قومی زبان

ہو نظر ایسی کہ بس دل کی نگاہ تک پہنچے

ہو نظر ایسی کہ بس دل کی نگاہ تک پہنچے دل میں اترے تو کبھی حال تباہ تک پہنچے منزلیں ان کو ملا کرتی ہیں آسانی سے تیرگی چھوڑ کے جو مشعل راہ تک پہنچے اب تلک جیسی بھی گزری ہمیں منظور مگر اب تو بن جائے کچھ ایسی کہ نباہ تک پہنچے جیتنا عشق کی بازی کوئی آسان نہیں عین ممکن ہے کوئی حسن ...

مزید پڑھیے

یوں زندگی کو زیر و زبر کر رہے ہیں ہم

یوں زندگی کو زیر و زبر کر رہے ہیں ہم ہر دن ہی گردشوں میں بسر کر رہے ہیں ہم منزل کی ہے تلاش مگر یہ خبر نہیں کاغذ کی کشتیوں میں سفر کر رہے ہیں ہم اے شب سنبھل کہ تیرے اندھیروں کی خیر ہو خود میں تلاش نجم و قمر کر رہے ہیں ہم کچھ حسرتوں کے قافلے کچھ خواہشوں کے گھر بس خواب خواب ہی میں ...

مزید پڑھیے

ہے کھیل جاری ازل سے یہ اوج و پستی کا

ہے کھیل جاری ازل سے یہ اوج و پستی کا عروج جس کا کبھی تھا زوال ہے اس کا بنائی اس کے تصور میں ہے نئی تصویر ہے شاہکار مرا پر خیال ہے اس کا کہا تھا اس نے نہ جی پائے گا مجھے کھو کر وہ جی رہا ہے تو یہ بھی کمال ہے اس کا خمار اس کی محبت کا یوں وجود میں ہے کہ عکس میں مرے شامل جمال ہے اس ...

مزید پڑھیے

شہر میں تیرے مرا کوئی شناسا بھی نہیں

شہر میں تیرے مرا کوئی شناسا بھی نہیں کون ہوں میں یہ کسی شخص نے پوچھا بھی نہیں حسن مغرور کو آنکھوں میں بسایا بھی نہیں حرص کا زہر مری روح میں اترا بھی نہیں اس کی یادوں سے منور ہوئی دل کی دنیا چاند ایسا جو ابھی ابر سے نکلا بھی نہیں اپنی مرضی سے قفس ہم نے چنا تھا صیاد اس لئے تیرے ...

مزید پڑھیے

اسی سبب سے خزاں ہم کو ناگوار نہیں

اسی سبب سے خزاں ہم کو ناگوار نہیں بہار بھی تو ہمارے لئے بہار نہیں ہوس کی دھوپ میں تپتے ہیں غنچۂ نورس چمن میں کوئی شجر آج سایہ دار نہیں نہ جانے کیا ہوئے ہمراہیان منزل شوق ہماری حد نظر تک کوئی غبار نہیں جنون عشق کے انجام کی خبر کیا ہو ابھی تو اپنا گریباں بھی تار تار نہیں خلوص ...

مزید پڑھیے

جب سے گلچیں چمن پرست نہیں

جب سے گلچیں چمن پرست نہیں بار آور کوئی درخت نہیں ہم ہیں صدیوں سے گوش بر آواز آج تک کوئی بازگشت نہیں اہل گلشن پہ کیا نہیں گزری نقش یہ کس کے دل پہ ثبت نہیں لگ گئی لب پہ مہر خاموشی گرچہ لہجہ مرا کرخت نہیں چاند پر لوگ ڈالتے ہیں کمند کہئے کیا یہ خرد کی جست نہیں مے کدہ پر طلسم طاری ...

مزید پڑھیے

وہ نظر جب ادھر نہیں ہوتی

وہ نظر جب ادھر نہیں ہوتی روشنی میرے گھر نہیں ہوتی ہر بیاں مستند نہیں ہوتا ہر زباں معتبر نہیں ہوتی عشق کی راہ میں کسی کی نظر اپنے انجام پر نہیں ہوتی تھک کے ہر گام بیٹھنے والو زندگی یوں بسر نہیں ہوتی جس دعا میں تڑپ نہ ہو دل کی وہ رہین اثر نہیں ہوتی عشق میں جاں سے ہاتھ دھوتے ...

مزید پڑھیے

ادھوری سی کہانی کو نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے

ادھوری سی کہانی کو نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے ہماری زندگانی کو نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے ہمارے درمیاں کا فاصلہ کم ہو بھی سکتا تھا ذرا سی بد گمانی کو نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے محبت پھول بھی خوشبو بھی شعلہ بھی ہے شبنم بھی اسی طرز بیانی کو نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے نگاہوں سے نگاہوں پر عیاں ...

مزید پڑھیے

نہ کوئی الجھن نہ دل پریشاں نہ کوئی درد نہاں تھا پہلے

نہ کوئی الجھن نہ دل پریشاں نہ کوئی درد نہاں تھا پہلے ہمارے ہاتھوں میں تتلیاں تھیں یہ دل بہت شادماں تھا پہلے ہر ایک تتلی پہ بار غم ہے اور عندلیبوں کی آنکھ نم ہے جہاں پہ اب خاک اڑ رہی ہے یہیں کہیں گلستاں تھا پہلے نہ بغض دل میں رہے نہ نفرت بس ایک دوجے سے ہو محبت ہم آؤ تعمیر پھر سے کر ...

مزید پڑھیے

ہے وفا تجھ میں تو پابند وفا ہوں میں بھی

ہے وفا تجھ میں تو پابند وفا ہوں میں بھی مجھ سے مل بیٹھ محبت کی فضا ہوں میں بھی جب بھی آ جائے خیال ان کو دل مضطر کا لب پہ بے ساختہ آئے وہ دعا ہوں میں بھی ہم سفر بن کے ملے یا بنے رہبر اپنا کوئی تو پوچھے کہ منزل کا پتا ہوں میں بھی گونج سی بن کے فضاؤں میں جو ہو جاتی ہے گم مجھ کو لگتا ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1466 سے 6203