قومی زبان

روشنی جب مانگتے ہیں یہ دیے کی لو سے پوچھ

روشنی جب مانگتے ہیں یہ دیے کی لو سے پوچھ کیوں اندھیرے کانپتے ہیں یہ دیے کی لو سے پوچھ عشق کرنا ہے تو پہلے عشق کے آداب سیکھ رات کیسے کاٹتے ہیں یہ دیے کی لو سے پوچھ کون سا غم ہے کہ یوں ہی چاند تارے میرے ساتھ رات کیسے جاگتے ہیں یہ دیے کی لو سے پوچھ ہم شب تنہائی میں کرتے ہیں اپنا ہی ...

مزید پڑھیے

ان ہواؤں کی نہ لگ جائے نظر

ان ہواؤں کی نہ لگ جائے نظر کونپلیں نکلی ہیں دل کی شاخ پر اب کے فصل غم نہیں لانا ادھر آنے والے موسموں سے بات کر میری اک اک سانس گروی ہے تری اب تجھے میں کیا کہوں اے بے خبر کانپ اٹھتا ہے یہ پنجرہ سوچ کر جب نکل آئیں گے میرے بال و پر چھوڑ دیتا وہ ادھورا ہی سفر دیکھ لیتا جو مجھے بس اک ...

مزید پڑھیے

سماعت پر دباؤ وقت کا منہ زور ہوتا ہے

سماعت پر دباؤ وقت کا منہ زور ہوتا ہے خموشی کے تعاقب میں ہمیشہ شور ہوتا ہے تمہارا نام لے کر کھینچتی ہوں آئنے پر خط جھپکتی ہوں ذرا آنکھیں تو چہرہ اور ہوتا ہے مجھے کیوں ہر زمانہ خون میں لت پت ملا ہے پھر بڑوں سے جب سنا تھا ظلم کا اک دور ہوتا ہے خدارا مفتیان شہر سے کوئی تو یہ ...

مزید پڑھیے

خواب

حصار رنج میں رہتے ہوئے تجھے چاہوں غبار راہ یقیں میں سدا تجھے دیکھوں جبین وقت پہ ہر آن بس تجھے لکھوں چراغ ہجر بنوں رات بھر تری آنکھوں کے جنگلوں میں کروں روشنی اڑاؤں تری سنہری نیند اندھیروں بھرے مکانوں میں ترے وجود سے اپنا وجود باندھ کے میں سمندروں میں کروں رقص جل پری کی طرح سناؤں ...

مزید پڑھیے

ہجر نگری

تری موجودگی موجود ہے تو پھر یہاں سب کچھ مجھے پھیکا فنا جیسا سکوت مرگ جیسا لگ رہا ہے کیوں نہ دنیا ہے نہ شور و غل نہ ہنگامے نہ دل کو کھینچتے میلے جھمیلے ہیں نہ لوگوں کے تماشے ہیں نہ آنکھوں میں کوئی رونق نہ سانسوں میں حرارت ہے نہ ہاتھوں میں قلم میرے نہ ہی تکیے تلے غزلیں نہ ہی نظمیں نہ ...

مزید پڑھیے

خود کو جب خود سے کسی روز رہائی دوں گی

خود کو جب خود سے کسی روز رہائی دوں گی میں پرندوں کی طرح اڑتی دکھائی دوں گی زندگی تو مجھے کنگن نہ بھی پہنا بے شک میں تجھے ہنستے ہوئے پھر بھی کلائی دوں گی معجزے لفظ مرے خلق کریں گے ایسے چپ رہی پھر بھی زمانے کو سنائی دوں گی گھر میں خوابوں کو لہو کر کے جلاؤں گی چراغ در و دیوار کو ...

مزید پڑھیے

درون چشم ہر اک خواب مر رہا ہے بس

درون چشم ہر اک خواب مر رہا ہے بس ہمارے پاس یہی آج کل بچا ہے بس تری طلب تھی زمانہ تجھے زمانہ ملا مری طلب تھی خدا سو مرا خدا ہے بس اداس ہے نہ کسی سے ہوا ہے جھگڑا کوئی بڑے دنوں سے یوں ہی دل دکھا ہوا ہے بس جہاں پہ چاہو مرے ہاتھ کو جھٹک دینا مجھے پتہ ہے تعلق یہ عام سا ہے بس کھڑی ہوئی ...

مزید پڑھیے

تتلیاں جگنو شجر خوشبو پرندے چھوڑ کر

تتلیاں جگنو شجر خوشبو پرندے چھوڑ کر ہنس رہی ہوں خواب سارے میں ادھورے چھوڑ کر جس کی آنکھوں نے لکھا تھا آخری نوحہ مرا وہ گیا بھی تو گیا ہے سب سے پہلے چھوڑ کر ڈھونڈھتی پھرتی ہوں اپنے آپ کو کچھ اس طرح آ گئی ہوں جس طرح میں خود کو پیچھے چھوڑ کر کاٹنے ہیں رت جگے پڑھتے ہوئے دیوان ...

مزید پڑھیے

سرد راہوں میں بھٹکتی ہوئی شاموں کی طرح

سرد راہوں میں بھٹکتی ہوئی شاموں کی طرح میں ترے ساتھ چلی آئی ہوں رستوں کی طرح بس یہی دیکھ کے تجدید محبت کر لی رو پڑا تھا وہ مرے سامنے بچوں کی طرح گھر اداسی نے پڑاؤ ہے کیا مدت سے خواب کمروں میں سجا رکھے ہیں کتبوں کی طرح باغ ہجراں کی بہاروں کے بھی سبحان اللہ زخم پھولوں کی طرح پھول ...

مزید پڑھیے

آنکھ میری الٹ گئی ہوگی

آنکھ میری الٹ گئی ہوگی خواب کی عمر گھٹ گئی ہوگی مانگ سے خون بہہ رہا ہوگا خاک سے زلف اٹ گئی ہوگی روح اپنے سفر پہ نکلی جب تن سے مٹی چمٹ گئی ہوگی آخری بات درمیاں ہی تھی اور پھر کال کٹ گئی ہوگی یا زیادہ قریب تھا وہ شخص یا زمیں ہی سمٹ گئی ہوگی ہجر کی شب کو جب کوئی نہ ملا مجھ سے آ کر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1447 سے 6203