قومی زبان

لمحہ لمحہ سوچنے والی آنکھیں تھیں

لمحہ لمحہ سوچنے والی آنکھیں تھیں اس کی آنکھیں دیکھنے والی آنکھیں تھیں کئی دنوں سے ان کو ڈھونڈ رہی ہوں میں وہ جو مجھ کو ڈھونڈنے والی آنکھیں تھیں اس کو بھولوں بھی تو کیسے بھولوں میں ہنستے ہنستے رونے والی آنکھیں تھیں ادھر ادھر کب دیکھنے دیتی تھیں مجھ کو ہر پل مجھ کو ٹوکنے والی ...

مزید پڑھیے

اپنے قامت سے بڑا بنتا ہے

اپنے قامت سے بڑا بنتا ہے جس کو دیکھو وہ خدا بنتا ہے ہم تو جیسے بھی بنے بن گئے ہیں دیکھیے آپ کا کیا بنتا ہے وہ مرا تیرے سوا بنتا نہیں جو مرا تیرے سوا بنتا ہے سچ کہوں جتنا حسیں ہے نا تو یہ جہاں صدقہ ترا بنتا ہے اب تو میں اور کسی کی نہیں ہوں اب تو وہ شخص مرا بنتا ہے

مزید پڑھیے

کتنی نعمتوں سے نوازا ہے مجھے

کتنی نعمتوں سے نوازا ہے مجھے خدائے عز و جل نے یہ پر کشش سا بدن جس پہ شاعر پوری بیاض لکھ دے یہ چاند کی کرنوں جیسا اجلا اجلا روپ یہ سونے جیسے بال یہ گلاب جیسے نازک ہونٹ یہ سیاہ گھنیری زلفیں جن پہ رات کا گماں ہوتا ہے ان آنکھوں میں سمندر کی گہرائی ہے لہجے میں پھولوں سی نرمی ...

مزید پڑھیے

میرے آنگن میں

میرے آنگن میں پہلی خوشی بن کر تم آئی ہو جیسے تپتے ہوئے صحرا میں بارش کی بوندیں گرتی ہوں تم نے مجھے کتنا بلند مرتبہ دیا ہے بالکل پریوں جیسی لگتی ہو تم تمہارے منہ سے ماں سن کر ایک انوکھا احساس ہوتا ہے تمہارے ننھے ننھے ہاتھوں کا لمس ایک عجیب سی توانائی بخشتا ہے تم میری زندگی کی پہلی ...

مزید پڑھیے

کبھی تم

کبھی تم میں سے نکل کر باہر تو آؤ دیکھو یہ دنیا کتنی حسین ہے قدرت کے ان انمول تحفوں پہ تمہارا بھی تو حق ہے تم نے ہر خوشی سے منہ موڑ لیا ہے کبھی اپنے میں سے نکل کر باہر تو آؤ دیکھو ذرا اور محسوس کرو کسی کی آنکھیں تمہارے دید کو ترس رہی ہیں کسی کی روح تم میں جذب ہونے کے لئے بے قرار ہے

مزید پڑھیے

موت بھی کچھ زندگی سے کم نہیں

موت بھی کچھ زندگی سے کم نہیں یہ اندھیرا روشنی سے کم نہیں تیری آنکھوں میں تپش ہے جون کی تیرا چہرہ جنوری سے کم نہیں میرا لہجہ ہے اگر پروین سا تیری غزلیں قاسمی سے کم نہیں انگلیاں ہم پر اٹھا کچھ سوچ کر یاد رکھ ہم بھی کسی سے کم نہیں تو مری خاطر گزرتا وقت ہے اور میں تیری گھڑی سے کم ...

مزید پڑھیے

جہیز کم تھا بہو آگ میں اتاری ہے

جہیز کم تھا بہو آگ میں اتاری ہے ہمارے گاؤں میں اب تک یہ رسم جاری ہے قدم اٹھاؤں گی تو خاک پر لہو ہوگا پڑی ہے پیر جو زنجیر مجھ سے بھاری ہے ردائے ہجر پہ جو درد کی کڑھائی کی تمہاری یاد میں یہ پہلی دست کاری ہے سکوت شام کا منظر ہے اور بجھی آنکھیں اداسی حد سے بڑھی ہے تو کتنی پیاری ...

مزید پڑھیے

نہیں معلوم جینے کا ہنر کیسا رکھا ہے

نہیں معلوم جینے کا ہنر کیسا رکھا ہے ہمیں حالات نے جیسے رکھا زندہ رکھا ہے مری پاگل طبیعت کا ہے کوئی پیر نہ سر نہیں دریا ملا تو آنکھ میں صحرا رکھا ہے تمہیں جس سمت سے آنا ہوا بے خوف آنا تمہارے واسطے چاروں طرف رستہ رکھا ہے مرے جیسی اداسی شہر میں کس کو ملی ہے مرا جیسا کسی نے کب بجھا ...

مزید پڑھیے

کفن جب سی رہے تھے لوگ میرا (ردیف .. ے)

کفن جب سی رہے تھے لوگ میرا مجھے لگتا تھا لہنگا بن رہا ہے ہمارے سانس ہوں گے دکھ کا سالن ہمارا دل جو چولہا بن رہا ہے تری موجودگی ہے بے معانی ترا ہونا نہ ہونا بن رہا ہے مری ہر رات نیندوں سے خفا ہے مرا ہر خواب کتبہ بن رہا ہے وہ اپنی قدر اب کھونے لگا ہے وہ اب تولے سے ماشہ بن رہا ...

مزید پڑھیے

شاعری

دل کی کشمکش لفظوں میں نکال دیتا ہوں جسم کیا میں روح کے کپڑے اتار لیتا ہوں میں نہیں جانتا قصیدہ قطعہ شعر و مصرع کیا ہے دل میں جو آتا ہے ورق پر اتار دیتا ہوں

مزید پڑھیے
صفحہ 1448 سے 6203