قومی زبان

میں جب بھی یاد کی شمعیں جلا کے رکھتی ہوں

میں جب بھی یاد کی شمعیں جلا کے رکھتی ہوں یہ میری ضد ہے کہ آگے ہوا کے رکھتی ہوں میں ٹوٹ سکتی ہوں لیکن میں جھک نہیں سکتی شکست ذات میں پہلو انا کے رکھتی ہوں وہ بادباں ہے اگر کشتیٔ محبت کا میں بادبان سے رشتے ہوا کے رکھتی ہوں نہیں ہے گھر میں تری یاد کے علاوہ کچھ تو کس کے سامنے چائے ...

مزید پڑھیے

گھر سے باہر تھی نہ گھر بیٹھی رہی

گھر سے باہر تھی نہ گھر بیٹھی رہی سوچ کی دہلیز پر بیٹھی رہی یہ محبت تھی کہ برقی تار پر کوئی چڑیا رات بھر بیٹھی رہی میرا سورج ہی نہیں آیا ادھر میں ستارے اوڑھ کر بیٹھی رہی جانے کس کی آس میں اک فاختہ صحن کی دیوار پر بیٹھی رہی اٹھ گئے اک ایک کر کے سارے لوگ اجڑی محفل میں قمرؔ بیٹھی ...

مزید پڑھیے

دل تو ہے ایک مگر درد کے خانے ہیں بہت

دل تو ہے ایک مگر درد کے خانے ہیں بہت اس لیے مجھ کو بھی رونے کے بہانے ہیں بہت اب نئے دوست بنانے کی تو ہمت ہی نہیں دل سے نزدیک ہیں جو دوست پرانے ہیں بہت دل سکوں پائے جہاں ایسے بسیرے کتنے یوں تو کہیے کہ مسافر کو ٹھکانے ہیں بہت در کبھی خواب کا کھلتا ہے عذابوں کی طرف یہ نہ کہیے کہ ...

مزید پڑھیے

اک صحیفہ نیا اترا ہے سنا ہے لوگو

اک صحیفہ نیا اترا ہے سنا ہے لوگو مارنا دوست کا بھی جس میں روا ہے لوگو ہم نے جو کچھ نہ کیا اس کی سزا بھی پائی اور وہ جو بھی کرے سب ہی روا ہے لوگو ظلم کی حد ہے جہاں ختم وہاں پر وہ ہے ڈھونڈ لو اس کو یہی اس کا پتا ہے لوگو دل میں اک شعلۂ امید تھا سو سرد ہوا چاند ماتھے کا مرے کب کا بجھا ہے ...

مزید پڑھیے

دل کے درد کے کم ہونے کا تنہا کچھ سامان ہوا

دل کے درد کے کم ہونے کا تنہا کچھ سامان ہوا ہم بھی اب کے دن جی لیں گے اس کا بھی امکان ہوا ایک دیے کی لو نے سارا شہر جلا کر خاک کیا ایک ہوا کا جھونکا بن کر آندھی اور طوفان ہوا آرزوؤں کی نیچی سانس نے اس در پر دستک دی اور جنوں کا اک اک لمحہ میرے گھر مہمان ہوا وقت کا کٹنا اس سے پوچھو ...

مزید پڑھیے

اذیتوں سے نکلنے کا مشورہ دیتی

اذیتوں سے نکلنے کا مشورہ دیتی میں اس کی تھی تو نہیں پھر بھی حوصلہ دیتی کسی عذاب سے کم تو نہیں ہے خوش رہنا دعا کے نام پہ کیوں اس کو بد دعا دیتی چھپا بھی لیتی مرے بھید کو اگر بالفرض ہوا کا کیا ہے کوئی اور گل کھلا دیتی بجا کہ سہل نہ تھا اس کا ہم سفر ہونا کم از کم اس کو پلٹنے کا راستہ ...

مزید پڑھیے

کبھی سورج ہے کبھی زہرہ جمالوں جیسا

کبھی سورج ہے کبھی زہرہ جمالوں جیسا کیوں وہ لگتا ہے مجھے میری مثالوں جیسا ہر طرح سے وہ بہت اچھا ہے لیکن اس کو دیکھنا چاہتی ہوں اپنے خیالوں جیسا چاہتی ہوں کہ کروں اس سے محبت کھل کر لیکن انجام نہ ہو چاہنے والوں جیسا کس طرح مان لوں میں اس کی نصابی باتیں اس کا موقف ہے کتابوں کے ...

مزید پڑھیے

یہ چاند جو بچوں کا کھلونا ہے مری دوست

یہ چاند جو بچوں کا کھلونا ہے مری دوست کھو جائے گا اس بات کا رونا ہے مری دوست یہ زردی رخسار نہ مٹی میں ملے گی یہ زردی رخسار تو سونا ہے مری دوست چل باغ میں روتے ہیں گلابوں سے لپٹ کر گھر میں بھی تو تکیہ ہی بھگونا ہے مری دوست موجود بھی ایسے ہوں کہ موجود نہیں ہوں ثابت مرے ہونے سے نہ ...

مزید پڑھیے

بہے ہیں اشک نہ ابھری ہیں سسکیاں میری

بہے ہیں اشک نہ ابھری ہیں سسکیاں میری ہوا سناتی پھری ہے کہانیاں میری مری اداسی کا جب بھی انہیں ہوا معلوم تمہارا پوچھنے آئیں سہیلیاں میری یہ گھر کے لوگ چلے جائیں گے پہاڑوں پر ترے خیال میں گزریں گی چھٹیاں میری نہ کوئی پینگ پڑی ہے نہ پھول آئے ہیں بہت اداس ہیں کچھ دن سے ٹہنیاں ...

مزید پڑھیے

مجھے وہ کیفیت اپنی بتانے کیوں نہیں آیا

مجھے وہ کیفیت اپنی بتانے کیوں نہیں آیا تجھے معلوم تو ہوگا زمانے کیوں نہیں آیا وہ سورج ہے تو پھر اس کے نہ آنے کا سبب کیا ہے مرے سائے سے ملنے کے بہانے کیوں نہیں آیا میں اس کو کھینچتی ہی رہ گئی لیکن نہ آیا وہ وہ میرا سانس تھا اور سانس جانے کیوں نہیں آیا مری خالی کلائی کہہ رہی ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1586 سے 6203