قومی زبان

نگاہ شوق وقف حسن فطرت ہوتی جاتی ہے

نگاہ شوق وقف حسن فطرت ہوتی جاتی ہے طبیعت محرم راز محبت ہوتی جاتی ہے نمایاں شوخیٔ رنگ طبیعت ہوتی جاتی ہے کہ ہر کافر ادا سے اب محبت ہوتی جاتی ہے محبت آہ کیا شے ہے محبت کیا کہوں تم سے مجھے معلوم دل کی قدر و قیمت ہوتی جاتی ہے مرا ذوق پرستش ہے جدا سارے زمانے سے محبت کرتا جاتا ہوں ...

مزید پڑھیے

سچ تو یہ ہے کہ دیدہ ور ہو تم

سچ تو یہ ہے کہ دیدہ ور ہو تم بے خبر ہم ہیں با خبر ہو تم واقف راز خیر و شر ہو تم خوش خیال اور خوش نظر ہو تم آشنائے رموز کن فیکن راز ہستی سے با خبر ہو تم جس سے روشن ہے مطلع امید شام غربت میں وہ سحر ہو تم کون ہے یہ حریف شعلۂ طور اے میں قربان جلوہ گر ہو تم دشت غربت میں راہ ہستی ...

مزید پڑھیے

خودی کیا اور خودی کا مدعا کیا

خودی کیا اور خودی کا مدعا کیا جو بندہ ہے بنے گا وہ خدا کیا کسی خودبیں سے ہوتا آشنا کیا تجھے دیکھا تھا دنیا دیکھتا کیا قیامت خیز جس کی ابتدا ہو پھر اس کی انتہا کا پوچھنا کیا ترے جلووں نے فرصت ہی نہیں دی میں نیرنگ زمانہ دیکھتا کیا تجلی راز ہے صحرائے ہستی حریم حسن کا پردہ اٹھا ...

مزید پڑھیے

عشرت حال میں اندیشۂ فردا کرنا

عشرت حال میں اندیشۂ فردا کرنا میرے مشرب میں نہیں یہ غم بے جا کرنا فکر انجام نہیں فرض کسی مے کش پر ہاں مگر بادۂ آغاز کی پروا کرنا محو نظارہ زمانہ ہے مگر حاصل دید ایسا آساں نہیں دنیا کا نظارا کرنا حاصل زیست ہے کیا مے کدۂ ہستی میں تلخیٔ بادۂ امید گوارا کرنا دیکھ اے بے خودیٔ ...

مزید پڑھیے

دل ربا بھی وہ دل نواز بھی ہے

دل ربا بھی وہ دل نواز بھی ہے اور پھر سب سے بے نیاز بھی ہے روح فرسا ہے سوز عشق مگر مجھ سے پوچھو تو جاں نواز بھی ہے شکوۂ دور آسماں ہی نہیں اپنی قسمت پہ مجھ کو ناز بھی ہے کیا تماشا ہے محفل ہستی اک حقیقت بھی ہے مجاز بھی ہے جو خدا سے بھی کہہ نہیں سکتا میرے دل میں نہاں وہ راز بھی ...

مزید پڑھیے

تم بھی اس سوکھتے تالاب کا چہرہ دیکھو

تم بھی اس سوکھتے تالاب کا چہرہ دیکھو اور پھر میری طرح خواب میں دریا دیکھو اب یہ پتھرائی ہوئی آنکھیں لیے پھرتے رہو میں نے کب تم سے کہا تھا مجھے اتنا دیکھو روشنی اپنی طرف آتی ہوئی لگتی ہے تم کسی روز مرے شہر کا چہرہ دیکھو حضرت خضر تو اس راہ میں ملنے سے رہے میری مانو تو کسی پیڑ کا ...

مزید پڑھیے

روشنی ہونے لگی ہے مجھ میں

روشنی ہونے لگی ہے مجھ میں کوئی شے ٹوٹ رہی ہے مجھ میں میرے چہرے سے عیاں کچھ بھی نہیں یہ کمی ہے تو کمی ہے مجھ میں بات یہ ہے کہ بیاں کیسے کروں ایک عورت بھی چھپی ہے مجھ میں اب کسی ہاتھ میں پتھر بھی نہیں اور اک نیکی بچی ہے مجھ میں بھیگے لفظوں کی ضرورت کیا تھی ایسی کیا آگ لگی ہے مجھ ...

مزید پڑھیے

اس کا خیال آتے ہی منظر بدل گیا

اس کا خیال آتے ہی منظر بدل گیا مطلع سنا رہا تھا کہ مقطع پھسل گیا بازی لگی ہوئی تھی عروج و زوال کی میں آسماں مزاج زمیں پر مچل گیا چاروں طرف اداس سفیدی بکھر گئی وہ آدمی تو شہر کا منظر بدل گیا تم نے جمالیات بہت دیر سے پڑھی پتھر سے دل لگانے کا موقع نکل گیا سارا مزاج نور تھا سارا ...

مزید پڑھیے

کوئی زخم کھلا تو سہنے لگے کوئی ٹیس اٹھی لہرانے لگے

کوئی زخم کھلا تو سہنے لگے کوئی ٹیس اٹھی لہرانے لگے یہ کس کی دعا کا فیض ہوا ہم کیا کیا کام دکھانے لگے دل زار اسی بستی میں چل ترے نام کی سرسوں پھولی ہے چاندی کی سڑک پر چلتے ہوئے اب پاؤں ترے کمھلانے لگے کوئی ڈوب گیا تو کیا ڈوبا کوئی پار اترا تو کیا اترا پر کیا کہیے دل دریا کی جو پاؤں ...

مزید پڑھیے

نگاہ عشق میں تابندگی نہیں ملتی

نگاہ عشق میں تابندگی نہیں ملتی چراغ حسن سے اب روشنی نہیں ملتی سر نیاز جھکائے گا کیا کوئی خوددار نگاہ ناز سے جب داد ہی نہیں ملتی شریک درد محبت کوئی نہیں ہوتا کسی سے داد‌ محبت کبھی نہیں ملتی نگاہ ساقیٔ رعنا کا یہ بھی احساں ہے بقدر ذوق مئے آگہی نہیں ملتی یہ مے کدہ ہے یہاں قید ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1602 سے 6203