قومی زبان

دل بتا اور کیا ہے ہونے کو

دل بتا اور کیا ہے ہونے کو چوٹ کھائی ہے میں نے رونے کو بے نوا خواب منتظر ہیں مرے رات باقی کہاں ہے سونے کو سوزن شوق کو شب ہجراں صرف آنسو ملے پرونے کو اپنی خوشیوں میں دوسروں کے غم حوصلہ چاہئے سمونے کو نہیں معلوم انتظام ہے کیا دامن زیست کے بھگونے کو نکہتوں کے دیار میں مجھ ...

مزید پڑھیے

دل سے نکلی ہے داستاں شاید

دل سے نکلی ہے داستاں شاید ایک اک حرف ہے زباں شاید آؤ آگے قدم بڑھائیں ذرا ٹھہرا ٹھہرا ہے کارواں شاید مجھ کو پہنچا دے میری منزل تک جذبۂ شوق کامراں شاید دل یقیناً ہے سلطنت اس کی ہے وہی دل پہ حکمراں شاید مستقل امتحان گاہ میں ہوں وہ بھی لے میرا امتحاں شاید آج ڈوبے ہیں گہری فکر ...

مزید پڑھیے

ہوں شامل سب میں اور سب سے جدا ہوں

ہوں شامل سب میں اور سب سے جدا ہوں میں خود یہ سوچتا رہتا ہوں کیا ہوں حصار ذات سے باہر نکل کر میں ہر صورت میں تجھ کو ڈھونڈھتا ہوں وہ مجھ سے دور بھی ہے پاس بھی ہے کبھی میں اپنے دل میں دیکھتا ہوں میں خود کچھ بھی نہیں ہوں یہ بھی سچ ہے نوا وہ ہے مگر میں ہم نوا ہوں کبھی میں اپنے عالم ...

مزید پڑھیے

آج بے چہرہ ہیں چہروں کے سمندر کتنے

آج بے چہرہ ہیں چہروں کے سمندر کتنے آئنے ڈھونڈتے پھرتے ہیں سکندر کتنے میں نے بچوں کے نمونے کے جو بنوائے تھے بہہ گئے وقت کے سیلاب میں وہ گھر کتنے ایک آنسو بھی نہیں ایک تبسم بھی نہیں مٹ گئے حرف غلط بن کے مقدر کتنے ہم نے اپنا ہی مکاں آج کھلا چھوڑ دیا پھینک سکتا ہے کہیں سے کوئی پتھر ...

مزید پڑھیے

نئے انداز سے وہ ہر ستم ایجاد کرتے ہیں

نئے انداز سے وہ ہر ستم ایجاد کرتے ہیں بظاہر داد ہوتی ہے مگر بیداد کرتے ہیں نظر کے سامنے جان نظر جب تم نہیں ہوتے تمہاری یاد سے ہم بزم دل آباد کرتے ہیں چمن والوں کی جان و دل پہ وہ گزری بہاروں میں چمن والے بہاروں میں خزاں کو یاد کرتے ہیں زمیں ہی کیا لرز جاتا ہے خود صیاد کا دل ...

مزید پڑھیے

جو دیر و حرم کو بہم دیکھتے ہیں

جو دیر و حرم کو بہم دیکھتے ہیں وہی آدمیت کے غم دیکھتے ہیں ہمیں دیکھ ہم وحشتوں کے جہاں سے تری زلف کے پیچ و خم دیکھتے ہیں عجب حادثہ ہے کہ ہم چشم گل سے عنادل کی آنکھوں کو نم دیکھتے ہیں مکاں میں ہی کیا لا مکاں میں بھی تو ہے تجھے نور و نکہت میں ہم دیکھتے ہیں مآل گلستاں فراموش کر ...

مزید پڑھیے

ہواؤں سے ہر شام پوچھا کریں گے

ہواؤں سے ہر شام پوچھا کریں گے وہ کب زخم دل کا مداوا کریں گے ملے گا نیا ایک غم ان کے در سے خوشی کی اگر ہم تمنا کریں گے مجھے خوف ہے ان کی محفل میں اک دن جنوں کے یہ انداز رسوا کریں گے تری یاد کے جھلملاتے دیے ہی مرے غم کدے میں اجالا کریں گے رضاؔ باعث درد دل وہ بنے ہیں سمجھتے تھے جن کو ...

مزید پڑھیے

یہ عمر گزری ہے اتنے ستم اٹھانے میں

یہ عمر گزری ہے اتنے ستم اٹھانے میں کہ خوف آتا ہے اگلا قدم اٹھانے میں زمیں کا مجھ سے حوالہ بھی ٹوٹ پایا نہیں میں سرفراز رہا تیرا غم اٹھانے میں ہر ایک شے پہ ہے یکسانیت کا غلبہ کیوں یہ امتیاز وجود و عدم اٹھانے میں چمک کے کوچۂ قاتل میں نیزے کیا کرتے کہ جوش خوں تھا ہمارے قلم اٹھانے ...

مزید پڑھیے

اپنے بیمار ستارے کا مداوا ہوتی

اپنے بیمار ستارے کا مداوا ہوتی درد کی رات اگر انجمن آرا ہوتی کچھ تو ہو جاتی تسلی دل پژمردہ کو گھر کی ویرانی جو سامان تماشا ہوتی زندگی اپنی اس آشفتہ مزاجی سے بنی یہ نہ ہوتی تو مری ذات بھی صحرا ہوتی ساری رونق ترے ہونے کے یقیں میں ہے نہاں تو نہ ہوتا تو بھلا کاہے کو دنیا ہوتی ہیں ...

مزید پڑھیے

کوئے قاتل سے جو گزرے گا بکھر جائے گا

کوئے قاتل سے جو گزرے گا بکھر جائے گا پر یہاں خوف کسے ہے کہ وہ مر جائے گا شہریت کے جہاں آئین سے چھن جائیں حقوق ایسی ترمیم سے کیا ملک سنور جائے گا حق کی آواز میں آواز ملاتے چلئے کارواں بڑھتا رہے گا یہ جدھر جائے گا چل رہے ہیں جو اندھیروں سے مقابل ہو کر آخر شب انہیں پیغام سحر جائے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1613 سے 6203