قومی زبان

راز الفت بتا گیا کوئی

راز الفت بتا گیا کوئی مجھ کو جینا سکھا گیا کوئی میرے دل میں سما گیا کوئی اجڑی بستی بسا گیا کوئی اپنا جلوہ دکھا گیا کوئی نور و نکہت لٹا گیا کوئی کشت ویراں تھی زندگی میری رشک جنت بنا گیا کوئی ایک عالم ہے وجد میں گویا ایسا نغمہ سنا گیا کوئی ہم بھی قائل تھے ضبط کے لیکن کھوئے ایسے ...

مزید پڑھیے

کچھ غم کا غم ہوا نہ خوشی کی خوشی ہوئی

کچھ غم کا غم ہوا نہ خوشی کی خوشی ہوئی کس راحت و سکوں سے بسر زندگی ہوئی اس بے نوا گدا کو شہنشاہ جانیے جس کو نصیب دولت دیوانگی ہوئی کیسے شب فراق کٹی کچھ نہ پوچھئے اک داستاں ہے رنج و الم سے بھری ہوئی سجدے کو سر جھکا دیا اپنے ہی پاؤں پر مجھ کو جب اپنی ذات سے کچھ آگہی ہوئی خود اپنے ...

مزید پڑھیے

عدو ہو گیا آدمی آدمی کا

عدو ہو گیا آدمی آدمی کا عجب دور ہے یہ نئی روشنی کا الجھتے ہیں نسلی تنافر میں انساں مٹا کر نہ رکھ دیں یہ نام آدمی کا بس اک سانس ہے آئے آئے نہ آئے بھروسا نہیں ہے کوئی زندگی کا کدورت کو چھوڑو محبت بڑھاؤ یہ دنیا ہے میلہ گھڑی دو گھڑی کا فرشتوں سے نسبت مجھے دینے والو نہیں جانتے تم ...

مزید پڑھیے

مجھے ان سے محبت ہو چلی ہے

مجھے ان سے محبت ہو چلی ہے تڑپنا دل کی قسمت ہو چلی ہے عداوت اور نفرت یا الٰہی ترے بندوں کی فطرت ہو چلی ہے حقیقت تھی کبھی توقیر آدم مگر اب تو حکایت ہو چلی ہے کرم یہ بھی ہے تیری بے رخی کا مجھے اب خود سے نفرت ہو چلی ہے عبادت کا صلہ ہیں حور و غلماں عبادت بھی تجارت ہو چلی ہے ہمیں پر ...

مزید پڑھیے

چلا چل مہلت آرام کیا ہے

چلا چل مہلت آرام کیا ہے مسافر اور تیرا کام کیا ہے ہمارا واسطہ ہے ان کے ڈر سے ہمیں سارے جہاں سے کام کیا ہے تمہارا حسن تو ہے غیر فانی ہمارے عشق کا انجام کیا ہے خدا کا نام لینا چاہتا ہوں مگر میرے خدا کا نام کیا ہے سواد شام مے خانہ سلامت بیاض جامۂ احرام کیا ہے تم اپنے آئینے سے ...

مزید پڑھیے

کثرت جلوہ کو آئینۂ وحدت سمجھو

کثرت جلوہ کو آئینۂ وحدت سمجھو جس کی صورت نظر آئے وہی صورت سمجھو غم کو غم اور نہ مصیبت کو مصیبت سمجھو جو در دوست سے مل جائے غنیمت سمجھو جھک کے جو سینکڑوں فتنوں کو جگا سکتی ہیں وہ نگاہیں اگر اٹھیں تو قیامت سمجھو نہیں ہوتے ہیں ریاکاری کے سجدے مجھ سے میں اگر سر نہ جھکاؤں تو عبادت ...

مزید پڑھیے

ہجوم غم ہے قلب غمزدہ ہے

ہجوم غم ہے قلب غمزدہ ہے مری محفل مرا خلوت‌ کدہ ہے ازل سے آج تک کوئی نہ سمجھا حیات مختصر کیا شعبدہ ہے بہکنے دے ذرا رندوں کو ساقی یہی ہنگامہ جان مے کدہ ہے کہاں دیکھو گے تم اپنی تجلی جو آئینہ ہے وہ حیرت زدہ ہے نظر کیا جام و مینا پر اٹھاؤں نگاہ دوست پورا مے کدہ ہے ادھر بھی رخ کر ...

مزید پڑھیے

اجالا کر کے ظلمت میں گھرا ہوں

اجالا کر کے ظلمت میں گھرا ہوں چراغ رہ گزر تھا بجھ گیا ہوں تری تصویر کیسے بن سکے گی ہر اک سادہ ورق کو دیکھتا ہوں مجھے طوفان سے شکوہ نہیں ہے ہلاک بے رخیٔ ناخدا ہوں ترے تیروں کا اندازہ کروں گا ابھی تو زخم دل کے گن گا رہا ہوں تمہیں سورج نظر آئیں گے اپنے میں آئینہ ہوں اور ٹوٹا ہوا ...

مزید پڑھیے

پوچھیں ترے ظلم کا سبب ہم

پوچھیں ترے ظلم کا سبب ہم اتنے تو نہیں ہیں بے ادب ہم الزام نہیں ہے فصل گل پر خود اپنے جنوں کا ہیں سبب ہم ساحل پہ سوائے خاک کیا تھا غرقاب ہوئے ہیں تشنہ لب ہم کرتے ہیں تلاش آدمیت دنیا میں ہیں آدمی عجب ہم فرصت ہو تو آ کے دیکھ جاؤ مدت سے پڑے ہیں جاں بلب ہم باہر سے ہیں مومن ...

مزید پڑھیے

سونا تھا جتنا عہد جوانی میں سو لیے

سونا تھا جتنا عہد جوانی میں سو لیے اب دھوپ سر پہ آ گئی ہے آنکھ کھولیے یاد آ گیا جو اپنا گریباں بہار میں دامن سے منہ لپیٹ لیا اور رو لیے اب اور کیا کریں ترے ترک ستم کے بعد خود اپنے دل میں آپ ہی نشتر چبھو لیے پروانۂ رہائی خامہ تو مل گیا لیکن حضور اب در زنداں بھی کھولیے اپنے لیے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1490 سے 6203