پھل پھینک کے ہمسائے کے گھر تنگ کرے گا
پھل پھینک کے ہمسائے کے گھر تنگ کرے گا اک روز یہ آنگن کا شجر تنگ کرے گا لگتا تھا بچھڑ کے میں بہا لوں گی دو آنسو معلوم نہ تھا دیدۂ تر تنگ کرے گا ہنس کر تجھے ملتی ہوں تو یہ بات بھی سن لے میں رو بھی پڑوں گی تو اگر تنگ کرے گا خوش فہمیاں تا عمر نہیں ساتھ نبھاتیں اک روز تجھے حسن نظر تنگ ...