قومی زبان

سمندر تھا کبھی صحرا ہوا ہے

سمندر تھا کبھی صحرا ہوا ہے وہ کیا تھا اور دیکھو کیا ہوا ہے نہیں معلوم اس کو حشر اپنا پرندہ جال پر بیٹھا ہوا ہے گناہ عشق میں کیسی رہائی تمہارے ساتھ تو دھوکہ ہوا ہے کسی نے حال پوچھا تب یہ جانا ہمیں تو نام تک بھولا ہوا ہے نشانی آخری یہ ہے کسی کی جو آنسو آنکھ میں ٹھہرا ہوا ...

مزید پڑھیے

آپ کہتے ہیں نہیں ملتے دل افسانے میں

آپ کہتے ہیں نہیں ملتے دل افسانے میں پھر سے ہم آ ہی گئے آپ کے بہلانے میں وہ برس بیت گیا جس میں تمہیں پایا تھا عمر گزرے گی اسے بارہا دہرانے میں پھول پر ایک مہکتی ہوئی تتلی دیکھی کیا تمہیں چھو لیا اس نے کہیں انجانے میں شرط موجودگی درکار نہیں الفت کو وقت ضائع نہ کر آنے میں اور جانے ...

مزید پڑھیے

چھو نہیں پاتے بڑھا کر ہاتھ اس کو

چھو نہیں پاتے بڑھا کر ہاتھ اس کو مانگ لیں گے ہم اٹھا کر ہاتھ اس کو ہم گلے ملتے تو جا پاتا نہیں وہ کر دیا رخصت ہلا کر ہاتھ اس کو ساتھ کی عادت نہیں وہ مر نہ جائے چھوڑ دو تم بھی ملا کر ہاتھ اس کو عشق کے دریا کو ہم درکار تھے سو دے دیا خود کو گرا کر ہاتھ اس کو

مزید پڑھیے

ربط سانسوں کا کہے گی رات باقی

ربط سانسوں کا کہے گی رات باقی اب تو رک رک کر چلے گی رات باقی کٹ گئی اک رات کرتے بات تجھ سے کیا پتہ کیسے کٹے گی رات باقی اک مکمل زندگی کیسے لکھوں میں دن مکمل پر رہے گی رات باقی جرم تھا سنگین تم خوابوں میں آئے تب رہائی جب ڈھلے گی رات باقی بات جب کوئی نہیں تو شور کیا ہے رات بھر ...

مزید پڑھیے

کوئی آئے کوئی جائے تماشہ اب نہیں ہوگا

کوئی آئے کوئی جائے تماشہ اب نہیں ہوگا محبت آخری تھی یہ تماشہ اب نہیں ہوگا نکلنا چاہتا ہے وہ حقیقت میں کہانی سے گرا دو خواب کے پردے تماشہ اب نہیں ہوگا سنا ہے اس کہانی میں نئے کردار آنے ہیں سنا ہے نام سے میرے تماشہ اب نہیں ہوگا تمہاری نذر کرتی ہوں تمام اشعار یہ میرے کہ صفحوں پر ...

مزید پڑھیے

گو چاروں طرف بزم آرائیاں ہیں

گو چاروں طرف بزم آرائیاں ہیں مگر مجھ کو ڈستی یہ تنہائیاں ہیں چلو اک دفعہ دوریاں پھر بڑھا لو اگر مجھ سے ملنے میں رسوائیاں ہیں مسلسل مرے دل میں جو بج رہی ہیں یہ تیری محبت کی شہنائیاں ہیں مرے ساتھ چلتی رہیں پے بہ پے جو وہ تیری وفاؤں کی پرچھائیاں ہیں

مزید پڑھیے

اگر بیج رنگوں کا بویا نہ ہوتا

اگر بیج رنگوں کا بویا نہ ہوتا مجھے عشق نے یوں ڈبویا نہ ہوتا ہزاروں نے مل کے اکیلے کو مارا اگر ایک ہوتا تو کھویا نہ ہوتا تجھے دفن کر کے یہ دل کہہ رہا ہے ہمیشہ کی تو نیند سویا نہ ہوتا مجھے زندگی یوں ہی بیکار لگتی ترا پیار من میں سمویا نہ ہوتا محبت میں شاید کمی رہ ہی جاتی اگر تو ...

مزید پڑھیے

اپنے گھر میں قیام کر جاؤ

اپنے گھر میں قیام کر جاؤ چند لمحے کلام کر جاؤ دل جو اڑتا ہے ہر گھڑی اس کو آ کے پابند دام کر جاؤ اپنی آنکھوں کو تم جھکا کے صنم مے کشوں کو سلام کر جاؤ پیار کی بات جو ادھوری تھی اس کو آ کے تمام کر جاؤ زندگی جس کے چاہے نام کرو مجھ سے منسوب نام کر جاؤ کیسے مانیں کہ لاکھوں مرتے ...

مزید پڑھیے

خار رستے میں میرے بوتے ہو

خار رستے میں میرے بوتے ہو ہار غیروں کے تم پروتے ہو چاند جلوے چرا نہ لے جائے آپ کیوں بے خبر سے سوتے ہو جان تو آپ ہی ہو جان مری دور کب ہو قریب ہوتے ہو کیا کمی ہے ہماری چاہت میں کوچہ کوچہ ذلیل ہوتے ہو دل کو میرے سکون ملتا ہے آپ جب زار زار روتے ہو

مزید پڑھیے

وہ میری چشم تر میں آ گیا ہے

وہ میری چشم تر میں آ گیا ہے نشہ بن کے جو مجھ پہ چھا گیا ہے وہ جس نے معبدوں میں مجھ کو مانگا وہ شخص اب راہ میں ٹھکرا گیا ہے جسے دیکھا نہ میں نے خواب میں بھی تعاقب میں وہ گھر تک آ گیا ہے بڑے ارماں سے جو تعمیر کی تھی مری وہ جھونپڑی کوئی ڈھا گیا ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 1534 سے 6203