قومی زبان

نہ بتوں کے نہ اب خدا کے رہے

نہ بتوں کے نہ اب خدا کے رہے ہم کہیں کے نہ دل لگا کے رہے فتنے کیا کیا نہ وہ اٹھا کے رہے ہم بھی کوچے میں ان کے جا کے رہے کر گئی وہ نگاہ اپنا کام ہم بھروسے پہ اتقا کے رہے نام میرا جہاں لکھا پایا ضد تو دیکھو کہ وہ مٹا کے رہے اس نے ہر چند عذر خواب کیا حال دل ہم مگر سنا کے رہے لے اڑا ان ...

مزید پڑھیے

دوڑے وہ میرے قتل کو تلوار کھینچ کر

دوڑے وہ میرے قتل کو تلوار کھینچ کر میں رہ گیا اک آہ شرربار کھینچ کر گستاخ جذب شوق ہے کتنا غضب کیا لایا ہے کس کو یوں سر بازار کھینچ کر ہے ہے خبر بہار کی سنتے ہی مر گیا اک آہ سرد مرغ گرفتار کھینچ کر وابستہ اس سے سیکڑوں دل عاشقوں کے ہیں بند قبا نہ باندھئے زنہار کھینچ کر گر اپنے آہ ...

مزید پڑھیے

اک جفا کار نے ہستی سے گزرنے نہ دیا

اک جفا کار نے ہستی سے گزرنے نہ دیا وائے حسرت مجھے رو رو کے بھی مرنے نہ دیا ہو گیا ختم مرا قصۂ غم آہ کے ساتھ اک سہارا بھی کوئی بانئ شر نے نہ دیا میں شب درد ملا کرتا تھا جس جا ان سے پھر کبھی ساتھ اسی راہگزر نے نہ دیا کاٹ دی رات تڑپ کر جو مریض غم نے آسرا اس کو بھی امید سحر نے نہ ...

مزید پڑھیے

لب پہ نام آ گیا سودائی کا

لب پہ نام آ گیا سودائی کا شکریہ حوصلہ افزائی کا غنچہ و گل میں مہ و انجم میں جلوہ دیکھا تری رعنائی کا بے نیازی ہوئی ظاہر تیری نام روشن ہوا شیدائی کا جو دیا حد سے فزوں تو نے دیا حق ادا کر دیا آقائی کا اے جنوں خار مغیلاں میں ہی لطف ہے بادیہ پیمائی کا تیری رسوائی نہ ہو دنیا ...

مزید پڑھیے

خبر ان کو نہ ہو کچھ بھی ہمیں تسکیں بھی مل جائے

خبر ان کو نہ ہو کچھ بھی ہمیں تسکیں بھی مل جائے صبا اے کاش ان کی زلف سے نکہت چرا لائے کسی کو تو ملے تازہ و تر پھولوں کے گلدستے مگر ہم نے تو مرجھائے ہوئے گل بھی نہیں پائے ہمیں تشنہ رہے مے خانۂ ہستی میں اے ساقی جناب شیخ نے مسجد میں ساغر خوب چھلکائے فروزاں ہے متاع آرزو جس کے خیالوں ...

مزید پڑھیے

ابھی تک جس کو اپنایا نہیں تھا

ابھی تک جس کو اپنایا نہیں تھا وہ صرف اک دھوپ تھی سایہ نہیں تھا گھروندے ریت کے بن تو گئے تھے ٹھہر جائیں گے یہ سوچا نہیں تھا نہ جانے میری بستی میں ہوا کیا وہی سڑکیں تھیں ہنگامہ نہیں تھا جسے خوابوں کے شیشوں میں رکھا تھا وہ ایسا تھا مگر ویسا نہیں تھا شہر میں وارداتیں ہو چکی ...

مزید پڑھیے

ہے سکون دل تمہارے نام سے

ہے سکون دل تمہارے نام سے واسطہ کیا ہم کو اب آلام سے ان کے وعدے نے کیا ہے کیا ستم درد دل پیدا ہوا ہے شام سے اٹھ گئی ہے کیا زمانے سے وفا ہیں وہ شرمندہ وفا کے نام سے چشم ساقی سے نشاط دہر ہے گردشیں آتی ہیں دور جام سے یہ ہے معراج محبت اے رضاؔ دل لرز اٹھتا ہے ان کے نام سے

مزید پڑھیے

ہر نیا موڑ ہے جادہ مری منزل تو نہیں

ہر نیا موڑ ہے جادہ مری منزل تو نہیں جو تمنا ہے مرے دل میں وہ حاصل تو نہیں کس لئے آپ کو اندیشۂ رسوائی ہے درمیاں آپ کے میرے کوئی حائل تو نہیں میری بربادی کا احساس تجھے کیسے ہوا تیرے پہلو میں مرا ٹوٹا ہوا دل تو نہیں کس لئے آپ کو یہ شوق خود آرائی ہے آئنہ سامنے ہے کوئی مقابل تو ...

مزید پڑھیے

قید و بند غم سے وہ آزاد ہے

قید و بند غم سے وہ آزاد ہے ہر قدم پر یاں نئی افتاد ہے شاد ہے تو اور کوئی برباد ہے کیا فسانہ اور کیا روداد ہے دفتری ماحول میں دیکھو کبھی کوئی کتنا شاد ہے ناشاد ہے کیوں زمانہ میرا ہم آواز ہو میرا نغمہ درد ہے فریاد ہے خانقاہیں تم سجا لو دوستو میرے دم سے میکدہ آباد ہے عہد و پیماں ...

مزید پڑھیے

میرے شوق کا ساماں بند ہے لفافے میں

میرے شوق کا ساماں بند ہے لفافے میں اور دل کا ہر ارماں بند ہے لفافے میں نامہ بر تجھے بھی کچھ احتیاط رکھنا ہے زندگی کا ہر عنواں بند ہے لفافے میں اپنی ہر سہیلی کو میرا خط دکھا دینا قصۂ شب ہجراں بند ہے لفافے میں میں نے اپنی آنکھوں سے مہر تو لگا دی ہے یہ سمجھ لو میری جاں بند ہے لفافے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1612 سے 6203