قومی زبان

ہر ایک شخص کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے

ہر ایک شخص کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے تمہارے لہجے میں کتنا کمال رکھا ہے تو ہی بتا دے کہ کتنے ذلیل ہوں گے ہم ہمارے حصے میں کب تک زوال رکھا ہے جدائیاں بھی ہمیں دور کر نہیں سکتیں چھپا کے ہجر میں تم نے وصال رکھا ہے تمہارے ہجر میں ٹوٹے مگر نہیں بکھرے تمہاری یاد نے اب تک سنبھال رکھا ...

مزید پڑھیے

بچھڑ کے بھی نہ محبت میں کچھ کمی آئی

بچھڑ کے بھی نہ محبت میں کچھ کمی آئی وہ جب بھی رویا مری آنکھ میں نمی آئی اب اس مقام پہ پہنچی ہے شاعری میری کہ شاعروں کے بھی لب پہ غزل مری آئی ابھی تو دور ہو شہرت کی بھی رسائی سے ابھی سے آپ کے تیور میں کجروی آئی تمہارے ذکر سے دل کی چھٹی ہے تاریکی تمہارے دھیان سے آنکھوں میں روشنی ...

مزید پڑھیے

کون چن کے چناؤ میں آیا

کون چن کے چناؤ میں آیا بچہ بچہ تناؤ میں آیا نفرتیں خون میں گھلی جب سے رشتہ رشتہ کھنچاؤ میں آیا اب کسی کو کسی سے کیا مطلب ہر کوئی بھید بھاؤ میں آیا بکھری بکھری تھی شخصیت میری تم ملے رکھ رکھاؤ میں آیا سہما سہما سا مجھ سے رہتا ہے جانے کس کے دباؤ میں آیا میری تعریف سنتے ہی ...

مزید پڑھیے

قاتل کو پہچانو

سوچ کہاں جا کر ٹھہرے گی اندھیارے میں کب تک خود کو ڈھونڈو گے شب کا سفر تو صبح پہ جا کر رکتا ہے لیکن یہ شب کتنی کڑی ہے برسوں سے اک دوراہے پر دم سادھے چپ چاپ کھڑی ہے خود کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے آخر شب کے یہ بے نام مسافر بے حس گونگے سائے بن کر اندھیاروں میں ڈوب گئے ہیں یہ سب کتنے بد قسمت ...

مزید پڑھیے

چہار سمت سے کل تک جو گھر دمکتا تھا

چہار سمت سے کل تک جو گھر دمکتا تھا ہم آج سیر کو نکلے تو بس خرابہ تھا نہ جانے کس لئے آنکھیں دکھائیں سورج نے ہماری آنکھوں نے بس خواب ہی تو مانگا تھا درخت گہرے تنفس میں ہیں لرزتے ہیں سوار ابر لیے بجلیوں کا کوڑا تھا ہمارے ہاتھ میں ٹوٹا ہوا ہے آئینہ سراپا تھا تو بھلا کیسا وہ سراپا ...

مزید پڑھیے

جنوں کو بھی عرض حال کا اہتمام کرنا سکھا رہی ہوں

جنوں کو بھی عرض حال کا اہتمام کرنا سکھا رہی ہوں میں دل کی دھڑکن کو شور غم سے کلام کرنا سکھا رہی ہوں سکھا رہی ہوں چراغ کو یہ کہ جل کے بجھنے کا حسن کیا ہے ہواؤں کو روشنی کا میں احترام کرنا سکھا رہی ہوں وہ زندگی جس کے ناز اٹھائے نہ جانے کس لمحہ رخ بدل لے اسی لیے تو میں اپنی صبحوں کو ...

مزید پڑھیے

کب سے قبلہ رو بیٹھے ہیں حرف دعا اور میں

کب سے قبلہ رو بیٹھے ہیں حرف دعا اور میں خاموشی کے ساتھ ہیں دونوں میرا خدا اور میں ریت کی لہروں سے ہر لمحہ باتیں کرتے ہیں دونوں دشت کے باسی نکلے سناٹا اور میں انسانوں نے خواب زمیں کو بنجر کر ڈالا چھپ چھپ کر روتے رہتے ہیں یہ دنیا اور میں کب تک تیری یاد جنوں کا ساتھ نبھائے گی کب تک ...

مزید پڑھیے

دیکھو میں کس شان سے آئی

سورج نے جب ساتھ نبھایا سردی کو پھر میں نے بھگایا گرم ہواؤں کا ہے مہینہ ہر ماتھے پر آئے پسینا آموں کے میں تحفے لائی دیکھو میں کس شان سے آئی کوئی پئے تربوز کا شربت کسی کو خربوزے سے رغبت آڑو دیکھ کے جی للچائے سب نے مل کر مزے اڑائے جامن اور خوبانی کھائی دیکھو میں کس شان سے آئی محنت ...

مزید پڑھیے

میرا نام پڑا برسات

میں نے ایسی جھڑی لگائی گرمی چیخی اور چلائی لیکن میں نے زور دکھایا گرمی کو پھر مار بھگایا جان میں لوگوں کی جان آئی موسم نے لی پھر انگڑائی بانٹی خوشیوں کی سوغات میرا نام پڑا برسات بجلی کڑکی دل تھرایا بادل نے ٹکڑا ہے گرایا برسے جھوم کے کالے بادل دھوپ کے گھر میں پڑ گئی ہلچل سکھیوں ...

مزید پڑھیے

نظمیں مجھ کو ڈھونڈ رہی ہیں

نظمیں مجھ کو ڈھونڈ رہی ہیں لیکن شاید میں تو قبرستان کا رستہ بھول گئی ہوں اور اپنے بوسیدہ اور مردہ خوابوں کو اپنے ہی کاندھے پہ اٹھائے قریہ قریہ گھوم رہی ہوں یہ بھی یاد نہیں ہے مجھ کو ماضی اک آسیب زدہ ویران کھنڈر ہے حال فقط پرکار کی گردش مستقبل اک بہلاوا ہے تینوں دریا ایک سمندر میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1518 سے 6203