قومی زبان

یہ عالم وحشت ہے کہ دہشت کا اثر ہے

یہ عالم وحشت ہے کہ دہشت کا اثر ہے دامن کی خبر ہے نہ گریباں کی خبر ہے دل توڑنے والے یہ تجھے کچھ بھی خبر ہے اللہ کا گھر ہے ارے اللہ کا گھر ہے دیکھو گے جو حالات پہ تھوڑی سی نظر ہے ہر شخص غلام اثر و بندۂ زر ہے دو چار قدم چل کے ٹھہرتے نہیں رہرو تضحیک منازل ہے یہ توہین سفر ہے کتنے ہی ...

مزید پڑھیے

میرے افکار نے جس شے سے جلا پائی ہے

میرے افکار نے جس شے سے جلا پائی ہے عشق کی زندہ دلی حسن کی رعنائی ہے شاخ گل میں جو نزاکت جو لہک آئی ہے تیری باہوں کی لچک ہے تیری انگڑائی ہے پھر ابھرنے لگے نہ خستہ ماضی کے نقوش لوح دل پر کوئی تصویر ابھر آئی ہے غم و اندوہ کے اس دور میں کیا عیش و نشاط شادیانے ہیں خوشی کے نہ وہ شہنائی ...

مزید پڑھیے

اک برق تپاں کوندے بجلی سی چمکے جائے

اک برق تپاں کوندے بجلی سی چمکے جائے اس عارض رنگیں سے پردہ جو سرک جائے زاہد ہو تو چھک جائے ناصح ہو تو تھک جائے کم ظرف ہے وہ مے کش جو پی کے بہک جائے ساون کی گھٹا اٹھے بھادوں کا سماں باندھے وہ زلف جو بکھرا دے ماحول مہک جائے کلیوں کے تبسم پر تم بھی نہ کہیں ہنس دو ڈر ہے کہ رگ گل میں ...

مزید پڑھیے

یہ سرمئی آفاق یہ شمعوں کے دھندلکے

یہ سرمئی آفاق یہ شمعوں کے دھندلکے آ جاؤ بھی یادوں کے جھروکوں سے نکل کے دیوانے چلے آتے ہیں صحرا سے نکل کے رکھ دیں نہ کہیں نظم گلستاں ہی بدل کے پھولوں کی طرح ان کی حفاظت ہے ضروری یہ آج کے بچے ہی بڑے ہوتے ہیں کل کے ہے جب تو تحمل کہ کوئی آہ نہ نکلے اک اشک کا قطرہ مری پلکوں سے نہ ...

مزید پڑھیے

زاد رہ بھی نہیں بے رخت سفر جاتے ہیں

زاد رہ بھی نہیں بے رخت سفر جاتے ہیں سخت حیرت ہے کہ یہ لوگ کدھر جاتے ہیں بے خودی میں ترے دیوانہ جدھر جاتے ہیں منزلیں پوچھتی پھرتی ہیں کدھر جاتے ہیں وقت پڑ جائے تو ہم سینہ سپر جاتے ہیں نام ہی نام نہیں کام بھی کر جاتے ہیں ہائے کس موڑ پہ حالات نے پہنچایا ہے آپ ہم سایے سے ہم سائے سے ...

مزید پڑھیے

چاندنی چھٹکی ہوئی ہو تو غزل ہوتی ہے

چاندنی چھٹکی ہوئی ہو تو غزل ہوتی ہے جل پری پاس کھڑی ہو تو غزل ہوتی ہے دل نشیں کوئی نظارہ کوئی دل کش منظر بات دلچسپ کوئی ہو تو غزل ہوتی ہے یا کسی درد میں ڈوبی ہوئی آواز نحیف یا کوئی چیخ سنی ہو تو غزل ہوتی ہے شاعری نام ہے احساس کے لو پانے کا آگ سی دل میں دبی ہو تو غزل ہوتی ہے کوئی ...

مزید پڑھیے

پس دیوار ممکن ہے

پس دیوار ممکن ہے اگرچہ پیار ممکن ہے کہیں ہے کار آمد اور کہیں بے کار ممکن ہے یہاں ممکن نہیں ہے جو سمندر پار ممکن ہے نبھاؤں گا میں یک طرفہ جہاں تک یار ممکن ہے ترے دم سے یہاں سب کچھ مری سرکار ممکن ہے نہیں ہے فائدہ اس میں جو کاروبار ممکن ہے محبت کیا ہوس بھی اب سر بازار ممکن ...

مزید پڑھیے

کہاں ہے زندگی بس میں ہمارے

کہاں ہے زندگی بس میں ہمارے ہے بس یہ بے بسی بس میں ہمارے ہمارا زور چلتا ہے اسی پر کہ ہے یہ شاعری بس میں ہمارے اگر اک چیز پر قابو ہے اپنا نہیں پھر دوسری بس میں ہمارے ہمارے واسطے یہ بھی بہت ہے جو ہے تیری کمی بس میں ہمارے اسے تا عمر ہم روکیں جو آئے کبھی وہ سرسری بس میں ہمارے لبھا ...

مزید پڑھیے

سہولت کم پریشانی بہت ہے

سہولت کم پریشانی بہت ہے محبت میں یہ آسانی بہت ہے بہت لگتی ہے دل کو اس لیے بھی تمہاری بات لا یعنی بہت ہے اسے خطرہ ہے پیاسا دامن دل ہماری آنکھ میں پانی بہت ہے یہیں کر لیتے ہیں صحرا نوردی ہمارے گھر میں ویرانی بہت ہے یہ منظر ہی کچھ ایسا ہے کہ یا پھر مری آنکھوں میں عریانی بہت ...

مزید پڑھیے

زمین کم ہے یہاں آسمان تھوڑا ہے

زمین کم ہے یہاں آسمان تھوڑا ہے توقعات سے تیرا جہان تھوڑا ہے بس اک ہمارے ہی سر پر ہے اس کا دست ستم ہر ایک شخص پہ وہ مہربان تھوڑا کچھ اور لوگ بھی ہیں میرے خیر خواہوں میں فقط تجھی سے یہ دل بد گمان تھوڑا ہے لگائے رکھا ہے بس میں نے یوں ہی جی ورنہ ترا جہاں مرے شایان شان تھوڑا ہے ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1542 سے 6203