یہ رات دن کا بدلنا نظر میں رہتا ہے
یہ رات دن کا بدلنا نظر میں رہتا ہے ہمارا ذہن مسلسل سفر میں رہتا ہے نظر میں اس کی تو وسعت ہے آسمانوں کی گو دیکھنے کو پرندہ شجر میں رہتا ہے ہمارا نام وہ لے لے تو لوگ چونک اٹھیں کہ فرد فرد ہمارے اثر میں رہتا ہے شجر شجر جو ثمر ہے تو دیکھ خود کو بھی جہان نو کا تصور ثمر میں رہتا ہے ہر ...