قومی زبان

آج کا ہندوستان

آج کا ہندوستان دنیا کے جواں ملکوں میں سے ایک ہے نوجوانوں میں نوجوان جن میں سے زیادہ تر نوجوان بے روزگار ہیں آج کے بے روزگار نوجوان کل کے بے روزگار بوڑھے ہو جائیں گے کل ہندوستان دنیا کے سب سے بوڑھے ملکوں میں سے ایک ہوگا بوڑھا بھی اور بے روزگار بھی اور بے حد غریب بے سہارا بھی وہ ...

مزید پڑھیے

آؤ یوپی

کرشن اور رام کے اوتار دکھائیں گے تمہیں یوپی آؤ کبھی چمتکار دکھائیں گے تمہیں کبیر سور تلسی اور خسرو ہی نہیں بڑھ کر ایک سے ایک فن کار دکھائیں گے تمہیں جیسے بچھڑی ہوئی دو بہنے گلے ملتی ہوں گنگا جمنا کی پاون دھار دکھائیں گے تمہیں دلوں میں احساسوں کی نرم گرماہٹ لیے کرتے ہیں کیسے آدر ...

مزید پڑھیے

نیا دور

نئے زمانہ کی تکنیکوں کے چکر میں کیا کیا بچھڑ گیا کچھ یاد ہے کتابیں الماریوں میں دم گھونٹ رہی ہیں ہر صفحہ ادھ مرا سا ہو گیا ہے ان کا بھار اب لوگوں سے اٹھتا نہیں شاید اچانک سے بہت بھاری ہو گئی ہیں ہزاروں کے برابر تو سو گرام کا کنڈل ہے پنے نہیں پلٹے جاتے اب بس سوائپ کیا جاتا ...

مزید پڑھیے

عدو سے شکوۂ قید و قفس کیا

عدو سے شکوۂ قید و قفس کیا تمہارے بعد جینے کی ہوس کیا ہم اپنی دسترس میں بھی نہیں ہیں زمانے پر ہماری دسترس کیا کئی دن سے یہ دل کیوں مضطرب ہے نہیں چلتا اب اس پہ اپنا بس کیا ہمارے پاؤں میں چھالے پڑے ہیں تو پھر اس میں خطائے خار و خس کیا جہاں خالی جگہ ہے بیٹھ جاؤ عقیدت میں یہ فکر پیش ...

مزید پڑھیے

کون ہے وہ

کون ہے وہ جو ہر پل میرے ساتھ ساتھ چلتا ہے کبھی وہ پھول بن کر میرے ہونٹوں پر کھلتا ہے کبھی شبنم بن کر میری روح کو بھگو دیتا کون ہے وہ جو ہر پل میرے ساتھ ساتھ چلتا ہے وہ کبھی لفظ بن کر میری غزلوں میں سنور جاتا ہے جب وہ ہنستا ہے ہر سمت جگنو چمکنے لگتے ہیں جب وہ چلتا ہے تو راہوں ...

مزید پڑھیے

کچی عمر کے

کچی عمر کے گلابی خوابوں کی قیمت کچی عمر کے خوب صورت جذبوں کی قیمت اس قدر مہنگی کیوں ہے تمام عمر گزر جانے کے بعد بھی پشیمانیاں رسوائیاں ساتھ ساتھ چلتی ہیں ہم سفر رہتی ہیں

مزید پڑھیے

دو ہی کردار تھے کہانی میں

دو ہی کردار تھے کہانی میں دونوں ہی مر گئے جوانی میں لوگ لاشیں نکال پائے بس عشق ڈوبا ہوا تھا پانی میں زندگی جل چکی تھی لکڑی سی راکھ بس بچ گئی نشانی میں موڑ آیا تھا میں مڑا ہی نہیں ہو گئی بھول زندگانی میں تھا سچنؔ شخص اک مرے جیسا اور وہ میں تھا بد گمانی میں

مزید پڑھیے

کیسے سچ سے رہے بے خبر آئنہ

کیسے سچ سے رہے بے خبر آئنہ آج خوش ہے بہت ٹوٹ کر آئنہ ہر طرف بے ضمیری نظر آئے گی ہو گیا گر یہ پورا نگر آئنہ آئنہ لوگ گھر میں سجاتے ہیں پر میں نے کر ڈالا پورا ہی گھر آئنہ جھوٹھے چہروں کو سچا بتاتا صدا رکھتا انساں سی فطرت اگر آئنہ آئنہ کی ہے اک اور خوبی سنو سب کو آتا نہیں ہے نظر ...

مزید پڑھیے

اندھیری رات کے سانچے میں ڈھالے جا چکے تھے ہم

اندھیری رات کے سانچے میں ڈھالے جا چکے تھے ہم بہت ہی دیر سے آئے اجالے جا چکے تھے ہم تھے ایسی بد گمانی میں نہیں احساس ہو پایا ہماری ہی کہانی سے نکالے جا چکے تھے ہم یہ موتی اشک کے اب تو سدا پلکوں پہ رہتے ہیں سمندر سے زیادہ ہی کھنگالے جا چکے تھے ہم زمیں پر آئیں گے تو فیصلہ ہوگا مقدر ...

مزید پڑھیے

مانا دکھ کو تھوڑا کم کر دیتی ہیں

مانا دکھ کو تھوڑا کم کر دیتی ہیں پر خوشیاں بھی آنکھیں نم کر دیتی ہیں پیار کی کلیاں جب بھی دل میں کھلتی ہیں میں اور تم کو اکثر ہم کر دیتی ہیں جب یادوں کے پھول پلک پر کھلتے ہیں آنکھیں اشکوں کو شبنم کر دیتی ہیں اس سے زیادہ کون سچنؔ دھوکھا دے گا جسم کو سانسیں ہی بے دم کر دیتی ہیں

مزید پڑھیے
صفحہ 1449 سے 6203