نہ بتوں کے نہ اب خدا کے رہے
نہ بتوں کے نہ اب خدا کے رہے ہم کہیں کے نہ دل لگا کے رہے فتنے کیا کیا نہ وہ اٹھا کے رہے ہم بھی کوچے میں ان کے جا کے رہے کر گئی وہ نگاہ اپنا کام ہم بھروسے پہ اتقا کے رہے نام میرا جہاں لکھا پایا ضد تو دیکھو کہ وہ مٹا کے رہے اس نے ہر چند عذر خواب کیا حال دل ہم مگر سنا کے رہے لے اڑا ان ...