قومی زبان

سسکتی زندگی کو زندگانی کون دیتا ہے

سسکتی زندگی کو زندگانی کون دیتا ہے خزاں کے بعد پھر سے رت سہانی کون دیتا ہے مری آنکھوں میں صحراؤں کا منظر دیکھنے والو تہ صحرا یہ دریا کو روانی کون دیتا ہے نہیں مجھ سے کوئی شکوہ گلہ تو سچ بتاؤ پھر مری باتوں کو رنگ بد گمانی کون دیتا ہے شہہ کنعاں کی چاہت میں دوانی مصر کی ملکہ اسی ...

مزید پڑھیے

اپنی یکجائی میں بھی خود سے جدا رہتا ہوں

اپنی یکجائی میں بھی خود سے جدا رہتا ہوں گھر میں بکھری ہوئی چیزوں کی طرح رہتا ہوں صبح کی سیر کی کرتا ہوں تمنا شب بھر دن نکلتا ہے تو بستر میں پڑا رہتا ہوں دین و دنیا سے نہیں ہے کوئی جھگڑا میرا یعنی میں ان سے الگ اپنی جگہ رہتا ہوں خواہش داد نہیں اور کوئی فریاد نہیں ایک صحرا ہے جہاں ...

مزید پڑھیے

ہر ایک مرحلۂ درد سے گزر بھی گیا

ہر ایک مرحلۂ درد سے گزر بھی گیا فشار جاں کا سمندر وہ پار کر بھی گیا خجل بہت ہوں کہ آوارگی بھی ڈھب سے نہ کی میں در بدر تو گیا لیکن اپنے گھر بھی گیا یہ زخم عشق ہے کوشش کرو ہرا ہی رہے کسک تو جا نہ سکے گی اگر یہ بھر بھی گیا گزرتے وقت کی صورت ہوا نہ بیگانہ اگر کسی نے پکارا تو میں ٹھہر ...

مزید پڑھیے

وہ صدائیں دیتا رہا ہو میں نے سنا نہ ہو کہیں یوں نہ ہو

وہ صدائیں دیتا رہا ہو میں نے سنا نہ ہو کہیں یوں نہ ہو مجھے لگ رہا ہو جدا مگر وہ جدا نہ ہو کہیں یوں نہ ہو نہیں کوئی راز یگانگی نہیں کوئی ساز فسانگی مگر ایک ساز‌‌ فسانہ راز یگانہ ہو کہیں یوں نہ ہو میں سمجھتا ہوں اسے خوش نصیب کوئی چومتا ہے اگر صلیب کہ یہ ساز مرگ ہی زندگی کا ترانہ ہو ...

مزید پڑھیے

قسمت میں اگر جدائیاں ہیں

قسمت میں اگر جدائیاں ہیں پھر کیوں تری یادیں آئیاں ہیں یاں جینے کی صورتیں ہیں جتنی وہ صورتیں سب پرائیاں ہیں فریاد کناں نہیں بس اک میں چاروں ہی طرف دہائیاں ہیں ہر درجے پہ عشق کر کے دیکھا ہر درجے میں بے وفائیاں ہیں اک تیرا برا کبھی نہ چاہا گو ہم میں بہت برائیاں ہیں تقریب وصال ...

مزید پڑھیے

پڑا نہ فرق کوئی پیرہن بدل کے بھی

پڑا نہ فرق کوئی پیرہن بدل کے بھی لہو لہو ہی رہا جم کے بھی پگھل کے بھی بدن نے چھوڑ دیا روح نے رہا نہ کیا میں قید ہی میں رہا قید سے نکل کے بھی تہوں کا شور بھی اب سطح پر سنائی دے وہ جوش میں ہے تو پھر جسم و جاں سے چھلکے بھی نئی رتوں میں بھی صابرؔ اداسیاں نہ گئیں خمیدہ سر ہے ہر اک شاخ ...

مزید پڑھیے

ہوش و خرد سے دور دور وہم و گماں کے آس پاس

ہوش و خرد سے دور دور وہم و گماں کے آس پاس کرتا ہے دل طواف کیوں دشمن جاں کے آس پاس محو خیال یار ہوں مجھ کو غرض کسی سے کیا رہتا ہے اک حصار سا اب جسم و جاں کے آس پاس اک شور خامشی میں ہے اک زندگی ہے موت سی دہشت کا اک ہجوم ہے امن و اماں کے آس پاس گردش ماہ و سال نے ایسا کیا نڈھال بس گھبرا ...

مزید پڑھیے

گردش وقت سے لڑنا ہے جھگڑنا ہے ابھی

گردش وقت سے لڑنا ہے جھگڑنا ہے ابھی چڑھتے سورج ہیں ہمیں اور ابھرنا ہے ابھی حوصلے دورئ منزل سے نہ تھک جائیں کہیں کتنی پر خار سی راہوں سے گزرنا ہے ابھی نوک مژگاں پہ اتر آئے ہیں آنسو ایسے ابر باراں کی طرح جیسے برسنا ہے ابھی اس کو خوابوں میں بسا رکھا ہے خوشبو کی طرح اور تعبیر تلک اس ...

مزید پڑھیے

میرے اشعار کو معیار پہ تولا جائے

میرے اشعار کو معیار پہ تولا جائے فن کو رکھ کر کسی فن کار پہ تولا جائے بات ہے تاب نظر کی تو ہٹا کر پردہ شوق دیدار کو دیدار پہ تولا جائے راس آتی ہے انہیں دھوپ جو صحرائی ہیں کیوں انہیں سایۂ دیوار پہ تولا جائے نفرتیں ہم کو سہی تول نہیں سکتی ہیں تولنا ہے تو ہمیں پیار سے تولا ...

مزید پڑھیے

کہاں کہاں تجھے ڈھونڈوں کہاں کہاں دیکھوں

کہاں کہاں تجھے ڈھونڈوں کہاں کہاں دیکھوں دکھائی کیوں نہیں دیتا ہے میں جہاں دیکھوں فضا میں پھیل رہا ہے اب انتشار بہت نہ جانے کتنے ہی چہرے دھواں دھواں دیکھوں کسی کے سامنے ظاہر نہ ہوں مرے حالات خدایا تجھ کو فقط فقط اپنا رازداں دیکھوں زمیں پہ پھر کہیں وحشت نے سر ابھارا ہے لہو کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1465 سے 6203