قومی زبان

نہ جھٹکو زلف سے پانی یہ موتی ٹوٹ جائیں گے

نہ جھٹکو زلف سے پانی یہ موتی ٹوٹ جائیں گے تمہارا کچھ نہ بگڑے گا مگر دل ٹوٹ جائیں گے یہ بھیگی رات یہ بھیگا بدن یہ حسن کا عالم یہ سب انداز مل کر دو جہاں کو لوٹ جائیں گے یہ نازک لب ہیں یا آپس میں دو لپٹی ہوئی کلیاں ذرا ان کو الگ کر دو ترنم پھوٹ جائیں گے ہماری جان لے لے گا یہ نیچی ...

مزید پڑھیے

اجنبی تھا وہ جس کو کھویا تھا

اجنبی تھا وہ جس کو کھویا تھا پھر بھی میں ساری رات رویا تھا عمر بھر دور ہو نہ پائی تھکن میں نے پلکوں پہ اشک ڈھویا تھا ہو گئی ہے زمیں وہ اب بنجر جس جگہ اک فقیر رویا تھا داغ پانی کے لگ گئے تھے کئی میں نے ان کو لہو سے دھویا تھا لہریں روئیں لپٹ لپٹ کے بہت مجھ کو دریا نے جب ڈبویا تھا

مزید پڑھیے

پلکوں میں ہی اپنا اشک سکھانا ہوتا ہے

پلکوں میں ہی اپنا اشک سکھانا ہوتا ہے کچھ خوابوں کو زندہ ہی دفنانا ہوتا ہے جانا پڑتا ہے کس کس کے در مجبوری میں لیکن وہ جانا جیسے مر جانا ہوتا ہے ٹھیک اسی پل مجھ میں چیخا کرتا ہے کوئی جس دم میری نیندوں کو گہرانا ہوتا ہے قد چھوٹا کر دیتی ہے بس پانے کی خواہش جیون میں کچھ چیزوں کو ...

مزید پڑھیے

تباہی درد اذیت کا کارواں لے کر

تباہی درد اذیت کا کارواں لے کر کہاں سے آئیں ہوائیں دھواں دھواں لے کر بدن کا کیا ہے کھلونا ہے چاہے جو کھیلے چلا گیا ہے کوئی اپنے ساتھ جاں لے کر پلٹ کے آیا تو قدموں تلے زمین نہ تھی مرے خدا میں کہاں جاؤں آسماں لے کر تجھے پتہ ہی نہیں تو جہان ہے میرا میں کیا کروں گا ترے بعد یہ جہاں لے ...

مزید پڑھیے

گھر ہے ترا تو شوق سے آنے کے لیے آ

گھر ہے ترا تو شوق سے آنے کے لیے آ لیکن میں یہ چاہوں گا نہ جانے کے لیے آ یہ رخ بھی محبت کا دکھانے کے لیے آ آ مجھ سے نظر پھیر کے جانے کے لیے آ مدت سے ہوں میں تیری ملاقات کا طالب آ مجھ پہ کوئی ظلم ہی ڈھانے کے لیے آ پیمانوں سے پیتے ہیں پئیں رند خرابات تو مجھ کو نگاہوں سے پلانے کے لیے ...

مزید پڑھیے

جھلملاتے ہوئے آنسو بھی عجب ہوتے ہیں

جھلملاتے ہوئے آنسو بھی عجب ہوتے ہیں شام فرقت کے یہ جگنو بھی عجب ہوتے ہیں یہ ادا حسن کی ہم کیوں نظر انداز کریں اس کے بکھرے ہوئے گیسو بھی عجب ہوتے ہیں قتل ہو کوئی تو کانپ اٹھتی ہے ساری دنیا درد انساں کے یہ پہلو بھی عجب ہوتے ہیں کس کو گیت اپنے سناتے ہیں وہاں کیا کہیے نغمہ خوانان ...

مزید پڑھیے

جب ان کے پائے ناز کی ٹھوکر میں آئے گا

جب ان کے پائے ناز کی ٹھوکر میں آئے گا کتنا غرور راہ کے پتھر میں آئے گا سودائے عشق کہتے ہیں اہل خرد جسے کیا جانے کب یہ وصف مرے سر میں آئے گا ایسی جگہ مکان بنانا نہ تھا مجھے جنگل تمام اڑ کے مرے گھر میں آئے گا مجھ سے نکل کے جائے گا قاتل مرا کہاں اک دن تو میرے سامنے محشر میں آئے ...

مزید پڑھیے

عشق کی ایسی شان تو ہوگی

عشق کی ایسی شان تو ہوگی اس سے تری پہچان تو ہوگی گاؤں کی لڑکی کا کیا کہنا کچھ نہیں وہ انسان تو ہوگی اس کے نگر میں دل کے لیے کچھ صورت اطمینان تو ہوگی کچھ بھی کہہ لو دل کی خلش کو زیست کا یہ عنوان تو ہوگی دار و رسن کے افسانوں میں کیف نہ ہوگا جان تو ہوگی زیر لب وہ موج تبسم میرے لیے ...

مزید پڑھیے

تمہارا قرب وجہ اضطراب دل نہ بن جائے

تمہارا قرب وجہ اضطراب دل نہ بن جائے یہ مشکل سہل ہو کر پھر کہیں مشکل نہ بن جائے ارے او تشنہ لب یہ پیاس یہ انداز پینے کا سمندر گھٹتے گھٹتے دور تک ساحل نہ بن جائے یہ مشکوک آدمی لوٹے ہیں جس نے کارواں برسوں دعا مانگوں کہیں یہ رہبر منزل نہ بن جائے چلا تو ہوں ترا بخشا ہوا ذوق طلب لے ...

مزید پڑھیے

جانے کیسا ہے زندگی کا سفر

جانے کیسا ہے زندگی کا سفر آگہی کا یا بے خودی کا سفر خاک سے بن کے خاک ہو جانا دائرہ میں ہے ہر کسی کا سفر اتنا مشکل ہے جتنا لگتا تھا ہم کو آسان عاشقی کا سفر یہ پتنگے سے پوچھ کیسا تھا روشنی سے وہ شعلگی کا سفر گر کسی سے تمہیں محبت ہے سنگ اسی کے ہو بندگی کا سفر اجنبی جو تھے ہو گئے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1712 سے 6203