قومی زبان

ہاتھ آگے کیا اور دست کرم تھام لیا

ہاتھ آگے کیا اور دست کرم تھام لیا سر جھکا پائی تو پلکوں سے حرم تھام لیا میں نے اس دنیا کے دستور سے باغی ہو کر حق و انصاف و محبت کا علم تھام لیا حق کو باطل سے ملاتے ہوئے دیکھا سب کو کچھ نہ کچھ سچ کے بتانے کو قلم تھام لیا ناتواں ظلم بڑھاتے ہیں یہ جانا جب سے خود پہ اٹھتا ہوا ہر دست ...

مزید پڑھیے

امن و امان پیار کی سوغات چاہئے

امن و امان پیار کی سوغات چاہئے خوابوں کو نیند نیند کو بھی رات چاہئے وہ داؤ آزمانے کو تیار ہیں بہت ان کو خبر نہیں کہ ہمیں مات چاہئے شکوہ اگر نہ ہو تو کہاں ان سے بات ہو تقریب کچھ تو بہر ملاقات چاہئے آنکھوں میں رتجگا ہے اٹھانے کو کوئی خواب تعبیر کو تو اشکوں کی برسات چاہئے خوں رنگ ...

مزید پڑھیے

حقیقت بن گئی خود ہی حجاب آہستہ آہستہ

حقیقت بن گئی خود ہی حجاب آہستہ آہستہ نظر کو لے مرا ذوق سراب آہستہ آہستہ تڑپ پیدا تو کر دل میں رخ زیبا کے سودائی سرک جائے گا خود ان کا نقاب آہستہ آہستہ سلیقہ آ گیا ہے شیخ کو بھی ہوشمندی کا لگا ہے مانگنے جام شراب آہستہ آہستہ جہان آب و گل بھی دیکھنے کی چیز تھی لیکن بشر نے کر دیا اس ...

مزید پڑھیے

ترے جلووں کا وہ عالم نہیں ہے

ترے جلووں کا وہ عالم نہیں ہے شعور دید ورنہ کم نہیں ہے نظام زندگی ہے منتشر سا مزاج یار تو برہم نہیں ہے کبھی لذت کش راحت نہ ہوں گے میسر جن کو تیرا غم نہیں ہے دیا ہے غم زمانے بھر کا مجھ کو عنایت یہ بھی تیری کم نہیں ہے ہمیں امید ہو کیوں کر کرم کی ستم بھی جب ترا پیہم نہیں ہے نوازش ہو ...

مزید پڑھیے

تم نہ آؤ گے تو کیا ہو جائے گا

تم نہ آؤ گے تو کیا ہو جائے گا درد خود بڑھ کر دوا ہو جائے گا جو خودی سے آشنا ہو جائے گا محرم راز بقا ہو جائے گا کیا پلاؤ گے کسی سقراط کو زہر تو آب بقا ہو جائے گا ہم کریں گے جب نوائے حق بلند اک زمانہ ہم نوا ہو جائے گا پارسائی دیکھتی رہ جائے گی باب رحمت ہم پہ وا ہو جائے گا شوق منزل ...

مزید پڑھیے

دنیا میں نام کو بھی محبت نہیں رہی

دنیا میں نام کو بھی محبت نہیں رہی انسان کی وہ پہلی سی فطرت نہیں رہی بے حرمتیٔ حضرت آدم کو دیکھ کر اپنے تو دل میں حسرت جنت نہیں رہی حاصل اسے مقام فرشتوں کا تھا کبھی صد حیف آدمی کی وہ عظمت نہیں رہی آتش بجاں ہے برق تپاں کس کے واسطے ہم آشیاں بنائیں یہ حسرت نہیں رہی اپنوں کا لطف جور ...

مزید پڑھیے

آشیانے کی جب بھی یاد آئی

آشیانے کی جب بھی یاد آئی ایک بجلی سی دل میں لہرائی یوں بھی دیکھا گیا ہے محفل میں وہ تماشا تھے ہم تماشائی تیرے آنچل کا جس پہ سایہ ہو اس گدا پر نثار دارائی ہم نے دامن ہی جا لیا ان کا لوگ کرتے رہے جبیں سائی ماہ و انجم میں لالہ و گل میں ہم کو تیری جھلک نظر آئی دوست آئے تھے مجھ کو ...

مزید پڑھیے

نظر آنے لگے ہو مہرباں سے

نظر آنے لگے ہو مہرباں سے یہ انداز آ گئے تم میں کہاں سے کسے راس آئے گی تیری خدائی اگر ہم اٹھ گئے بزم جہاں سے بھرم کھل جائے گا تیرے کرم کا اگر کچھ کہہ دیا ہم نے زباں سے کہاں سے آ گیا یہ ابر رحمت ہمیں کچھ کام تھا برق تپاں سے جسے دیکھو وہی مطلب کا بندہ محبت اٹھ گئی روئے جہاں سے کریں ...

مزید پڑھیے

ہے جو درویش وہ سلطاں ہے یہ معلوم ہوا

ہے جو درویش وہ سلطاں ہے یہ معلوم ہوا بوریا تخت سلیماں ہے یہ معلوم ہوا دل آگاہ پشیماں ہے یہ معلوم ہوا علم خود جہل کا عرفاں ہے یہ معلوم ہوا اپنے ہی واہمے کے سب ہیں اتار اور چڑھاؤ نہ سمندر ہے نہ طوفاں ہے یہ معلوم ہوا ڈھونڈنے نکلے تھے جمعیت خاطر لیکن شہر کا شہر پریشاں ہے یہ معلوم ...

مزید پڑھیے

قلب انساں میں جب روشنی ہو گئی

قلب انساں میں جب روشنی ہو گئی دور دنیا کی سب تیرگی ہو گئی نعمت غم ہر اک کا مقدر نہیں یہ جسے بھی عطا ہو گئی ہو گئی منزلیں رہ گئیں بن کے گرد سفر راہبر میری وارفتگی ہو گئی مٹ گئی دل سے ہر آرزوئے طرب غم کی لذت سے جب آگہی ہو گئی جب بھلایا انہیں ظلمتیں چھا گئیں جب وہ یاد آ گئے روشنی ہو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1489 سے 6203