قومی زبان

جھوٹ

یہ چھن چھن کی آواز جو تم سن رہے ہو میری پائل کی نہیں ہے یہ آواز ہے ان معصوم سپنوں کی جو حقیقت کے فرش پر ہر پل گھنگھرؤں کی مانند ٹوٹ کر بکھر رہے ہیں یہ کھنکھناہٹ کی آواز جو میری چوڑیوں سی جان پڑتی ہے یہ آواز ہے ان سخت بیڑیوں کی جو میرے ہاتھوں کو تمہارے ہاتھوں کی اور بڑھنے سے روک رہی ...

مزید پڑھیے

پل

خوابوں کی اونچی اڑان اپنے پروں پر بٹھا کر مجھے دور افق تک اڑا لے جاتی ہے یہی تو ہیں وہ پل جب تمہیں پا کر میں خود کہیں کھو جاتی ہوں کچھ دیر جی لینے کے بعد کچھ سوچ کر خوابوں کے ان مخملی پروں سے پھسل کر میں پھر سے حقیقت کی پتھریلی زمیں پر اتر آتی ہوں من تو اب بھی رہتا ہے تمہارے ہی ...

مزید پڑھیے

کشمکش

ہر رات جا کر چھت پہ اک ایسا ستارا ڈھونڈھنا ممکن ہو جس کا ٹوٹنا اپنی نظر کے سامنے کچھ دیر تک کر آسماں کو تھک چکیں پلکیں گری جب کھلی پلکیں تو دیکھا آسماں قدموں پے تھا وہ کھڑے تھے سامنے جن کی تھی دل کو آرزو دیکھا اسی پل گر رہا ہے ایک ستارا ٹوٹ کر اب یہ تھی الجھن کہ ہم دیکھیں انہیں یا ...

مزید پڑھیے

تم کہیں نہیں

کوئی بھی تو دن نہیں ایسا جب باتیں نہ کی ہوں تم سے کوئی بھی تو پل نہیں ایسا جب سوچا نہ ہو تمہیں کوئی ایک بھی تو دعا نہیں ایسی جس میں تم شامل نہیں اور کچھ بھی تو رہا نہیں ایسا جسے دل نے کہا اور دل نے سنا نہیں مانا کہ تم ساتھ ہو ہر دم اس دل کے بہت پاس ہو ہمدم مگر یوں ہی کبھی سوچتا ہے یہ ...

مزید پڑھیے

سنائیں ہم کوئی قصہ ہماری داستاں کا

سنائیں ہم کوئی قصہ ہماری داستاں کا مجھے قصہ نہیں بننا تمہاری داستاں کا محض دو نام ہوں اس سے زیادہ کچھ نہیں ہو محبت نام رکھیں ہم ہماری داستاں کا زمانے کو لگا کہ ختم قصہ ہو گیا ہے مگر اک مرحلہ تھا وہ بھی اپنی داستاں کا قبیلے سے جھروکا دیکھنا ممکن نہیں تھا نیا موضوع ملا ہے اک ...

مزید پڑھیے

بھری آنکھوں سے گر اس کو تکوں آمین کہہ دینا

بھری آنکھوں سے گر اس کو تکوں آمین کہہ دینا برائے بے بسی گر چپ رہوں آمین کہہ دینا خدا ہر فیصلہ تیرا مجھے منظور ہے لیکن اگر محو دعا وہ نام لوں آمین کہہ دینا سنبھلنے کی کوئی صورت محبت میں نہیں ہوتی لہٰذا لڑکھڑا کر جب گروں آمین کہہ دینا اسی اک نام پر ساری خدائی آ کے ٹھہری ہے جب اس ...

مزید پڑھیے

رنگ خوشبو اس کی باتیں کیا بتائیں

رنگ خوشبو اس کی باتیں کیا بتائیں تھیں مہرباں کائناتیں کیا بتائیں بے بسی آنسو اداسی درد ہجراں کس قدر ہیں سیاہ راتیں کیا بتائیں پوچھتے ہیں وہ بڑی سادہ دلی سے آپ کو کیسے بھلائیں کیا بتائیں زندگی میں تجربے کچھ کم نہیں ہیں مسئلہ ہے کیا چھپائیں کیا بتائیں جانتے ہیں حال ہم اک ...

مزید پڑھیے

اک سفر ہوتا رہا اور رک گئی میں

اک سفر ہوتا رہا اور رک گئی میں چل رہا تھا راستہ اور رک گئی میں عشق تھا دونوں کو فطرت مختلف تھی وہ بھٹکتا ہی رہا اور رک گئی میں ہر دفعہ آواز سن کر میں پلٹ دی پھر نہ جانے کیا ہوا اور رک گئی میں یاد کے لمحے میں اک عرصہ بتایا وقت آنکھوں سے بہا اور رک گئی میں لمس کا کیسا اثر سانسوں پہ ...

مزید پڑھیے

محبت کا ہے سرمایہ تصور آپ کا

محبت کا ہے سرمایہ تصور آپ کا کبھی فرصت نہ دے پایا تصور آپ کا تبسم کی وجہ محفل میں سب پوچھا کئے بڑی مشکل سے جھٹلایا تصور آپ کا سلگتی آرزؤں کا دھواں تھا اشک تھے کسی صورت نہ دھندھلایا تصور آپ کا یہاں سے دیکھیے دنیا ہے کتنی مختصر ستاروں پر ہے لے آیا تصور آپ کا بہانے تو بہت تھے یاد ...

مزید پڑھیے

شرارت ہے منانے کی یا منوانے کا جھگڑا ہے

شرارت ہے منانے کی یا منوانے کا جھگڑا ہے ہیں دونوں صورتیں قاتل قیامت جیسا جھگڑا ہے تصور میں ترا چہرہ ذہن میں بات ہے تیری یہ دوری کیسی دوری ہے یہ جھگڑا کیسا جھگڑا ہے منانا بھی نہیں آساں سمجھ جانا بھی ہے مشکل ذرا سا وقت دو مجھ کو یہ خود سے پہلا جھگڑا ہے کہیں پر پھول کھلتے ہیں کہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1533 سے 6203