قومی زبان

ارض و سما فریب نہ یہ بحر و بر فریب

ارض و سما فریب نہ یہ بحر و بر فریب ہے اصل میں یہ سارا فریب نظر فریب پہلے سے ہم گزیدۂ احباب ہیں بہت اس پر یہ مستزاد ہو تو بھی اگر فریب کس کس کو روئیں کوچۂ بے اعتبار میں چارا فریب ہے تو کبھی چارہ گر فریب باندھا تھا جو بھی گھر سے وہ زنبیل میں نہیں آخر کو دے گیا ہمیں زاد سفر ...

مزید پڑھیے

کہ تیرے شہر سے آتی سڑک سے منسلک ہیں

کہ تیرے شہر سے آتی سڑک سے منسلک ہیں مری خوشیاں ترے غم کی کمک سے منسلک ہیں ہماری بات میں کچھ وزن ہو تو کس طرح ہو کہ ہم تو غیر کے نان و نمک سے منسلک ہیں اسے دیکھوں تو پھر مجھ کو دکھائی دے ذرا کچھ مری آنکھیں ان آنکھوں کی چمک سے منسلک ہیں ترے ماضی سے تو گہرا تعلق ہے ہمارا ستم یہ ہے کہ ...

مزید پڑھیے

جشن گریہ کے علاوہ بھی تماشا ہو تو

جشن گریہ کے علاوہ بھی تماشا ہو تو اب علاوہ کے علاوہ بھی تماشا ہو تو کاش اب کے نہ کسی شے کی طلب ہم کو رہے اب تمنا کے علاوہ بھی تماشا ہو تو مہلت محفل خوش رنگ پس زنداں ہو حبس بے جا کے علاوہ بھی تماشا ہو تو اب تو یہ رونق یک منظری کھلتی ہے بہت اب کہیں جا کے علاوہ بھی تماشا ہو تو یعنی ...

مزید پڑھیے

دیار عشق میں روشن دماغ تھے ہم بھی

دیار عشق میں روشن دماغ تھے ہم بھی وہ خوش نظر تھا بہت سبز باغ تھے ہم بھی ہر ایک رشتہ تھا منکر ہماری ہستی سے نگار زیست کے دامن کا داغ تھے ہم بھی خزاں کا دور بھی ہوتا تو فصل گل ہوتی کسی کے فیض نظر سے وہ باغ تھے ہم بھی یہ اور بات ہمیں آج تم نہ پہچانو تمہاری بزم کا روشن چراغ تھے ہم ...

مزید پڑھیے

کرنا نہ تھا جو کام زیادہ کیا گیا

کرنا نہ تھا جو کام زیادہ کیا گیا جذبات کو لگام زیادہ کیا گیا انسان کے مقام پہ رکھا گیا ہمیں یعنی ہمیں غلام زیادہ کیا گیا پہلے تو کوئی کام سرے سے ہوا نہیں پھر اس کا اختتام زیادہ کیا گیا باقی تو ٹھیک ٹھاک تھے حالات شہر میں تھوڑا سا قتل عام زیادہ کیا گیا کوشش کے باوجود کہیں مل ...

مزید پڑھیے

اے ستم گار اے ہوا صورت

اے ستم گار اے ہوا صورت گاہے گاہے ہمیں دکھا صورت کوئی صورت نہیں ہے اب ممکن ہے یہی ایک ممکنہ صورت جان میں جان آئی مدت بعد جب نظر آئی آشنا صورت گفتگو غیر سے رہی اس کی میں فقط دیکھتا رہا صورت ذہن و دل میں سمائے گی کیسے یہ تصور سے ماورا صورت پارکوں میں دکھائی دیتی ہے ایک سے ایک دل ...

مزید پڑھیے

فلاں سے کام چلتا ہے فلاں سے کام چلتا ہے

فلاں سے کام چلتا ہے فلاں سے کام چلتا ہے چلائیں وہ جہاں سے بھی وہاں سے کام چلتا ہے کبھی بھولے سے کر لیتے ہیں ان کا تذکرہ ہم بھی کبھی اپنا بھی یاد رفتگاں سے کام چلتا ہے تمہاری شاعری جیسی بھی ہے جو کچھ بھی ہے لیکن تمہارا صرف انداز بیاں سے کام چلتا ہے تلاوت اور تسبیحات سے آغاز کرتے ...

مزید پڑھیے

ایسے وہ مرے شہر کی تقدیر سے کھیلے

ایسے وہ مرے شہر کی تقدیر سے کھیلے جیسے کوئی بچہ کسی تصویر سے کھیلے رہنا ہے اسے اور بھی کچھ روز قفس میں قیدی سے کہو صبر کی زنجیر سے کھیلے اترا ہے مرے ذہن سے پیکر ترا لیکن دل اب بھی ترے لمس کی تاثیر سے کھیلے ممکن تھا محبت میں ہمیں مات نہ ہوتی یہ کھیل مگر ہم بڑی تاخیر سے کھیلے یہ ...

مزید پڑھیے

پرانے ہو گئے گھر بیٹھے بیٹھے

پرانے ہو گئے گھر بیٹھے بیٹھے مرے دیوار اور در بیٹھے بیٹھے ہمارے جسم کا حصہ بنا ہے ہمارے ذہن میں ڈر بیٹھے بیٹھے پڑی ہے ایسی عادت ٹھوکروں کی ہمیں لگتی ہے ٹھوکر بیٹھے بیٹھے میں رہتا ہوں مسافت میں ہمیشہ سفر کرتا ہوں اکثر بیٹھے بیٹھے چلی جاتی ہے پھر اٹھ کر اچانک خوشی میرے برابر ...

مزید پڑھیے

طریق عشق میں اندیشۂ زیاں نہ رہا

طریق عشق میں اندیشۂ زیاں نہ رہا اسی کا نام رہا جس کا کچھ نشاں نہ رہا کہیں گلوں میں کہیں مہر‌‌ و ماہ و انجم میں نظر نظر کے لئے وہ کہاں کہاں نہ رہا لئے تھے بڑھ کے قدم جس کے قرب منزل نے وہ کارواں نہ رہا میر کارواں نہ رہا جنہوں نے خون سے کی آبیاریٔ گلشن انہیں کا صحن گلستاں میں آشیاں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1543 سے 6203