قومی زبان

غم کے دامن میں خوشی اچھی لگی

غم کے دامن میں خوشی اچھی لگی تھا اندھیرا روشنی اچھی لگی موت کو دیکھا جو اپنے سامنے آج مجھ کو زندگی اچھی لگی دوستوں سے اس قدر کھائے فریب دشمنوں کی دشمنی اچھی لگی بن گیا میرا تماشہ گر تو کیا ان کے ہونٹوں پر ہنسی اچھی لگی کہہ دیا شعروں میں روبیؔ حال دل وہ یہ بولے شاعری اچھی لگی

مزید پڑھیے

یوں ہی کاٹی ہے زندگی تنہا

یوں ہی کاٹی ہے زندگی تنہا غم ہو چاہے کہ ہو خوشی تنہا حق کہے گی زبان یہ میری چاہے کر دے یہ گام ہی تنہا اک دیا ہی بہت ہے جو کر دے گھپ اندھیرے میں روشنی تنہا اس کا لہجہ مجھے ڈراتا ہے اس کو کر دے نہ بے حسی تنہا راز دل کے دبے ہی رہنے دو کر نہ دے تم کو آگہی تنہا محفلیں روز ہی ہیں سجتی ...

مزید پڑھیے

زندگی اور موت

زندگی کی عجب کہانی ہے ایک دن موت سب کو آنی ہے کتنا نادان ہے مگر انسان جانتے بوجھتے بھی ہے انجان عیش و عشرت میں کھو گیا ہے یہ نیند غفلت کی سو گیا ہے یہ اس کو یہ بھی نہیں ذرا احساس آج جو زندگی ہے اس کے پاس وہ اسی ذات کی امانت ہے جو سدا سے ہے تا قیامت ہے ہاتھ میں ہے اسی کے شام و ...

مزید پڑھیے

یوں مجھے بے نشان کر دیجے

یوں مجھے بے نشان کر دیجے قبر میرا مکان کر دیجے لذت درد کم نہ ہو جائے زخم پھر سے جوان کر دیجے دھوپ خوشیوں کی بڑھ گئی ہے بہت غم کا پھر سائبان کر دیجے چشم نم کھول دے نہ راز مرا مجھ کو پھر بے زبان کر دیجے تخم خواہش نہ جس میں اگ پائے بانجھ وہ گلستان کر دیجے

مزید پڑھیے

دسترس میں اگر نہ آؤں تو پھر

دسترس میں اگر نہ آؤں تو پھر خاک بن کر میں اڑ ہی جاؤں تو پھر تم کو فرصت نہیں ہے میرے لیے میں بھی رستوں میں کھو ہی جاؤں تو پھر میرے غم پر جو ہنس رہے ہو تم میں بھی یوں ہی تمہیں ستاؤں تو پھر عشق کے چرچے میں ہے رسوائی یہ کہانی زباں پہ لاؤں تو پھر آبلہ پا ہے روبیؔ تیری طرح تھک گئے گر یہ ...

مزید پڑھیے

زخم کھاتی ہوں مسکراتی ہوں

زخم کھاتی ہوں مسکراتی ہوں یوں غم زندگی نبھاتی ہوں روز کرتا ہے وہ جفا مجھ پر اور میں روز بھول جاتی ہوں ہوں بکھرتی میں روز ہی لیکن روز خود کو سمیٹ لاتی ہوں اس کی مرضی نہیں گلہ اس سے حوصلہ ہے جو میں نبھاتی ہوں اب تو عادت سی ہو گئی روبیؔ آپ اپنی ہنسی اڑاتی ہوں

مزید پڑھیے

دھوکے پہ دھوکہ اس طرح کھاتے چلے گئے

دھوکے پہ دھوکہ اس طرح کھاتے چلے گئے ہم دشمنوں کو دوست بناتے چلے گئے ہر زخم زندگی کو گلے سے لگا لیا ہم زندگی سے یوں ہی نبھاتے چلے گئے وہ نفرتوں کا بوجھ لیے گھومتے رہے ہم چاہتوں کو ان پہ لٹاتے چلے گئے جو خواب زندگی کی حقیقت نہ بن سکا اس کے حسیں فریب میں آتے چلے گئے روبیؔ چھپانا ...

مزید پڑھیے

مرے خواب

مرے خواب اشکوں میں تحلیل ہو کر کہیں کھو گئے ہیں خیال آ رہا ہے کہ شاید مری روح کے نیم تاریک سے جنگلوں میں بھٹکنے لگے ہیں کئی دن سے ان تک مری سوچ میرے تصور کی کوئی رسائی نہیں ہے مگر جانتی ہوں کہ وہ دھیرے دھیرے مرے ہی لہو میں سسکنے لگے ہیں کئی دن سے میں نے انہیں کوئی لوری سنائی نہیں ...

مزید پڑھیے

تمام عمر فقط اس کی جستجو کرنا

تمام عمر فقط اس کی جستجو کرنا تم اس کو یاد بھی کرنا تو با وضو کرنا زمانہ آپ کو اعزاز سے نوازے گا شفیق لہجے میں چھوٹوں سے گفتگو کرنا وہ اپنے آپ کو اہل زباں سمجھتے ہیں ذرا سکھا دے کوئی ان کو گفتگو کرنا تم انتظار کے وعدوں کے تیر برساؤ ہمارا کام ہے دل کو لہو لہو کرنا حجاب ہٹنے دے ...

مزید پڑھیے

مرے غموں کا ملال مت کر

مرے غموں کا ملال مت کر تو اپنا جینا محال مت کر غم و الم کا ہوں اک سمندر مرا کوئی تو خیال مت کر تو اپنی نظروں میں گر نہ جائے کسی سے بھی عرض حال مت کر تجھے یقیناً ملے گی جنت حرام خود پر حلال مت کر ملے گی روزی تجھے بھی کشفیؔ خدا خدا کر سوال مت کر

مزید پڑھیے
صفحہ 1517 سے 6203