قومی زبان

یہ رات دن کا بدلنا نظر میں رہتا ہے

یہ رات دن کا بدلنا نظر میں رہتا ہے ہمارا ذہن مسلسل سفر میں رہتا ہے نظر میں اس کی تو وسعت ہے آسمانوں کی گو دیکھنے کو پرندہ شجر میں رہتا ہے ہمارا نام وہ لے لے تو لوگ چونک اٹھیں کہ فرد فرد ہمارے اثر میں رہتا ہے شجر شجر جو ثمر ہے تو دیکھ خود کو بھی جہان نو کا تصور ثمر میں رہتا ہے ہر ...

مزید پڑھیے

ہم کو خوش آیا ترا ہم سے خفا ہو جانا

ہم کو خوش آیا ترا ہم سے خفا ہو جانا سر بسر خواب کا تعبیر نما ہو جانا چند اشکوں نے چھپایا ہے مکمل منظر ہم پہ کھلتا ہی گیا تیرا جدا ہونا اپنی خواہش تری یادوں میں بھٹکتی ہے کہیں جیسے گلگشت میں تتلی کا فنا ہو جانا شاخ در شاخ سبک سار ہواؤں کا گزر اک قفس سے کسی پنچھی کا رہا ہو ...

مزید پڑھیے

ہم کہ چہرے پہ نہ لائے کبھی ویرانی کو

ہم کہ چہرے پہ نہ لائے کبھی ویرانی کو کیا یہ کافی نہیں ظالم تری حیرانی کو کار فرہاد سے یہ کم تو نہیں جو ہم نے آنکھ سے دل کی طرف موڑ دیا پانی کو شیشۂ شوق پہ تو سنگ ملامت نہ گرا عکس گل رنگ ہی کافی ہے گراں بانی کو دامن چشم میں تارا ہے نہ جگنو کوئی دیکھ اے دوست مری بے سر و سامانی ...

مزید پڑھیے

عقل مند مسخرہ

مسخرہ تھا بادشہ کا اک غلام ہو گیا تھا وہ بہت ہی نیک نام خدمت مخلوق اس کا کام تھا اور اس نیکی کا چرچا عام تھا دیکھیے کرنا خدا کا کیا ہوا ایک اس کا دوست غم میں پھنس گیا رنگ لائی شاہ کی چشم عتاب بے نوا پر ہو گیا نازل عذاب مل چکا تھا حکم اس کو قتل کا اب رہائی کا کوئی چارہ نہ تھا موت کی ...

مزید پڑھیے

یہ جمال کیا یہ جلال کیا یہ عروج کیا یہ زوال کیا

یہ جمال کیا یہ جلال کیا یہ عروج کیا یہ زوال کیا وہ جو پیڑ جڑ سے اکھڑ گیا اسے موسموں کا ملال کیا وہ جو لمحہ لمحہ بکھر گیا وہ جو اپنی حد سے گزر گیا اسے فکر شام و سحر ہو کیا اسے رنجش مہ و سال کیا وہ جو بے نیاز سا ہو گیا وہ جو ایک راز سا ہو گیا جسے کچھ غرض ہی نہیں رہی اسے دست حرف سوال ...

مزید پڑھیے

ہنسی کی بات کہ اس نے وہاں بلا کے مجھے

ہنسی کی بات کہ اس نے وہاں بلا کے مجھے بہت رلایا کہانی مری سنا کے مجھے ہر ایک لمحہ مرا خوف کی گرفت میں ہے محافظوں سے بچائے گا کون آ کے مجھے کمال فن سے لیا کام اس نے مجھ سے بھی تباہ اپنے عدو کو کیا بچا کے مجھے وہ باغ باغ ہوا ہے تو بے سبب بھی نہیں ملا ہے کچھ تو اسے خاک میں ملا کے ...

مزید پڑھیے

تم نے کیسا یہ رابطہ رکھا

تم نے کیسا یہ رابطہ رکھا نہ ملے ہو نہ فاصلہ رکھا نہیں چاہا کسی کو تیرے سوا تو نے ہم کو بھی پارسا رکھا پھول کھلتے ہی کھل گئیں آنکھیں کس نے خوشبو میں سانحہ رکھا تو نہ رسوا ہو اس لیے ہم نے اپنی چاہت پہ دائرہ رکھا جھوٹ بولا تو عمر بھر بولا تم نے اس میں بھی ضابطہ رکھا کوئی دیکھے یہ ...

مزید پڑھیے

کسی بھی وہم کو خود پر سوار مت کرنا

کسی بھی وہم کو خود پر سوار مت کرنا خیال یار کو گرد و غبار مت کرنا خلاف واقعہ کچھ بھی ہو سن سنا لینا یہی طریقہ مگر اختیار مت کرنا تمہاری آنکھ میں نفرت ہو دوسروں کے لئے تم اپنی ذات سے اتنا بھی پیار مت کرنا نشہ چڑھا ہے تو پھر یہ اتر بھی جائے گا جو ہے سرور تو اس کو خمار مت کرنا کوئی ...

مزید پڑھیے

ابر اترا ہے چار سو دیکھو

ابر اترا ہے چار سو دیکھو اب وہ نکھرے گا خوب رو دیکھو سرخ اینٹوں پہ ناچتی بارش اور یادیں ہیں رو بہ رو دیکھو ایسے موسم میں بھیگتے رہنا ایک شاعر کی آرزو دیکھو وہ جو زینہ بہ زینہ اترا ہے عکس میرا ہے ہو بہو دیکھو اپنی سوچیں سفر میں رہتی ہیں اس کو پانے کی جستجو دیکھو دل کی دنیا ہے ...

مزید پڑھیے

بکھر گئی ہوں تو کیا آسمان میرا ہے

بکھر گئی ہوں تو کیا آسمان میرا ہے زمیں پہ پاؤں نہیں خاکدان میرا ہے اتر گیا ہے سراپا دکھوں کی دلدل میں جو رہ گیا ہے ذرا سا نشان میرا ہے مٹا گئی ہے زمانے کی دست برد اسے جو سامنے ہے کھنڈر سا مکان میرا ہے چھپا نہ پائے گا وہ جرم دل کا خوں کر کے خلاف اس کے چلا جو بیان میرا ہے بچائے گا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1487 سے 6203