قومی زبان

پھل پھینک کے ہمسائے کے گھر تنگ کرے گا

پھل پھینک کے ہمسائے کے گھر تنگ کرے گا اک روز یہ آنگن کا شجر تنگ کرے گا لگتا تھا بچھڑ کے میں بہا لوں گی دو آنسو معلوم نہ تھا دیدۂ تر تنگ کرے گا ہنس کر تجھے ملتی ہوں تو یہ بات بھی سن لے میں رو بھی پڑوں گی تو اگر تنگ کرے گا خوش فہمیاں تا عمر نہیں ساتھ نبھاتیں اک روز تجھے حسن نظر تنگ ...

مزید پڑھیے

وہ ایک شخص جو آنسو بہانے والا ہے

وہ ایک شخص جو آنسو بہانے والا ہے تمام شہر کی خوشیاں چرانے والا ہے ابھی میں دیکھ کے آئی ہوں اس کی آنکھ کو تمہارے شہر میں سیلاب آنے والا ہے تمہاری آنکھوں پہ جاؤں کہ ہنستے ہونٹوں پر تمہارا ڈھنگ سمجھ میں نہ آنے والا ہے کہاں ہیں دودھ کی نہریں نکالنے والے یہاں تو جو بھی ہے باتیں ...

مزید پڑھیے

آنکھوں میں کسی یاد کا رس گھول رہی ہوں

آنکھوں میں کسی یاد کا رس گھول رہی ہوں الجھے ہوئے پلو سے گرہ کھول رہی ہوں وہ آئے خریدے مجھے پنجرے میں بٹھا دے میں باغ میں مینا کی طرح بول رہی ہوں ہر بار ہوا ہے مرے نقصان کا سودا کہنے کو ہمیشہ سے میں انمول رہی ہوں

مزید پڑھیے

محبت سے مکر جانا ضروری ہو گیا تھا

محبت سے مکر جانا ضروری ہو گیا تھا پلٹ کے اپنے گھر جانا ضروری ہو گیا تھا نظر انداز کرنے کی سزا دینی تھی تجھ کو ترے دل میں اتر جانا ضروری ہو گیا تھا میں سناٹے کے جنگل سے بہت تنگ آ گئی تھی کسی آواز پر جانا ضروری ہو گیا تھا میں سسی کی طرح سوتی رہی اور چل دیے تم بتا دیتے اگر جانا ...

مزید پڑھیے

انگلیاں پھیر رہا تھا وہ خیالوں میں کہیں

انگلیاں پھیر رہا تھا وہ خیالوں میں کہیں لمس محسوس ہوا ہے مرے بالوں میں کہیں اب مرا ساتھ نہیں دیتا پیادہ دل کا ہار جاؤں نہ میں آ کر تری چالوں میں کہیں اس تشخص پہ بھی رہتا ہے یہ دھڑکا دل کو کھو نہ جاؤں میں ترے چاہنے والوں میں کہیں ایک سورج نے مجھے چاند کا رتبہ بخشا ورنہ ہوتی میں ...

مزید پڑھیے

اس کا چہرہ بھی سناتا ہے کہانی اس کی

اس کا چہرہ بھی سناتا ہے کہانی اس کی چاہتی ہوں کہ سنوں اس سے زبانی اس کی وہ ستم گر ہے تو اب اس سے شکایت کیسی اور ستم کرنا بھی عادت ہے پرانی اس کی بیش قیمت ہے یہ موتی سے مری پلکوں پر چند آنسو ہیں مرے پاس نشانی اس کی اس جفا کار کو معلوم نہیں وہ کیا ہے بے مروت کو ہے تصویر دکھانی اس ...

مزید پڑھیے

مجھ کو ڈولی میں بٹھا ڈر کے حوالے کر دے

مجھ کو ڈولی میں بٹھا ڈر کے حوالے کر دے میری ماں مجھ کو مقدر کے حوالے کر دے اب یہ احساس کہ دنیا میں کوئی میرا نہیں جانے کب مجھ کو سمندر کے حوالے کر دے اس قبیلے سے نہیں میں کہ جو اپنی لڑکی جنگ کے خوف سے لشکر کے حوالے کر دے گھومنے پھرنے کا حق رکھتی ہے پھر بھی تتلی کس لیے خود کو گل تر ...

مزید پڑھیے

میں بالعموم جو ہونٹوں کو بند رکھتی ہوں

میں بالعموم جو ہونٹوں کو بند رکھتی ہوں مخالفت میں بھی اپنی پسند رکھتی ہوں میں جانتی ہوں کہ مجھ سے نہ بن پڑے گا کچھ یہی بہت ہے دل درد مند رکھتی ہوں یہ کم نہیں کہ جلوس جہاں میں رہ کر بھی کسی کی یاد کا پرچم بلند رکھتی ہوں ترے اصول محبت سے مجھ کو شکوہ ہے مگر میں خود کو ترا کار بند ...

مزید پڑھیے

فرصت نہیں ہے مجھ کو محبت کے کھیل سے

فرصت نہیں ہے مجھ کو محبت کے کھیل سے میں کیوں لڑائی لوں کسی پاگل چڑیل سے یہ ظلم بھی ہوا ہے محبت کے نام پر بانوئے شہر کھینچی گئی ہے نکیل سے اس سے بچھڑ کے خود کو سنبھالا نہیں گیا لگتا ہے گر پڑی ہوں کسی چلتی ریل سے اب میں کہاں وصال کا پودا لگاؤں گی یہ گھر تو بھر گیا ہے اداسی کی بیل ...

مزید پڑھیے

لفظوں میں ان کا نقش کف پا دکھائی دے

لفظوں میں ان کا نقش کف پا دکھائی دے نعت نبی کہوں تو مدینہ دکھائی دے ہر دم ہو جس کو رحمت عالم ترا خیال طوفان میں بھی اس کو جزیرہ دکھائی دے نعت نبی کے ساتھ میں پڑھتی رہوں درود مجھ کو یہی نجات کا رستہ دکھائی دے دے میری آنکھ کو بھی بصارت مرے خدا جو شخص ان کا ہو وہی ان کا دکھائی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1587 سے 6203