قومی زبان

بہت رنگین دل کش ہے مجازی پیار کی دنیا

بہت رنگین دل کش ہے مجازی پیار کی دنیا ابھرنے ہی نہیں دیتی لب و رخسار کی دنیا زمانہ سے جدا کر دے حقیقت کو فنا کر دے فقط خوابوں میں لے جائے حسیں دل دار کی دنیا یہاں جھوٹوں کا میلہ ہے جو بولے سچ اکیلا ہے یقیں گر ہے نہیں دیکھو ذرا اخبار کی دنیا غریبوں کو ستاتی ہے امیروں کو بناتی ...

مزید پڑھیے

سبھی سے دور بیاباں میں رہ رہے ہیں ہم

سبھی سے دور بیاباں میں رہ رہے ہیں ہم نہ سن رہے ہیں کسی کی نہ کہہ رہے ہیں ہم رواں ندی تو نہیں ہے مگر ہوا کے سنگ غبار بن کے زمانے سے بہہ رہے ہیں ہم کسی غریب کے ٹوٹے ہوئے مکاں کی طرح ذرا ذرا ہی سہی روز ڈھ رہے ہیں ہم کھلی کتاب سی یہ زندگی ہماری ہے ورق ورق ہیں اڑے سب نہ تہ رہے ہیں ...

مزید پڑھیے

نکل پڑا ہے وہ سورج نئی تپن لے کر

نکل پڑا ہے وہ سورج نئی تپن لے کر چلا ہے لے کے وہ برچھی کہ پھر کرن لے کر جو میرے حصہ کا بادل ہے کیوں نہیں برسا کہاں میں جاؤں بھلا تن کی یہ اگن لے کر ہر ایک شخص گیا چھوڑ کر مجھے آگے کہیں میں مر ہی نہ جاؤں یہی جلن لے کر فقیر ہم ہیں کہ جھولا اٹھا کے چل دیں گے کہاں کہاں لیے پھرتے رہیں گے ...

مزید پڑھیے

خیال و خواب میں دنیا صدا بسائی گئی

خیال و خواب میں دنیا صدا بسائی گئی اسی لئے تو حقیقت سے آشنائی گئی تمہاری وجہ سے ملتا تھا ہر کسی سے میں رہے نہ تم تو سبھی سے وہ آشنائی گئی طویل رات لگے اب نہ دن لگے چھوٹا پرانے لوگ گئے داستاں سرائی گئی مرے بدن کی حدوں تک کیا مجھے محدود یہ کس حساب سے مجھ کو سزا سنائی گئی تمہارے ...

مزید پڑھیے

تنقید کرو خوب مگر دیکھتے رہنا

تنقید کرو خوب مگر دیکھتے رہنا بیکار نہ جائے گا ہنر دیکھتے رہنا ہم بیچ سمندر سے گہر لے کے ہیں آئے تم بیٹھ کے ساحل پہ لہر دیکھتے رہنا آئی نہ کبھی لوٹ کے پھر فصل بہاراں بے سود گیا میرا ڈگر دیکھتے رہنا تم شور مچاؤ کہ جلا دو یہ بدن بھی ہوگا نہ کبھی ان پہ اثر دیکھتے رہنا جس سمت چلا ...

مزید پڑھیے

کسی کی چاہ میں حد سے گزر گئے ہوتے

کسی کی چاہ میں حد سے گزر گئے ہوتے تو نام سارے زمانے میں کر گئے ہوتے ہماری پیاس کی رکھ لی ہے لاج صحرا نے سمندروں کے سہارے تو مر گئے ہوتے جو میرے سینہ پے ہنس کے وہ ہاتھ رکھ دیتے تو زخم دل کے سبھی میرے بھر گئے ہوتے کسی کی یاد نے ہم کو سنبھال رکھا ہے وگرنہ ہجر میں کب کے ہی مر گئے ...

مزید پڑھیے

راستے لاکھ سہی کوئی بھی رہبر نہ لگے

راستے لاکھ سہی کوئی بھی رہبر نہ لگے یہ بھی ممکن ہے کہ در وا ہو مگر در نہ لگے اجنبی لوگ ہیں اس پار کی بستی میں مگر مجھ کو اس پار بھی اپنا تو کوئی گھر نہ لگے ایسے بچھڑا کہ زمانے سے وہ لوٹا ہی نہیں ہے دعا ایسے پرندے کو کبھی پر نہ لگے اب کہ ڈھونڈوں گی ٹھکانہ میں کوئی دشت کے پاس یوں سر ...

مزید پڑھیے

عشق میں ہارا ہوا ہوں کامرانی کچھ نہیں

عشق میں ہارا ہوا ہوں کامرانی کچھ نہیں میرے حصہ میں صنم کی مہربانی کچھ نہیں چھوڑ کر تتلی گئی ہے جب سے دل کے باغ کو دل میں بس ویرانیاں ہیں رت سہانی کچھ نہیں کشتی سے بچھڑا جو دریا اب تلک صدمے میں ہے جم گئی ہے برف اس میں اور روانی کچھ نہیں آئینے کو حیرتیں ہے حال میرا دیکھ کر داغ ...

مزید پڑھیے

ہم آج خود کو تمہارا غلام کرتے ہیں

ہم آج خود کو تمہارا غلام کرتے ہیں ہر ایک سانس تمہارے ہی نام کرتے ہیں سکھا گئی ہیں ادب ڈالیاں شجر کی ہمیں لو ہم جبیں کو جھکا کر سلام کرتے ہیں جنہیں ہے فکر یہاں پہ غریب لوگوں کی وہ ہی غریبوں کا جینا حرام کرتے ہیں سرائے میں نہ رکیں گے نہ کسی بستی میں ہم عشق والے ہیں دل میں قیام ...

مزید پڑھیے

نئے فتنوں کے ہر جانب سے اتنے سر نکل آئے

نئے فتنوں کے ہر جانب سے اتنے سر نکل آئے زمیں پر جس طرح سبزہ نمی پا کر نکل آئے بہت ہشیار لوگو اس نئی تاریخ کے ہاتھوں نہ جانے کب تمہارا گھر کسی کا گھر نکل آئے کہیں کے پھول پتے ہیں کہیں کے پھل کہیں کے ہیں کچھ ایسے پیڑ بھی بھارت کی دھرتی پر نکل آئے در تقدیس کو جب وا کیا تو قصر حرمت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1500 سے 6203