جس صبر و رضا سے ترے رستے پہ رواں ہوں
جس صبر و رضا سے ترے رستے پہ رواں ہوں باطل کے ارادوں کے لئے کوہ گراں ہوں اے ماہ منور تجھے اس در کی قسم ہے رستہ وے سجھا دے کہ میں اک پل میں وہاں ہوں آنا نہ گوارا ہو اگر کوچے سے ان کے مرقد مرا کر دیجے فرستادہ جہاں ہوں افکار نہ جذبوں کی پذیرائی جہاں میں اب اپنے ہی ادراک سے میں خود بھی ...