کرتا ہے وہ جفا تو کرے میں وفا کروں
کرتا ہے وہ جفا تو کرے میں وفا کروں یوں اپنی دوستی کا فریضہ ادا کروں اس کا شعار وہ ہے یہ میرا شعار ہے اس کی جفا کے نام میں اپنی وفا کروں اس کا کبھی جواب نہ آیا نہ آئے گا یہ جانتے ہوئے بھی اسے خط لکھا کروں وعدے پہ اس کے آنے کے گھر کو سجا لیا اب اس کے بعد بھی نہ وہ آئے تو کیا کروں اک ...