قومی زبان

ربط ہو غیر سے اگر کچھ ہے

ربط ہو غیر سے اگر کچھ ہے اس طرف بھی مگر نظر کچھ ہے بے خبر ہے وہ ہر دو عالم سے جس کو اس شوخ کو خبر کچھ ہے یاں کوئی ماجرا شریک نہیں ہے اگر کچھ تو چشم تر کچھ ہے مٹ گیا قصہ مر گیا عاشق ہو مبارک تمہیں خبر کچھ ہے جستجو ہے وہیں وہیں ہے نظر جلوہ ریزی جدھر جدھر کچھ ہے ہے تماشا بقدر ذوق ...

مزید پڑھیے

ہم ہیں ہشیار کیا ارادہ ہے

ہم ہیں ہشیار کیا ارادہ ہے نگہ یار کیا ارادہ ہے کشتۂ چشم مست ہے اک خلق اے لب یار کیا ارادہ ہے نہیں آئے وہ اور نہیں آتے نالۂ زار کیا ارادہ ہے سعیٔ دل کش خیال جان پرور طلب یار کیا ارادہ ہے مول لیتا ہے درد دے کر دل رونقؔ زار کیا ارادہ ہے

مزید پڑھیے

ہے زیر زمیں سایہ تو بالائے زمیں دھوپ

ہے زیر زمیں سایہ تو بالائے زمیں دھوپ دنیا بھی دو رنگی ہے کہیں چھاؤں کہیں دھوپ ہے نور رخ یار زمانہ میں فروزاں کہتے ہیں غلط سب یہ نہیں دھوپ نہیں دھوپ اس طرح کی ضد ہے اسے ہر بات میں مجھ سے کہتا ہوں میں سایہ تو وہ کہتا ہے نہیں دھوپ اللہ رے ترے گرمئ عارض کی شرارت خورشید چھپا شرم سے ...

مزید پڑھیے

نسخے میں طبیبوں نے لکھا اور ہی کچھ ہے

نسخے میں طبیبوں نے لکھا اور ہی کچھ ہے بیمار محبت کی دوا اور ہی کچھ ہے اغیار سے تھیں میرے ستانے کی صلاحیں اور میں نے جو پوچھا تو کہا اور ہی کچھ ہے کہتے ہیں وہ گھبرا کے مجھے دیکھ کے غش میں مر جائیں گے یہ ان کو ہوا اور ہی کچھ ہے مانگے کوئی دولت کوئی عزت کوئی جنت اور عاشق بیدل کی دعا ...

مزید پڑھیے

شعور زیست سہی اعتبار کرنا بھی

شعور زیست سہی اعتبار کرنا بھی عجب تماشہ ہے لیل و نہار کرنا بھی حدیث غم کی طوالت گراں سہی لیکن کسی کے بس میں نہیں اختصار کرنا بھی بنا کے کاغذی گل لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اک ہنر ہے خزاں کو بہار کرنا بھی اب اس نظر سے تری راہ دیکھتا ہوں میں ترا کرم ہے ترا انتظار کرنا بھی گزارنے کو تو ...

مزید پڑھیے

خزاں کی بات نہ ذکر بہار کرتے ہیں

خزاں کی بات نہ ذکر بہار کرتے ہیں تو لوگ کیسے غموں کا شمار کرتے ہیں یہ اہل شہر جسے خاکسار کرتے ہیں بگولہ کہہ کے اسے بے وقار کرتے ہیں ابھی ہمیں کسی منزل کی جستجو ہی نہیں سفر برائے سفر اختیار کرتے ہیں یہ کس کے وصل کی خوشبو ہے رہ گزاروں میں کہ لوگ شام و سحر انتظار کرتے ہیں اگرچہ ...

مزید پڑھیے

نہ جانے کب بسر ہوئے نہ جانے کب گزر گئے

نہ جانے کب بسر ہوئے نہ جانے کب گزر گئے خوشی کے انتظار میں جو روز و شب گزر گئے ہر آنے والے شخص کا دباؤ میری سمت تھا میں راستے سے ہٹ گیا تو سب کے سب گزر گئے مرے لیے جو وقت کا شعور لے کے آئے تھے مجھے خبر ہی تب ہوئی وہ لمحے جب گزر گئے سمندروں کے ساحلوں پہ خاک اڑ رہی ہے اب جو تشنگی کی آب ...

مزید پڑھیے

ان سے ملنا کسی بہانے سے

ان سے ملنا کسی بہانے سے ورنہ مطلب شراب خانے سے نیند آ جائے گی سنا تو سہی حال دل کم نہیں فسانے سے ضبط غم سے ٹپک پڑے آنسو عشق چھپتا نہیں چھپانے سے آتش عشق بھی غضب ہے کوئی بھڑک اٹھتی ہے کچھ بجھانے سے ظلم کیا کیا سہے مگر رونقؔ تم نہ باز آئے دل لگانے سے

مزید پڑھیے

دل تک ہو چاک تیغ جو سر پر لگائیے

دل تک ہو چاک تیغ جو سر پر لگائیے عاشق ہوں ہاتھ سوچ سمجھ کر لگائیے چہرے پہ نازکی سے نہ آئے کہیں گزند رخسار سے نہ آپ گل تر لگائیے ساقی کے لطف خاص کی تعظیم ہے ضرور آنکھوں سے جام بادۂ احمر لگائیے ہے جی میں بہر نور نگہ اس کی خاک پا سرمہ کی جا اگر ہو میسر لگائیے یہ دل میں ہے کہ چھوڑ کے ...

مزید پڑھیے

نہ باتیں کیں نہ تسکیں دی نہ پہلو میں ذرا ٹھہرے

نہ باتیں کیں نہ تسکیں دی نہ پہلو میں ذرا ٹھہرے جو تم آئے تو کیا آئے جو تم ٹھہرے تو کیا ٹھہرے کس کا رنگ الفت کیا جمے واں یہ بھی مشکل ہے کہ ان کے دست و پا میں ایک دم رنگ حنا ٹھہرے دل مضطر بشکل برق دم لینے نہیں دیتا مجھے آرام آ جائے جو پہلو میں ذرا ٹھہرے وفاداری ہوئی بے کار مرنا کھیل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1611 سے 6203