قومی زبان

بحر سے دریا بنا دریا سے کوزہ ہو گیا

بحر سے دریا بنا دریا سے کوزہ ہو گیا مرتبہ کیا تھا تمہاری بزم میں کیا ہو گیا وقت بدلا تو سبھی کچھ الٹا پلٹا ہو گیا پھول کھلتے تھے جہاں کل آج صحرا ہو گیا یہ مرے اسلاف کی معراج الفت تھی کہ جو تیز رو دریا رکا دریا میں رستہ ہو گیا جانے یہ آشفتگی مجھ کو کہاں لے جائے گی آج پھر قلب حزیں ...

مزید پڑھیے

ہم نے اس دھوپ سے اماں کے لئے

ہم نے اس دھوپ سے اماں کے لئے جسم تانے ہیں سائباں کے لئے آنکھ منظر سے آشنا ہی نہیں لفظ ڈھونڈے ہیں پھر زباں کے لئے مجھ پہ پھینکے گئے تھے جو پتھر میں نے رکھے ہیں وہ مکاں کے لئے خود فریبی تو اب نہیں ممکن خواب دیکھے ہیں بس جہاں کے لئے ہم جو بھیجے گئے ہیں دنیا میں ایک طعنہ ہیں آسماں ...

مزید پڑھیے

جسم سے رہ گزر بناتے ہیں

جسم سے رہ گزر بناتے ہیں آ محبت کو شر بناتے ہیں صرف دیوار و در بناتے ہیں اور دعویٰ ہے گھر بناتے ہیں خود کو بار دگر بناتے ہیں اور اب سوچ کر بناتے ہیں آج لکڑی کے جوڑ کر تختے ڈوب جانے کا ڈر بناتے ہیں جن کے پاؤں وہ کاٹ لیتے ہیں ان کے جسموں پہ سر بناتے ہیں یہ لٹیرے ہی میرے محسن ...

مزید پڑھیے

زیست محو سحاب ہو جیسے

زیست محو سحاب ہو جیسے مجھ میں تیرا شباب ہو جیسے اس عقیدت سے چپ ہی رہتے ہیں تیری سننا ثواب ہو جیسے رکھ کے سر پہ گلی میں بیچی ہے یہ محبت عذاب ہو جیسے اس کی نظروں میں دیر تک دیکھا میری آنکھوں کا خواب ہو جیسے تیرے در پہ سکوں نہیں ملتا میری نیت خراب ہو جیسے اس کے خط کو سنبھال رکھا ...

مزید پڑھیے

تیرے ساتھ چلتی ہوں اک جہان جاتا ہے

تیرے ساتھ چلتی ہوں اک جہان جاتا ہے گر گریز کرتی ہوں تیرا مان جاتا ہے درد کے حوالے سے کتنا با خبر ہے وہ میرے دل کی باتوں کو کیسے جان جاتا ہے دھوپ ہی تو ملتی ہے زرد زرد موسم میں وحشتوں کے صحرا میں سائبان جاتا ہے خاک دل تجھے لے کر اب کہاں کہاں جاؤں گر زمیں کی ہوتی ہوں آسمان جاتا ...

مزید پڑھیے

وقت سے پہلے ہوئی شام گلہ کس سے کروں

وقت سے پہلے ہوئی شام گلہ کس سے کروں رہ گئے کتنے مرے کام گلہ کس سے کروں اپنی ناکام تمنا کا سبب میں تو نہ تھی آ گیا مجھ پہ ہی الزام گلہ کس سے کروں دل ہراساں ہے بہت دیکھ کے انجام وفا اے مری حسرت ناکام گلہ کس سے کروں اب تو وہ مجھ سے ملاتا ہی نہیں اپنی نظر اب چھلکتے ہی نہیں جام گلہ کس ...

مزید پڑھیے

اپنی دیدہ وری سے ڈرتی ہوں

اپنی دیدہ وری سے ڈرتی ہوں ورنہ میں کب کسی سے ڈرتی ہوں اصل سے نقل بڑھ نہ جائے کہیں فن صورت گری سے ڈرتی ہوں مجھ کو اتنا خدا کا خوف نہیں جتنا میں آدمی سے ڈرتی ہوں دوستی کی تو بات ہی نہ کرو میں بہت دوستی سے ڈرتی ہوں تیرگی تو مری محافظ ہے ہم نفس روشنی سے ڈرتی ہوں جس کو انسانیت سے ...

مزید پڑھیے

ہفت افلاک سے آگے کہیں کچھ ہو تو کہوں

ہفت افلاک سے آگے کہیں کچھ ہو تو کہوں حد ادراک سے آگے کہیں کچھ ہو تو کہوں میں نے جس ذات کو لبیک کہا ہے اس کے جلوۂ پاک سے آگے کہیں کچھ ہو تو کہوں جس پہ پیوند ہی پیوند نظر آتے تھے ایسی پوشاک سے آگے کہیں کچھ ہو تو کہوں مجھ سے پوچھے کوئی انسان کہاں تک پہنچا عزم بے باک سے آگے کہیں کچھ ...

مزید پڑھیے

آؤ نا مجھ میں اتر جاؤ غزل ہونے تک

آؤ نا مجھ میں اتر جاؤ غزل ہونے تک تم ذرا اور نکھر جاؤ غزل ہونے تک میری خاطر ہی ٹھہر جاؤ غزل ہونے تک آرزو ہے کہ نہ گھر جاؤ غزل ہونے تک تم اگر چاہو تو ہر شعر شگفتہ ہو جائے بس مرے دل میں اتر جاؤ غزل ہونے تک چاند بن کر مری شہرت میں اجالا کر دو روشنی بن کے بکھر جاؤ غزل ہونے ...

مزید پڑھیے

ظاہر میں تو مجموعۂ اشعار غزل ہے

ظاہر میں تو مجموعۂ اشعار غزل ہے باطن میں مہکتا ہوا گلزار غزل ہے مطلع سے بصد شان نمودار غزل ہے دامن میں سمیٹے ہوئے افکار غزل ہے آنکھوں سے لگاؤ کہ اسے دل میں بساؤ احباب کی مانند طرح دار غزل ہے کیسے نہ کریں اہل نظر اس کی ستائش پھولوں سی حسیں اور مہک دار غزل ہے فرحتؔ ہے روا جب سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1502 سے 6203