ارض و سما فریب نہ یہ بحر و بر فریب
ارض و سما فریب نہ یہ بحر و بر فریب ہے اصل میں یہ سارا فریب نظر فریب پہلے سے ہم گزیدۂ احباب ہیں بہت اس پر یہ مستزاد ہو تو بھی اگر فریب کس کس کو روئیں کوچۂ بے اعتبار میں چارا فریب ہے تو کبھی چارہ گر فریب باندھا تھا جو بھی گھر سے وہ زنبیل میں نہیں آخر کو دے گیا ہمیں زاد سفر ...