قومی زبان

عداوتوں کا یوں آغاز اختتام کریں

عداوتوں کا یوں آغاز اختتام کریں عدو ملے تو اسے خیر سے سلام کریں اب اختیار تبدل بھی ہو گیا حاصل تو اب گلستاں میں رائج نیا نظام کریں ہماری آپسی رنجش ہے چھوڑ دیں ہم پر چلیں حضور چلیں آپ اپنا کام کریں اب اس کے سامنے انصاف کا ترازو ہے انہیں کہیں کہ عدالت کا احترام کریں سفر نصیب جو ...

مزید پڑھیے

بیٹیاں

دل کی ٹھنڈک اور آنکھوں کی ضیا ہیں بیٹیاں جل کے خود جو روشنی دے وہ دیا ہیں بیٹیاں کوئی پوچھے قدر ان سے جو یہاں محروم ہیں وہ سمجھتے ہیں بتائیں گے کہ کیا ہیں بیٹیاں ہیں پرایا دھن مگر اپنی ہی رہتی ہیں سدا بڑھ کے بیٹوں سے بڑھاپے کا عصا ہیں بیٹیاں بیٹیوں کو بار سمجھے جو بڑا بد بخت ...

مزید پڑھیے

دلوں میں جب گماں ہوں گے مکیں آہستہ آہستہ

دلوں میں جب گماں ہوں گے مکیں آہستہ آہستہ تو دھندلا جائے گا نور یقیں آہستہ آہستہ دل ناداں ابھی خوگر نہیں یہ غم اٹھانے کا اٹھے گی تیرے در سے یہ جبیں آہستہ آہستہ نظر منزل پہ ہو تو اختلاف راہ کا غم کیا پہونچتی ہیں سبھی راہیں وہیں آہستہ آہستہ کشش میری وفاؤں کی کہاں تک رائیگاں ...

مزید پڑھیے

رہے گی داستاں باقی ہے جب تک یہ جہاں باقی

رہے گی داستاں باقی ہے جب تک یہ جہاں باقی کہیں باقی ہیں قصہ گو کہیں ہیں رازداں باقی عبث ہے فخر اے دل تجربوں کی آزمائش پر ابھی فردا کے انسانوں کی خاطر ہیں زماں باقی مکیں کتنے ہیں بے دیوار و در کے ان زمینوں پر نہیں ہے سر پہ گر سایہ تو کیا ہے آسماں باقی خزاں نے کر دیا برباد تیرا ...

مزید پڑھیے

سفر قلم کا

تیرے سفر کا انت نہیں ہے تجھ کو چلتے جانا ہے قلم کی دھارا تجھ کو تو اب سدا ہی بہتے جانا ہے مانا سفر بہت لمبا ہے جانا تجھ کو دور ہے کوئی نہیں ہے ساتھ میں تیرے پھر بھی قدم بڑھانا ہے اس دھرتی کا ذرہ ذرہ دامن میں بھر لینا ہے پل پل ہر منظر کا تجھ کو ایک اک ہر منظر کا تجھ کو ایک اک نقش ...

مزید پڑھیے

شام ہے دھواں دھواں

کیوں شام کا آنچل میلا ہے ہر سمت دھواں سا پھیلا ہے معدوم ہوئے آثار سبھی کلیوں کی چنچل آنکھیں جھکی جھکی سی موندے پلکیں گل بدن سر نگوں ہو گئے خوشبو بھی اڑی اور گیسوئے شب میں جا الجھی مہتاب بھی ابھرا چپکے سے دھندلا دھندلا پھیکا پھیکا مغموم شعاعیں پھیکی سی ہر سمت تھا اس کا عکس ...

مزید پڑھیے

پریم بنا من سونا

من بھی سونا آنگن بھی سونا آنگن سونا سونا سب سنسار پڑا سونی اب یہ سیج پڑی ہے کب تو آ کر پریم براجے اندھیارے نینن میں چھائے دوارے دوارے ڈھونڈھ کے آئے پھر بھی تیرا ٹھور نہ جانا کٹھن بڑا ہے تجھ کو پانا چپکے سے کانوں میں کہہ جا خوشیوں کا سندیس سنا جا پریم تو اپنی ڈگر بتا جا کیا تو جوگن ...

مزید پڑھیے

موت کا ڈر ناخدا کچھ بھی نہیں

موت کا ڈر ناخدا کچھ بھی نہیں زندگی کا مسئلہ کچھ بھی نہیں آگ پانی اور ہوا کچھ بھی نہیں صرف مٹی تھی بنا کچھ بھی نہیں کچھ لہو کا رنگ اور کچھ آب و گل مجھ میں تو خود ساختہ کچھ بھی نہیں زندگی کی اس حسیں پازیب میں صرف گھنگرو کے سوا کچھ بھی نہیں دید کی خواہش کی موسیٰ نے وہاں لیکن ان پر ...

مزید پڑھیے

زندگی کا سفر کٹھن ہے بہت

زندگی کا سفر کٹھن ہے بہت چل رہی ہوں مگر تھکن ہے بہت یوں تو کہنے کو ہے شریک سفر پھر بھی لیکن اکیلا پن ہے بہت گو خلوص و وفا کا ہے پیکر اس کے لہجے میں پر چبھن ہے بہت یاد اوڑھی ہوئی ہے اس کی یوں لاش کو جیسے اک کفن ہے بہت زندگی ہے عجیب الجھن میں جی رہی ہوں مگر گھٹن ہے بہت میں مکمل ...

مزید پڑھیے

ہے آرزو یہ کوئی تو ایسا دکھائی دے

ہے آرزو یہ کوئی تو ایسا دکھائی دے جو بے حسی کے دور میں اپنا دکھائی دے احوال زندگی میں ہے ہر شخص اجنبی چہرہ کوئی تو مجھ کو شناسا دکھائی دے ہے کشمکش میں آج بڑی زندگی مری ہوں منتظر کہ کوئی تو رستہ دکھائی دے چاروں طرف ہے راج اداسی کا آج کل کوئی تو ہو جو شہر میں ہنستا دکھائی دے ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1516 سے 6203