قومی زبان

کرتا ہے وہ جفا تو کرے میں وفا کروں

کرتا ہے وہ جفا تو کرے میں وفا کروں یوں اپنی دوستی کا فریضہ ادا کروں اس کا شعار وہ ہے یہ میرا شعار ہے اس کی جفا کے نام میں اپنی وفا کروں اس کا کبھی جواب نہ آیا نہ آئے گا یہ جانتے ہوئے بھی اسے خط لکھا کروں وعدے پہ اس کے آنے کے گھر کو سجا لیا اب اس کے بعد بھی نہ وہ آئے تو کیا کروں اک ...

مزید پڑھیے

ایک اور برسات

کل رات زوروں کی برسات تھی آنکھوں کے آسمان پر بھی یادوں کے بادل چھائے تھے برسات کی بوندیں اور آنکھوں کے بادل ساتھ ساتھ رات بھر برستے رہے مانو ہر برستی بوند خاموشیوں کو توڑتا ہوا ایک لفظ بن گئی تھی دونوں کے بیچ گفتگو رات بھر ہوئی تھی صبح دیکھا آسمان صاف تھا وہ کھل کر مسکرا رہا ...

مزید پڑھیے

تلاش

خاموش تھا ساحل لہریں بھی تھم چکی تھیں پانی میں جھانکتے ہوئے تاروں کی ایک لڑی تھی چپکے سے بہہ رہی ہوا میں سانسوں کی آواز تھی کھویا تو کچھ نہیں تھا پھر بھی جانے کیا تلاش تھی تنہائی میں اکثر جو یاد آئی ہے یہ وہ بات ہے ہم کو تو یاد آج بھی پہلی وہ ملاقات ہے ایک شخص جو تھا اجنبی دو قدم ...

مزید پڑھیے

اڑان

من کا یہ آنچل چاہتا تو ہے کھلے آسمان میں اڑنا حوصلہ ہے دشائیں ہیں اور پنکھ بھی ہیں اڑنے کے لیے مگر اسے اڑنے سے انکار ہے کہ اب بھی اس کا کوئی سرا زمین سے جڑا ہے شاید

مزید پڑھیے

نئی بہار نئے گلستاں تلاش کرو

نئی بہار نئے گلستاں تلاش کرو پھر اس کے بعد نئے باغباں تلاش کرو یہاں نہ ماہ درخشاں نہ آفتاب حسیں تجلیوں کے نئے آسماں تلاش کرو جہاں کے تلخ غموں سے نجات کی خاطر کسی کے گیسوئے عنبر فشاں تلاش کرو یہاں تو برق کا پہرہ ہے اور صرصر ہے پئے قیام نئے آشیاں تلاش کرو مشاعروں سے نتیجہ نہ ...

مزید پڑھیے

رندوں کا ظرف ساقی تو دیکھ آزما کے

رندوں کا ظرف ساقی تو دیکھ آزما کے گر زہر بھی عطا ہو پی لیں گے مسکرا کے اس میکدے سے باہر اتنا ہمیں بتا دے ساقی سکوں ملے گا کس انجمن میں جا کے بادہ کشوں کے کوئی یہ حوصلے تو دیکھے محفل میں پی رہے ہیں واعظ کو مے دکھا کے اب میکشوں کا پینا کار ثواب ٹھہرے ساغر چھلک رہے ہیں ہاتھوں میں ...

مزید پڑھیے

دل مرد مسلماں میں کسی بت کا قدم آیا

دل مرد مسلماں میں کسی بت کا قدم آیا مری دنیا میں تم آئے کہ پتھر کا صنم آیا پئے نذر عقیدت لے کے جان و دل کا نذرانہ صنم خانے کے در پر اک پرستار حرم آیا اٹھاؤ جام و ساغر مے کشو کالی گھٹا چھائی مناؤ جشن صہبا گھر کے پھر ابر کرم آیا کرا دو غسل مے اے بادہ خوارو شیخ صاحب کو بھری محفل میں ...

مزید پڑھیے

کہاں یہ چند راتوں کا اثر ہے

کہاں یہ چند راتوں کا اثر ہے زمانے پر زمانوں کا اثر ہے اکیلے بیٹھ کر یوں مسکرانا یہ ہاتھوں میں کتابوں کا اثر ہے مکمل ہو رہا ہے عشق میرا ارادوں سے وفاؤں کا اثر ہے محبت گونجتی رہتی ہے مجھ میں یہ برسوں کی خلاؤں کا اثر ہے صفت جتنی بھی مجھ کو ہے عطا وہ تمہارے ساتھ باتوں کا اثر ...

مزید پڑھیے

اسے جو دیکھا تو دیکھ کر وہ لگا محبت کا اک ستارا

اسے جو دیکھا تو دیکھ کر وہ لگا محبت کا اک ستارا زمیں سے ہو کر گزر رہا تھا خدا کی رحمت کا اک ستارا تھکی ہوئی شب جہاں رکی تھی جہاں ڈبویا تھا چاند اس نے دعا میں شب نے گرا دیا اس جگہ پہ قسمت کا اک ستارا بہائے ہجرت میں اشک لاکھوں مگر کہاں تھی وہ بات ان میں جو بات اس میں ہے جو گرا ہے مژہ ...

مزید پڑھیے

وہ شب کس تیرگی میں کھو گئی ہے

وہ شب کس تیرگی میں کھو گئی ہے پلٹ کر پھر نہ آئی جو گئی ہے ابھی آتی ہوں کہہ کر وہ گئی ہے بہانا ہی بنا کر تو گئی ہے محبت سوچ کر میں نے نہیں کی محبت عادتاً پھر ہو گئی ہے جو کہتی ہے کہ خوش ہے دور رہ کر وہ میرا نام سن کر رو گئی ہے تری خوشبو کا خط میں ذکر پڑھ کر دوانی ایک تتلی ہو گئی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1532 سے 6203