...

مزید پڑھیے

کچھ زیادہ ہی اگر رخت سفر رہتا ہے

کچھ زیادہ ہی اگر رخت سفر رہتا ہے ہر گھڑی راہ میں مشکل میں بشر رہتا ہے اس لئے آپ کو پانے سے میں کرتا ہوں گریز قیمتی چیز کے کھو جانے کا ڈر رہتا ہے اس کی سانسوں سے مہکتی ہیں کئی دن سانسیں اس کو چھونے کا کئی روز اثر رہتا ہے کیسا جادو ہے کھلی آنکھوں سے دکھتا ہی نہیں بند کرتا ہوں تو وہ ...

مزید پڑھیے

پشت ہا پشت تجھے خون پلایا لالہ

پشت ہا پشت تجھے خون پلایا لالہ پھر بھی رہتا ہے ترا سود بقایا لالہ تو ہی پوجا بھی بہت کرتا ہے مندر مندر اور تو نے ہی غریبوں کو ستایا لالہ ہائے بھی تجھ کو غریبوں کی نہیں لگتی ہے کیسا پرساد شوالے میں چڑھایا لالہ دروپدی کو تو بچایا تھا کنہیا تو نے کیوں نہ ملاح کی بیٹی کو بچایا ...

مزید پڑھیے

وہ سمندر ہے تو دریا بھی ہے

وہ سمندر ہے تو دریا بھی ہے کبھی کھارا کبھی میٹھا بھی ہے جسم سے روح کو شکوہ بھی ہے روح نے جسم کو پہنا بھی ہے نظر آتا بھی ہوں اس میں میں مگر راز اس کو مجھے رکھنا بھی ہے فاصلے بھی ہیں رکھے مجھ سے اور اپنے دل میں مجھے رکھتا بھی ہے آنکھ بولے ہے لبوں پر تالے کہہ کے سب چپ اسے رہنا بھی ...

مزید پڑھیے

تو نے جو مجھ سے فاصلے رکھے

تو نے جو مجھ سے فاصلے رکھے اچھا ہے دور راستے رکھے میں نہ جانوں تو کون ہے میرا دل نے کیوں تجھ سے رابطے رکھے ساتھ میرا نبھائے وہ کیسے جو نبھانے میں دائرے رکھے تھے معانی غزل میں تجھ سے ہی جانے کیوں میں نے فلسفے رکھے حادثوں میں بھی حادثے رکھے کیسے قسمت نے سلسلے رکھے پوچھتی ہے ...

مزید پڑھیے

گم گیا ہو کہیں ایسا نہیں ہے

گم گیا ہو کہیں ایسا نہیں ہے وقت پھر بھی مجھے ملتا نہیں ہے چھوڑ دیتا ہے مجھے منزل پر راستہ ساتھ یہ رکتا نہیں ہے کل دعا میں تجھے مانگا تھا مگر پوری ہوگی دعا لگتا نہیں ہے اس میں اچھا نہیں دکھتا ہوں میں آئنہ وہ ترے جیسا نہیں ہے گر محبت ہے تو پھر یہ نہ کہو وہ ہے ایسا یا وہ ویسا نہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1713 سے 6203