قومی زبان

درد و غم کو ہستئ کم مایہ کا حاصل سمجھ

درد و غم کو ہستئ کم مایہ کا حاصل سمجھ درس گاہ عشق کی یہ رمز اے غافل سمجھ جستجو در جستجو آسان ہر مشکل سمجھ غم نہ کر تدبیر کو تقدیر کا حاصل سمجھ بھول کر بھی کوئی حرف دل شکن لب پر نہ لا حق تو یہ ہے دوسرے کے دل کو اپنا دل سمجھ راہ الفت میں جسے گم گشتگی حاصل ہوئی ایسے خوش تقدیر کو ...

مزید پڑھیے

اکثر میں سوچتی ہوں کہ ایسا ہوا ہے کیوں

اکثر میں سوچتی ہوں کہ ایسا ہوا ہے کیوں مایوس ہوں خدا سے تو لب پر دعا ہے کیوں دل کی زمیں وہی ہے وہی ہے ہوائے دہر پھر شاخ غم پہ ایک ہی پتا ہرا ہے کیوں ماضی نہ ہو تو حال کی پہچان بھی نہ ہو پھر زندگی پہ وقت کا پہرا لگا ہے کیوں اس کے بغیر کیسے گزاری ہے زندگی سب کچھ وہ جانتا ہے تو پھر ...

مزید پڑھیے

میرے حق میں نہیں حالات نہیں مانتی میں

میرے حق میں نہیں حالات نہیں مانتی میں گردش وقت تری بات نہیں مانتی میں ایک پیادے کی یہ اوقات نہیں مانتی میں بادشاہوں کو بھی دے مات نہیں مانتی میں زندگی جیسے گزرتی ہے وہ دل جانتا ہے زندگی کو تری سوغات نہیں مانتی میں ساتھ دینا ہے تو پھر ہاتھ بھی دینا ہوگا دو کناروں کی طرح سات ...

مزید پڑھیے

میری خوبی سے نکھرنے نہیں دیتا مجھ کو

میری خوبی سے نکھرنے نہیں دیتا مجھ کو جبر اس کا یہ ابھرنے نہیں دیتا مجھ کو سانس لینے کی اجازت بھی نہیں دیتا ہے اور جاں سے بھی گزرنے نہیں دیتا مجھ کو تشنگی سے مری واقف وہ نہیں ہے شاید چڑھتے دریا میں اترنے نہیں دیتا مجھ کو اپنی قربت سے بھی محروم مجھے رکھتا ہے سرد آہیں بھی تو بھرنے ...

مزید پڑھیے

اپنی حد تک اڑان تھی پہلے

اپنی حد تک اڑان تھی پہلے زندگی بے نشان تھی پہلے چاند سورج ہمارے ساتھی تھے یہ زمین آسمان تھی پہلے وہ مری ہر غزل کا مطلع تھا اس کی میں داستان تھی پہلے تیرے آنے سے روشنی پھیلی چاندنی نیم جان تھی پہلے کلیاں سب جسم و جاں کی چٹکی تھیں دھوپ جب مہربان تھی پہلے کس نے چھینی ہمارے شہر ...

مزید پڑھیے

فضائے عشق میں اڑتا ہوا ہوں طائر میں

فضائے عشق میں اڑتا ہوا ہوں طائر میں وہ شاخ گل مری منزل ہے اور مسافر میں مرا وجود مگر کائنات میں گم ہے فصیل جسم کے اندر رہی بظاہر میں وہ ایک نام جو میرا کبھی نہیں ہوتا اس ایک نام کو کیوں سوچتی ہوں آخر میں میں چاہتی ہوں کہ وہ بے وفا نہ کہلائے نبھا رہی ہوں محبت اسی کی خاطر میں خود ...

مزید پڑھیے

اب سرگزشت ہجر سنانے بھی آئے گا

اب سرگزشت ہجر سنانے بھی آئے گا جو روٹھ کر گیا ہے منانے بھی آئے گا بن جائیں گی قرار یہی بے قراریاں غم دے گیا ہے جو وہ مٹانے بھی آئے گا رکھے گا رکھنے والا مری بے کسی کی لاج لطف و کرم کی شان دکھانے بھی آئے گا سنتا نہیں جو اب مرا احوال واقعی اک روز لے کر اپنے فسانے بھی آئے گا آتش ...

مزید پڑھیے

مکاں سے لا مکاں تک آ گئے ہیں

مکاں سے لا مکاں تک آ گئے ہیں کہاں سے ہم کہاں تک آ گئے ہیں جہاں جلتے ہیں پر ہوش و خرد کے جنوں میں ہم وہاں تک آ گئے ہیں بھڑک اٹھی ہے کیسی آتش گل شرارے آشیاں تک آ گئے ہیں خلوص دوستی پر مرنے والے حیات جاوداں تک آ گئے ہیں ہماری گم رہی منزل نشاں ہے تجسس میں کہاں تک آ گئے ...

مزید پڑھیے

ہم اٹھ جائیں گے محفل سے تو ان کو جستجو ہوگی

ہم اٹھ جائیں گے محفل سے تو ان کو جستجو ہوگی ہمارا ذکر آئے گا ہماری گفتگو ہوگی یہ مانا دیکھنے کو وہ زمانہ ہم نہیں ہوں گے ہمیں ڈھونڈے گی دنیا جب تمہاری جستجو ہوگی کسی کا خون ناحق رائیگاں تو جا نہیں سکتا وفا کا روپ نکھرے گا محبت سرخ رو ہوگی تمہارے نام سے پہلے ہمارا نام آئے گا جہاں ...

مزید پڑھیے

الم مآل اگر ہے تو پھر خوشی کیا ہے

الم مآل اگر ہے تو پھر خوشی کیا ہے کوئی سزا ہے گناہوں کی زندگی کیا ہے ہمیں وہ یوں بھی بالآخر مٹائیں گے یوں بھی ستم کے بعد کرم بھی تو ہے ابھی کیا ہے نظام بزم دو عالم ہے انتشار آگیں نگاہ دوست میں آثار برہمی کیا ہے کسی مقام پہ بھی مطمئن نہیں نظریں زیاں ہے ذوق تجسس کا آگہی کیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1544 سے 6203