قومی زبان

رہزن نہیں حریف نہیں ہم سفر نہیں

رہزن نہیں حریف نہیں ہم سفر نہیں راہ طلب میں اہل ہوس کا گزر نہیں آئین بزم دہر سے تو بے خبر نہیں لیکن خدا کا شکر کہ میں کم نظر نہیں حسن نگاہ و کم نظری میں یہ فرق ہے سب با ہنر ہیں اور کوئی با ہنر نہیں نشر جفا و جور بھی ہے اک ادائے خاص حسن نگاہ لطف سے میں بے خبر نہیں نازاں ہیں اپنی ...

مزید پڑھیے

مری فطرت حقیقت آشنا معلوم ہوتی ہے

مری فطرت حقیقت آشنا معلوم ہوتی ہے نظر پڑتی ہے جس شے پر خدا معلوم ہوتی ہے سراپا سوز لیکن جاں فزا معلوم ہوتی ہے صدائے ساز دل حق کی صدا معلوم ہوتی ہے بہت خوش ظرف و خوش بیں ہے فضائے وادیٔ غربت بظاہر ہمدم‌ و درد آشنا معلوم ہوتی ہے یہ کیسی زندگی ہے اے اسیر دام خوش فہمی جفائے باغباں ...

مزید پڑھیے

اک خانماں خراب کی دولت کہیں جسے

اک خانماں خراب کی دولت کہیں جسے وہ درد دل میں ہے کہ محبت کہیں جسے رعنائی خیال کے قربان جائیے صورت ہے وہ نظر میں حقیقت کہیں جسے درد فراق یار کی مجبوریاں بجا اتنا تو ہو نہ شور قیامت کہیں جسے دے سکتا ہو تو دے مجھے داد ستم کشی یا وہ سلوک کر کہ عداوت کہیں جسے لذت کش نظارہ ہے تیری ...

مزید پڑھیے

دل نہیں پہلو میں درد دل نہیں

دل نہیں پہلو میں درد دل نہیں آہ اب جینے کا کچھ حاصل نہیں سرد ہے ہنگامۂ بزم جہاں میں نہیں تو گرمئ محفل نہیں آرزو جب تھی ہزاروں تھے حریف اب کوئی بھی غم گسار دل نہیں اے نگاہ شوق تو دھوکا نہ دے وہ تو ہے حد نظر ساحل نہیں رازؔ مل جاتی ہے فکروں سے نجات شاعری کا اور کچھ حاصل نہیں

مزید پڑھیے

دل کو حریف گردش دوراں کئے ہوئے

دل کو حریف گردش دوراں کئے ہوئے بیٹھا ہوا ہوں زیست کا ساماں کئے ہوئے اب مشکلات راہ محبت کا ذکر کیا اک عمر ہو گئی انہیں آساں کئے ہوئے پیتا ہوں روز پیتا ہوں تلخابۂ امید احساس لطف ساقیٔ دوراں کئے ہوئے بہلا رہا ہوں دل کو فریب خیال سے امید غم گساریٔ یاراں کئے ہوئے بت خانۂ مجاز سے ...

مزید پڑھیے

توفیق اگر رہبر منزل نہیں ہوتی

توفیق اگر رہبر منزل نہیں ہوتی معراج محبت کبھی حاصل نہیں ہوتی جو سوز محبت سے نہ ہو شعلہ بداماں وہ شمع کبھی رونق محفل نہیں ہوتی جو آنکھ نہ ہو حسن حقیقت کی شناسا وہ دید رخ یار کے قابل نہیں ہوتی جب تک نہ بھرے رنگ وفا مانیٔ فطرت تصویر محبت کبھی کامل نہیں ہوتی دل کش ہیں کچھ ایسے رہ ...

مزید پڑھیے

قصۂ حسن نہیں عشق کی روداد نہیں

قصۂ حسن نہیں عشق کی روداد نہیں حیف یہ بزم ترے ذکر سے آباد نہیں مورد رنج و الم کشتۂ بیداد نہیں وائے بر عیش جہاں مجھ کو خدا یاد نہیں ہم صفیران چمن واہ یہ پرسش یہ کرم اب مجھے شکوۂ بے مہریٔ صیاد نہیں میں ہوں ناشاد ازل خیر مگر حیرت ہے عشرت آباد جہاں میں بھی کوئی شاد نہیں قصۂ جور ...

مزید پڑھیے

ہے غنیمت یہ فریب شب وعدہ اے دل

ہے غنیمت یہ فریب شب وعدہ اے دل کیا کوئی دے گا تجھے اس سے زیادہ اے دل مدتوں جان چھڑکتے رہے جس لمس پہ وہ اوڑھ کر آ گیا خوشبو کا لبادہ اے دل سوچ زنجیر بہ پا فکر ہے پابند رسن کیا یہی صبح تمنا کا ہے جادہ اے دل اب بھی روشن کئے بیٹھا ہے امیدوں کے چراغ کتنا معصوم ہے تو کتنا ہے سادہ اے ...

مزید پڑھیے

ہم نشیں ایسی کوئی تدبیر ہونی چاہیے

ہم نشیں ایسی کوئی تدبیر ہونی چاہیے میرے قبضے میں مری تقدیر ہونی چاہیے ختم ہونا چاہیے اب قصۂ دیر و حرم خانقاہ زندگی تعمیر ہونی چاہیے امتیاز کفر و ایماں وقت پر ہو جائے گا دعوت مے خانہ عالمگیر ہونی چاہیے اور بڑھ جائیں ذرا تشنہ لبی کی تلخیاں دور ساغر میں ابھی تاخیر ہونی ...

مزید پڑھیے

پچھتانے سے کیا حاصل پچھتانے سے کیا ہوگا

پچھتانے سے کیا حاصل پچھتانے سے کیا ہوگا کچھ تو نے کیا ہوگا کچھ تجھ سے ہوا ہوگا جینے کا مزہ جب ہے جینے کا ہو کچھ حاصل یوں لاکھ جئے کوئی تو جینے سے کیا ہوگا پرسش کی نہیں حاجت پرسش کی ضرورت کیا معلوم ہے سب تجھ کو جو کچھ بھی ہوا ہوگا جب تک ہے خودی دل میں ہوگی نہ پذیرائی بیکار ہیں یہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1601 سے 6203