قومی زبان

کہا خواب نے میں ادھورا رہوں گا

کہا خواب نے میں ادھورا رہوں گا سحر تک مگر بس میں تیرا رہوں گا کہ جب تک رہے گی یوں کچی یہ مٹی میں ہر روز پیکر بدلتا رہوں گا ہو جائے نہ وہ بھی کہیں دور مجھ سے اگر اس کو میں اپنا کہتا رہوں گا کسی دن یہ سایہ بھی گل جانا ہے گر یوں ہی دھوپ میں میں جو چلتا رہوں گا مجھے عمر نے ہے ٹھگا کس ...

مزید پڑھیے

میں ہر جانب نیا نقشہ تلاشوں گا

میں ہر جانب نیا نقشہ تلاشوں گا چلوں گا تو کوئی اپنا تلاشوں گا جو دے پائے خبر مجھ کو میرے کل کی میں کلنڈر کوئی ایسا تلاشوں گا بس اس کے ہی تعاقب میں رہا ہر پل الگ اب میں کوئی رستہ تلاشوں گا کہ اب تو تھک گیا سایا بھی یہ میرا کسی کا ساتھ میں کتنا تلاشوں گا مجھے بھی ساتھ لے چل احدؔ ...

مزید پڑھیے

روح سے تن کو چھپاتے کیسے ہیں

روح سے تن کو چھپاتے کیسے ہیں پھر وفا خود سے نبھاتے کیسے ہیں کتنی لمبی ہوتی ہے یہ زندگی جانے لوگ اس کو بتاتے کیسے ہیں کتنی طاقت کی ضرورت ہے بھلا زیست کا یہ بوجھ اٹھاتے کیسے ہیں درد کا امکاں نہ ہو کچھ اس طرح زخم پر مرہم لگاتے کیسے ہیں ان اندھیروں سے گزر کر خواب یہ چشم تک پھر آتے ...

مزید پڑھیے

آپ نے آخر یہ کیا جادو کیا دیوار پہ

آپ نے آخر یہ کیا جادو کیا دیوار پہ آپ کا چہرہ مجھے دکھتا رہا دیوار پہ پہلے برسوں میں نے خود کو قید کمرے میں کیا اور تب جا کر دریچہ یہ بنا دیوار پہ آپ سے بھی یہ دراریں جو نہیں بھر پا رہیں آپ نے بھی ظلم تھا کتنا کیا دیوار پہ قدر تو نے کی نہ اس کی زندگی میں جو کبھی موت پر بھی اس کی ...

مزید پڑھیے

قرآں کتاب ہے رخ جاناں کے سامنے

قرآں کتاب ہے رخ جاناں کے سامنے مصحف اٹھا لوں صاحب قرآں کے سامنے جنت ہے گرد کوچۂ جاناں کے سامنے دوزخ ہے سرد سینۂ سوزاں کے سامنے سکتہ ابھی ہو روح سکندر کو شرم سے آئینہ آئے گر ترے حیراں کے سامنے بہر امید گر اسے پھیلاؤں سوئے یار دامان دشت تنگ ہو داماں کے سامنے دست جنوں سے وہ بھی ...

مزید پڑھیے

ترک جس دن سے کیا ہم نے شکیبائی کا

ترک جس دن سے کیا ہم نے شکیبائی کا جا بجا شہر میں چرچا ہوا رسوائی کا غیر داغ دل صد چاک نہ مونس نہ رفیق زور عالم پہ ہے عالم مری تنہائی کا پہروں ہی اپنے تئیں آپ ہوں بھولا رہتا دھیان آتا ہے جب اپنے مجھے ہرجائی کا زلزلہ گور میں مجنوں کی پڑا رہتا ہے اپنا یہ شور ہے اب بادیہ پیمائی ...

مزید پڑھیے

فصل گل میں جو کوئی شاخ صنوبر توڑے

فصل گل میں جو کوئی شاخ صنوبر توڑے باغباں غیب کا اس کا وہیں پھر سر توڑے دست صیاد میں کہتی تھی یہ کل بلبل زار کیا رہائی کا مزا ہے جو مرے پر توڑے خاک بھی خون کی جا نکلی نہ یہاں اے پیارے بے سبب ہائے یہ فضا دون نے نشتر توڑے وصل کے تشنہ لبوں کو نہ ہو مایوسی کیوں دور پر ان کے فلک ہائے جو ...

مزید پڑھیے

کیا غضب ہے کہ چار آنکھوں میں

کیا غضب ہے کہ چار آنکھوں میں دل چراتا ہے یار آنکھوں میں چشم کیفی کے سرخ ڈوروں سے چھا رہی ہے بہار آنکھوں میں گر پڑا طفل اشک یہ مچلا میں نے روکا ہزار آنکھوں میں نہیں اٹھتی پلک نزاکت سے سرمہ ہوتا ہے بار آنکھوں میں اتنی چھانی ہے خاک تیرے لیے چھا رہا ہے غبار آنکھوں میں جب سے اپنا ...

مزید پڑھیے

کروں شکوہ نہ کیوں چرخ کہن سے

کروں شکوہ نہ کیوں چرخ کہن سے کہ فرقت ڈالی تجھ سے گل بدن سے تری فرقت کا یہ صدمہ پڑا یار زباں ناآشنا ہو گئی سخن سے دم تکفین بھی گر یار آوے تو نکلیں ہاتھ باہر یہ کفن سے کھلا ہے تختۂ لالہ جگر میں ہمیں کیا کام اب سیر چمن سے نہ پہنچا گوش تک اک تیرے ہیہات ہزاروں نالہ نکلا اس دہن ...

مزید پڑھیے

یوں جو ڈھونڈو تو یہاں شہر میں عنقا نکلے

یوں جو ڈھونڈو تو یہاں شہر میں عنقا نکلے چاہنے والا جو چاہو تو نا اصلا نکلے جی میں ہے چیر کے سینہ میں نکالوں دل کو تا کسی ڈھب سے تو پہلو کا یہ کانٹا نکلے مرض عشق یہ مہلک ہے کہ اس کے ڈر سے چرخ چارم یہ جو ڈھونڈو تو مسیحا نکلے ہے یقیں گور پہ گر میری تو آ جاوے کبھی دید کو تیری مرا قبر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1714 سے 6203