کام ہے ان کا جفا وہ با وفا کہنے کو ہیں
کام ہے ان کا جفا وہ با وفا کہنے کو ہیں دیتے ہیں جو درد دل اہل شفا کہنے کو ہیں ہم تو سمجھے تھے وہ ساحل پر اتاریں گے ہمیں ڈال دی ناؤ بھنور میں نا خدا کہنے کو ہیں فاصلوں سے کم نہ ہوں گے روح کے رشتے کبھی وہ ہمیشہ دل میں ہیں دل سے جدا کہنے کو ہیں منفرد ان کی محبت منفرد ان کی وفا دوریاں ...