عداوتوں کا یوں آغاز اختتام کریں
عداوتوں کا یوں آغاز اختتام کریں عدو ملے تو اسے خیر سے سلام کریں اب اختیار تبدل بھی ہو گیا حاصل تو اب گلستاں میں رائج نیا نظام کریں ہماری آپسی رنجش ہے چھوڑ دیں ہم پر چلیں حضور چلیں آپ اپنا کام کریں اب اس کے سامنے انصاف کا ترازو ہے انہیں کہیں کہ عدالت کا احترام کریں سفر نصیب جو ...