قومی زبان

جس صبر و رضا سے ترے رستے پہ رواں ہوں

جس صبر و رضا سے ترے رستے پہ رواں ہوں باطل کے ارادوں کے لئے کوہ گراں ہوں اے ماہ منور تجھے اس در کی قسم ہے رستہ وے سجھا دے کہ میں اک پل میں وہاں ہوں آنا نہ گوارا ہو اگر کوچے سے ان کے مرقد مرا کر دیجے فرستادہ جہاں ہوں افکار نہ جذبوں کی پذیرائی جہاں میں اب اپنے ہی ادراک سے میں خود بھی ...

مزید پڑھیے

حقیقتوں سے نظر چرا کے خیال خوابوں میں زندہ رہنا

حقیقتوں سے نظر چرا کے خیال خوابوں میں زندہ رہنا زوال کی داستان بن کر فقط کتابوں میں زندہ رہنا خود اپنے ہاتھوں سے گھر جلا کے فضائیں مسموم کر کے ساری جھلستے دن اور تڑپتی راتوں کے پھر عذابوں میں زندہ رہنا ہوں بادہ و جام سامنے گر نہیں سلامت جو دست و بازو تو پھر ہے تقدیر تشنگی کے ...

مزید پڑھیے

ہم کو خوش رہنے کی اکثر جو دعا دیتے ہیں

ہم کو خوش رہنے کی اکثر جو دعا دیتے ہیں غم کا سامان بھی وہ خود ہی بنا دیتے ہیں سر جھکاؤ تو خوشامد ہے اٹھاؤ تو غرور جانے کس بیچ کے رستے کا پتا دیتے ہیں ان کے چہرے سے ٹپکتا ہے چھپا بغض و عناد درس دنیا کو محبت کا وہ کیا دیتے ہیں ہم ضرورت میں کبھی کام تھے آئے جن کے ہم کو وہ پہلو تہی کر ...

مزید پڑھیے

چاہتی ہوں کہ میں روؤں تو مناظر رو دیں

چاہتی ہوں کہ میں روؤں تو مناظر رو دیں اس لہو رنگ کو اک بار ہی مل کر دھو دیں حشر برپا کرے دشمن کو ملی ہے مہلت اور ہم پر ہے ستم اتنا کہ منزل کھو دیں ان کو تقدیر پہ ہے ناز یقیں رکھتے ہیں کہ وہاں پھول کھلیں گے جہاں کانٹے بو دیں ہر کوئی دھرتی پہ آقائی لیے بیٹھا ہے بندگی ایک کی ہے اور ...

مزید پڑھیے

نہ یہ انداز نہ لفظوں سے بیاں ہوتی ہے

نہ یہ انداز نہ لفظوں سے بیاں ہوتی ہے دل کی حالت تو نگاہوں سے عیاں ہوتی ہے ہم زمانے سے جڑے ہیں تو زمانہ ہم سے ہم کوئی بات کریں سب کی زباں ہوتی ہے کچھ تو پندار وفا کا ہی بھرم رکھ لیتے بد گمانی رہ الفت میں گراں ہوتی ہے جس کو اپنا کہا پھر جان لٹا دی اس پر قدر خود غرضوں کو پر جاں کی ...

مزید پڑھیے

گھاؤ

ترے اختیار کی حد نہیں ترے فیصلوں سے مفر نہیں مرے دل کے گھاؤ عمیق تر ترے فیصلوں کی ہیں ضرب سے میں تری خوشی میں جو خوش رہی تو مری خوشی کا خیال کر کوئی ایسا دارو کہیں سے لا مرے گہرے گہرے سے گھاؤ بھر

مزید پڑھیے

شمع کی نظروں میں سودائی ہے پروانہ ابھی

شمع کی نظروں میں سودائی ہے پروانہ ابھی سوز و ساز عشق سے ہے حسن بیگانہ ابھی آستان ناز سے دنیا ہے بیگانہ ابھی کوئی کعبہ ڈھونڈتا ہے کوئی بت خانہ ابھی کچھ بگولوں اور کچھ ذروں میں ہیں سرگوشیاں دشت سے گزرا ہے شاید کوئی دیوانہ ابھی اس نے جذب عشق کی تاثیر دیکھی ہی نہیں اپنے جلووں پر ...

مزید پڑھیے

محبت پھول بھی ہے خار بھی ہے

محبت پھول بھی ہے خار بھی ہے یہ ویرانہ بھی ہے گلزار بھی ہے فروزاں کرکے دیکھے شمع دل کو پتنگا پیکر انوار بھی ہے کمال آگہی پر مرنے والو کمال آگہی آزار بھی ہے تماشہ بن گیا جس کا تحیر نظر وہ لائق دیدار بھی ہے گو لاکھ آرام ہو کنج قفس میں اسیری روح کا آزار بھی ہے یہاں شام و سحر بکتے ...

مزید پڑھیے

میں سر دار مسکراتی رہی

میں سر دار مسکراتی رہی زندگانی سزا بڑھاتی رہی صبر کو میرے بے حسی جانا حوصلے اور آزماتی رہی آبلہ پائی سے ہوا سیراب پھول صحرا میں میں کھلاتی رہی دل کی تیرہ شبی مٹانے کو زخم سینے کے میں جلاتی رہی خود کا شاید کبھی گزر ہو یہاں خار رستے سے میں ہٹاتی رہی میں جو تنہائیوں سے ڈرتی ...

مزید پڑھیے

نہیں ہو پائے گی تجھ پر عیاں آزردگی دل کی

نہیں ہو پائے گی تجھ پر عیاں آزردگی دل کی چھپا رکھی نہاں خانوں میں ہے افسردگی دل کی تھکن چہروں پہ ہے اور رونقیں ناپید دنیا کی اندھیروں میں نہ جانے کب سے ہے تابندگی دل کی کوئی نبضیں ٹٹولے سانس کی بھی آہٹیں پرکھے ملے گا کھوج نہ کوئی ہے کیا درماندگی دل کی زمانہ اپنی چالیں چل گیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1488 سے 6203