قومی زبان

دل میں ہو گر خواہش تصویر عبرت دیکھنا

دل میں ہو گر خواہش تصویر عبرت دیکھنا خوش نصیبی بانٹنے والوں کی قسمت دیکھنا دوستوں اور دشمنوں کے درمیاں رہ کر تو دیکھ تجھ کو آ جائے گا فرق نور و ظلمت دیکھنا کیا قیامت سے ڈریں ہم لوگ تو وہ ہیں جنہیں پڑ رہا ہے روز ہی روز قیامت دیکھنا مفلسی کے دن ہیں اور برسات کی آمد کا شور مشغلا ...

مزید پڑھیے

یہ مت بھلا کہ یہاں جس قدر اجالے ہیں

یہ مت بھلا کہ یہاں جس قدر اجالے ہیں یہ آدمی نے اندھیروں سے ہی نکالے ہیں نہ پوچھ کیوں ہے یہ رنگ غزل میں تبدیلی یہ دیکھ سینۂ شاعر میں کتنے چھالے ہیں لباس صبر و تحمل جو ہم ہیں پہنے ہوئے اب اس کے لگتا ہے بخیے ادھڑنے والے ہیں توقعات وہی آج بھی ہیں یاروں سے کہ اب بھی یار سبھی آستین ...

مزید پڑھیے

رعایا دے رہی تھی شوق سے بیگار جسموں کی

رعایا دے رہی تھی شوق سے بیگار جسموں کی یہی تقدیر ہے آقا یہاں نادار جسموں کی گرا ڈالے گی تجھ پہ آسماں جو سرسراہٹ ہے تمہارے پاؤں نیچے رینگتے بیدار جسموں کی مؤرخ گولیوں کے خول گنتے جا رہے تھے اور حکایت لکھ رہے تھے ہم یہاں مسمار جسموں کی محبت صرف کہنے کو تعلق تیل پانی سا ریاضت ...

مزید پڑھیے

کون ہے جس کا سارا دکھ ہے

کون ہے جس کا سارا دکھ ہے دکھ بھی جس کا چارہ دکھ ہے میٹھی باتیں کرتا ہے وہ اور آنکھوں میں کھارا دکھ ہے میں عورت ہوں مجھ سے ملیے میرا مٹی گارا دکھ ہے عشق میں دکھ ہی چارہ سمجھا اور وجہ بیچارہ دکھ ہے دیکھ خدا اب تیرے ہوتے میرا صرف سہارا دکھ ہے ایک کنارہ تم ہو یعنی میرا ایک کنارہ ...

مزید پڑھیے

دل تعفن سے بھر گیا ہوگا (ردیف .. ی)

دل تعفن سے بھر گیا ہوگا میں محبت کو گاڑ آئی تھی چند رشتے وہیں پہ ڈوبے تھے میرے گاؤں میں باڑھ آئی تھی آج رسی خرید لائی ہوں دھول پنکھے سے جھاڑ آئی تھی یہ اداسی کہاں سے پھوٹ پڑی میں تو جڑ سے اکھاڑ آئی تھی تم مری زندگی سنوارو گے جس کو میں خود بگاڑ آئی تھی بس مجھے ایک گھر بسانا ...

مزید پڑھیے

زندہ آنکھوں میں بے حسی روشن

زندہ آنکھوں میں بے حسی روشن مردہ چہروں پہ تازگی روشن ان نصیبوں پہ روز ہو ماتم ان کی محفل میں روشنی روشن خود میں اس کو بجھا دیا میں نے پھر ہوا مجھ میں اور بھی روشن بے وفا تھا مگر بچھڑنے پر اس کی آنکھوں میں تھی نمی روشن عادتاً سب سے بات کرتی ہوں اس کی رہتی مگر کمی روشن اس کے ...

مزید پڑھیے

ایک تمنا ایسی جو درکار نہیں

ایک تمنا ایسی جو درکار نہیں ایک پہیلی ہے جو پر اسرار نہیں کہیں پہ گھر خالی ہے کوئی لوگ نہیں کہیں پہ لوگ بہت ہیں پر دیوار نہیں تیرا اس کو چھوڑ کے جینا ایسا ہے ایک کہانی پوری ہے کردار نہیں ملنے کی امید کہیں پر رکھی ہے بوجھ کسی کے ہجر کا ہے جو بار نہیں ایک سہولت حاصل ہو جائے مجھ ...

مزید پڑھیے

مقابلے کے نہ ہم دشمنی کے قابل ہیں

مقابلے کے نہ ہم دشمنی کے قابل ہیں ذہین لوگ ہیں بس عاشقی کے قابل ہیں جو اپنی مرضی کا سوچیں تم ان کو دفنا دو کہ ایسی لڑکیاں کب رخصتی کے قابل ہیں دکھی نہیں ہیں کہ ہم کیوں ہوئے نظر انداز ہمیں پتا ہے کہ ہم بے رخی کے قابل ہیں ہمیں ڈرایا گیا کب سکھایا ڈٹ جانا ہم ایسے لوگ فقط عاجزی کے ...

مزید پڑھیے

مانجھی بوڑھا ناؤ پرانی

مانجھی بوڑھا ناؤ پرانی اور ہوائیں ہیں طوفانی اس پر طرہ تاریکی ہے اور ندی میں ہے طغیانی مل پائے گی منزل کیسے برکھا رت ہے گہرا پانی خلق وفا ایثار کی باتیں لگتی ہیں اب مثل کہانی پیری دور خزاں کی مظہر اور بہاراں عہد جوانی فرحتؔ غم کے دو پہلو ہیں خشک لبی اور تر دامانی

مزید پڑھیے

مرے شعروں میں عکس زندگی ہے

مرے شعروں میں عکس زندگی ہے جو دیکھا ہے سدا لکھا وہی ہے مسرت ہے نہ آنکھوں میں نمی ہے طبیعت میں عجب افسردگی ہے لگی تھیں جس نشیمن پر نگاہیں اسی پر تاک کے بجلی گری ہے نہ سمجھے محسنوں کی جو اذیت بھلا کس کام کا وہ آدمی ہے مسافت ہے تھکن ہے اور میں ہوں مرے ہمراہ میری بے کسی ہے ہر اک کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1501 سے 6203