قومی زبان

تری تلاش سے مجھ کو کبھی مفر نہ ملے

تری تلاش سے مجھ کو کبھی مفر نہ ملے میں چاہتا ہوں مجھے تیرا سنگ در نہ ملے نفس نفس تو ملے وہ نظر نظر نہ ملے وہ عمر بھر بھی ملے اور عمر بھر نہ ملے رلائے جا غم فرقت بہ شان خودداری وہ حال پوچھنے آئیں تو آنکھ تر نہ ملے ہے درد عشق ہی دراصل زندگی میری خدا کرے مجھے غم خوار و چارہ گر نہ ...

مزید پڑھیے

چاہتوں کا جو شجر ہے دوستو

چاہتوں کا جو شجر ہے دوستو آج بے برگ و ثمر ہے دوستو اڑ رہی ہے جو ستاروں سے پرے اپنی ہی گرد سفر ہے دوستو دامن زریں امیر شہر کا خون میں اپنے ہی تر ہے دوستو اشک غم پی پی کے اپنے شہر میں مسکرانا بھی ہنر ہے دوستو منزل خورشید سے آگے چلو موسم پرواز و پر ہے دوستو کار ہائے زندگی ہیں ...

مزید پڑھیے

نہیں ہیں دیر و حرم صاحب نظر کے لئے

نہیں ہیں دیر و حرم صاحب نظر کے لئے مچل رہی ہے جبیں تیرے سنگ در کے لئے ہمارے پاؤں کے بوسے لئے ستاروں نے تمہاری راہ میں نکلے جو ہم سفر کے لئے یہ کیسی انجمن ناز ہے کہ دیوانے ترس رہے ہیں قرار دل و نظر کے لئے صبا یہ کوچۂ جاناں میں جا کے کہہ دینا ذرا سی خاک ملے سرمۂ نظر کے لئے کسی کا ...

مزید پڑھیے

ذوق تلاش یار کہاں سے کہاں ہے آج

ذوق تلاش یار کہاں سے کہاں ہے آج اب میری گرد راہ سفر کہکشاں ہے آج صدیوں سے ظلمتوں کا زمانے پہ راج ہے اے آفتاب صبح تری ضو کہاں ہے آج جن منزلوں کی گرد فرشتے نہ چھو سکے ان منزلوں کے پاس مرا کارواں ہے آج باب حرم ہے وا نہ کلیسا کے در ہیں وا یارو چلو کہ وا در پیر مغاں ہے آج رفعتؔ یہ ...

مزید پڑھیے

رہتی ہے یاد یار دل بے قرار میں

رہتی ہے یاد یار دل بے قرار میں ٹھہرا ہوا ہے جام کف رعشہ دار میں اتنا خلوص زاہد شب زندہ دار میں شاید کہ یہ نماز ہے حوروں کے پیار میں جیتے رہیں گے گردش لیل و نہار میں پیتے رہیں گے موسم نا سازگار میں زاہد یہ میرے اشک ندامت تو دیکھنا ہوتے ہیں جذب دامن پروردگار میں ہے زندگی تو جیت ...

مزید پڑھیے

عزم سفر جب خام نہیں ہے

عزم سفر جب خام نہیں ہے پھر منزل دو گام نہیں ہے عشق حبیب حق ہے جن کو ان کو غم ایام نہیں ہے اس کو سزا دیتے ہیں منصف جس پہ کوئی الزام نہیں ہے اختر شعریؔ کے در جیسا شہر میں فیض عام نہیں ہے آئینہ مت دیکھو رفعتؔ اب چہرہ گلفام نہیں ہے

مزید پڑھیے

جواب ان کی جفاؤں کا یوں دیا جائے

جواب ان کی جفاؤں کا یوں دیا جائے دلوں سے نقش وفا ہی مٹا دیا جائے سرشک خون جگر زہر یا شراب اے دوست بتا یہ تو کہ ترے غم میں کیا پیا جائے جو کوئی چاک گریباں کہیں ملے یارو تو اپنے تار گریباں سے وہ سیا جائے کسی کے ہاتھ میں خنجر کسی ہتھیلی پہ سر تمہارے شہر میں اب کس طرح جیا جائے جہان ...

مزید پڑھیے

کب کہا تھا کہ وہ تحفہ مجھے واپس کر دے

کب کہا تھا کہ وہ تحفہ مجھے واپس کر دے تیری مرضی ہے تو اچھا مجھے واپس کر دے اب بھی گڑیوں میں لگا سکتی ہوں اپنے دل کو میری چھوٹی سی وہ دنیا مجھے واپس کر دے جتنے آنسو ہیں مرے پاس وہ لے لے سارے اور وہ ضبط کا لمحہ مجھے واپس کر دے دل کو لوٹا کے مرے دوست غمی کیا ہونا میں نے کب تجھ سے کہا ...

مزید پڑھیے

جب یاد آیا تیرا مہکتا بدن مجھے

جب یاد آیا تیرا مہکتا بدن مجھے بہلا سکی نہ بوئے گل و یاسمن مجھے سڑکوں پہ جو پھراتے تھے بے پیرہن مجھے اب دینے آئے ہیں وہ مرے گھر کفن مجھے اہل خرد کے سائے سے یہ دھوپ ہی بھلی دیتا ہے مشورہ مرا دیوانہ پن مجھے اک آرزو ہے دولت کونین سے سوا کہہ کر پکاریں لوگ شہید وطن مجھے فکر حیات و ...

مزید پڑھیے

مستانہ خوشبوؤں سے نہائے ہوئے بدن

مستانہ خوشبوؤں سے نہائے ہوئے بدن سر پر غلاظتوں کو اٹھائے ہوئے بدن بوسیدہ چیتھڑوں میں سر راہ دیکھیے زخموں کو مفلسی کے چھپائے ہوئے بدن شاہی حرم سراؤں میں پھولوں کی سیج پر ہیروں سے موتیوں سے سجائے ہوئے بدن کوٹھوں پہ زرد چہروں میں پژمردہ و اداس اہل ہوس کے ہاتھوں بٹھائے ہوئے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1588 سے 6203