قومی زبان

جنوں کا راز محبت کا بھید پا نہ سکی

جنوں کا راز محبت کا بھید پا نہ سکی ہمارا ساتھ یہ دنیا مگر نبھا نہ سکی بکھر گیا ہوں فضاؤں میں بوئے گل کی طرح مرے وجود میں وسعت مری سما نہ سکی ہر اک قدم پہ صلیب آشنا ملے مجھ کو یہ کائنات وفاؤں کا بار اٹھا نہ سکی پٹک کے رہ گئی سر اپنا رہ گزاروں سے مری صدا دل کہسار میں سما نہ ...

مزید پڑھیے

زخم کچھ ایسے مرے قلب و جگر نے پائے

زخم کچھ ایسے مرے قلب و جگر نے پائے عمر بھر جو کسی عنوان نہ بھرنے پائے ہم نے اشکوں کے چراغوں سے سجا لیں پلکیں کہ ترے درد کی بارات گزرنے پائے اس سے کیا پوچھتے ہو فلسفۂ موت و حیات کہ جو زندہ بھی رہے اور نہ مرنے پائے اس لیے کم نظری کا بھی ستم سہنا پڑا تجھ پہ محفل میں کوئی نام نہ ...

مزید پڑھیے

یہ کس مقام پہ ٹھہرا ہے کاروان وفا

یہ کس مقام پہ ٹھہرا ہے کاروان وفا نہ روشنی کی کرن ہے کہیں نہ تازہ ہوا ہوئی ہے جب سے یہاں نطق و لب کی بخیہ گری سوائے حسرت اظہار دل میں کچھ نہ رہا اس اہتمام سے شب خوں پڑا کہ مدت سے اجاڑ سی نظر آتی ہے شہر دل کی فضا تمام عمر اسی کی تلاش میں گزری وہ ایک عکس جو آئینۂ نظر میں نہ تھا یہ ...

مزید پڑھیے

چڑھتے ہوئے دریا کی علامت نظر آئے

چڑھتے ہوئے دریا کی علامت نظر آئے غصے میں وہ کچھ اور قیامت نظر آئے گم اپنے ہی سائے میں ہیں ہٹ جائیں تو شاید کھویا ہوا اپنا قد و قامت نظر آئے کیا قہر ہے ہر سینے میں اک حشر بپا ہے اک آدھ گریباں تو سلامت نظر آئے کوچے سے ترے نکلے تو سب شہر تھا دشمن ہر آنکھ میں کچھ سنگ ملامت نظر ...

مزید پڑھیے

چپ ہو کیوں اے پیمبران قلم

چپ ہو کیوں اے پیمبران قلم بات چھیڑو کہ گزرے شام الم چشم حیرت سے دیکھتا ہے جہاں کس مصور کے شاہکار ہیں ہم ہم نکھاریں گے تیرا حسن و جمال ہم سنواریں گے تیری زلف کے خم بت شکن مطمئن نہ ہوں کہ ابھی نا تراشیدہ ہیں ہزاروں صنم بعد مرنے کے اے رضاؔ شاید کام آئیں ہمارے نقش قدم

مزید پڑھیے

یہ دور مسرت یہ تیور تمہارے

یہ دور مسرت یہ تیور تمہارے ابھرنے سے پہلے نہ ڈوبیں ستارے بھنور سے لڑو تند لہروں سے الجھو کہاں تک چلو گے کنارے کنارے عجب چیز ہے یہ محبت کی بازی جو ہارے وہ جیتے جو جیتے وہ ہارے سیہ ناگنیں بن کے ڈستی ہیں کرنیں کہاں کوئی یہ روز روشن گزارے سفینے وہاں ڈوب کر ہی رہے ہیں جہاں حوصلے ...

مزید پڑھیے

ہر عکس خود ایک آئنہ ہے

ہر عکس خود ایک آئنہ ہے ہر سایہ زباں سے بولتا ہے احساس کی تلخیوں میں ڈھل کر دل درد کا چاند بن گیا ہے سنتا ہو کوئی تو ہر کلی کے کھلنے میں شکست کی صدا ہے یوں آتی ہے تیری یاد اب تو جیسے کوئی دور کی صدا ہے گویا تھے تو کوئی بھی نہیں تھا اب چپ ہیں تو شہر دیکھتا ہے عاجز ہے اجل بھی اس کے ...

مزید پڑھیے

خراب عشق سہی عالم شہود میں ہوں

خراب عشق سہی عالم شہود میں ہوں ہوں اشک اشک مگر اپنے ہی وجود میں ہوں کسی نے نغموں میں تحلیل کر دیا ہے مجھے نہ گنگناؤ کہ میں پردۂ سرود میں ہوں تو اپنی ذات سے مجھ کو الگ نہ جان کہ میں ترے جمال کی نکہت کے تار و پود میں ہوں ہزار رنگ میں دیکھا ہے مجھ کو دنیا نے ازل سے تا بہ ابد نشۂ ...

مزید پڑھیے

معمورۂ افکار میں اک حشر بپا ہے

معمورۂ افکار میں اک حشر بپا ہے ادراک بھی انساں کے لیے طرفہ بلا ہے ہر نقش اگر تیرا ہی نقش کف پا ہے پھر میرے لیے کوئی سزا ہے نہ جزا ہے ہونٹوں پہ ہنسی سینوں میں کہرام بپا ہے دیوانوں نے جینے کا چلن سیکھ لیا ہے اب دشت جنوں بھی جو سمٹ آئے عجب کیا دیوانہ کوئی لے کے ترا نام چلا ہے اک ...

مزید پڑھیے

صحرائے خیال کا دیا ہوں

صحرائے خیال کا دیا ہوں ویرانۂ شب میں جل رہا ہوں ساغر کی طرح سے چور ہو کر محفل میں بکھر بکھر گیا ہوں اپنے ہی لہو کی روشنی میں نیرنگ جہاں کو دیکھتا ہوں وہ چاند ہوں گردشوں میں آ کر خود اپنی نظر سے کٹ گیا ہوں ہر عہد ہے میرے دم سے رنگین میں نغمۂ ساز ارتقا ہوں آئینہ صفت نظر سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1600 سے 6203