قومی زبان

یادوں کا ہر چراغ ہی اک روشنی ہے اب

یادوں کا ہر چراغ ہی اک روشنی ہے اب گزرے ترے خیال میں جو زندگی ہے اب دیر و حرم کی بات بھی اپنی جگہ سہی مسکیں وفا کے پھول وہی بندگی ہے اب کوچہ سے تیرے روز ہی گزرا کیے مگر خود سے گزر گئے ہیں تو یہ بے خودی ہے اب یہ کون طاقچوں سے اٹھا لے گیا چراغ کچھ سوجھتا نہیں ہے عجب تیرگی ہے اب وہ ...

مزید پڑھیے

خنجر سے کرو بات نہ تلوار سے پوچھو

خنجر سے کرو بات نہ تلوار سے پوچھو میں قتل ہوا کیسے مرے یار سے پوچھو فرض اپنا مسیحا نے ادا کر دیا لیکن کس طرح کٹی رات یہ بیمار سے پوچھو کچھ بھول ہوئی ہے تو سزا بھی کوئی ہوگی سب کچھ میں بتا دوں گا ذرا پیار سے پوچھو آنکھوں نے تو چپ رہ کے بھی روداد سنا دی کیوں کھل نہ سکے یہ لب اظہار ...

مزید پڑھیے

نہیں ہے یہ ترا کوچہ نہیں ہے

نہیں ہے یہ ترا کوچہ نہیں ہے یہاں کوئی صدا دیتا نہیں ہے تجھے چھو کر اسے پہچان لیں گے اگر ہم نے خدا دیکھا نہیں ہے ذرا سوچو تو اس کی پیاس لوگو وہ بادل جو کہیں برسا نہیں ہے نئے چہرے لیے پھر آؤ یارو یہ دل پوری طرح ٹوٹا نہیں ہے غنیمت جان تو دو پل بھی راہیؔ وفا کا راستہ لمبا نہیں ہے

مزید پڑھیے

میرے جیسے بن جاؤ گے جب عشق تمہیں ہو جائے گا

میرے جیسے بن جاؤ گے جب عشق تمہیں ہو جائے گا دیواروں سے سر ٹکراؤگے جب عشق تمہیں ہو جائے گا ہر بات گوارا کر لو گے منت بھی اتارا کر لو گے تعویذیں بھی بندھواؤ گے جب عشق تمہیں ہو جائے گا تنہائی کے جھولے کھولیں گے ہر بات پرانی بھولیں گے آئینے سے تم گھبراؤگے جب عشق تمہیں ہو جائے گا جب ...

مزید پڑھیے

اک برہنہ بولتا اظہار ہے

اک برہنہ بولتا اظہار ہے میرا چہرہ صبح کا اخبار ہے آگے پیچھے چل رہا ہے دم بہ دم ایک میرا سایہ میرا یار ہے پاؤں کے نیچے ہے شعلوں کی زمیں اور سر پہ سوچ کی تلوار ہے بے لباسی پیراہن پہ خندہ زن بے حیائی ایک کاروبار ہے کس طرف کو جائے راہیؔ آدمی ہر قدم سرحد ہے یا دیوار ہے

مزید پڑھیے

یہ حقیقت ہے کہ ہوتا ہے اثر باتوں میں

یہ حقیقت ہے کہ ہوتا ہے اثر باتوں میں تم بھی کھل جاؤ گے دو چار ملاقاتوں میں تم سے صدیوں کی وفاؤں کا کوئی ناطہ تھا تم سے ملنے کی لکیریں تھی مرے ہاتھوں میں تیرے وعدوں نے ہمیں گھر سے نکلنے نہ دیا لوگ موسم کا مزہ لے گئے برساتوں میں اب نہ سورج نہ ستارہ ہے نہ شمع ہے نہ چاند اپنے زخموں ...

مزید پڑھیے

اتنا تو ہوا اے دل اک شخص کے جانے سے

اتنا تو ہوا اے دل اک شخص کے جانے سے بچھڑے ہوئے ملتے ہیں کچھ دوست پرانے سے اک آگ ہے جنگل کی رسوائی کا چرچا ہے دشمن بھی چلے آئے ملنے کے بہانے سے اب میرا سفر تنہا اب اس کی جدا منزل پوچھو نہ پتہ اس کا تم میرے ٹھکانے سے روشن ہوئے ویرانے خوش ہو گئی دنیا بھی کچھ ہم بھی سکوں سے ہیں گھر ...

مزید پڑھیے

غم سود و زیاں سے خود کو جو آزاد رکھتا ہے

غم سود و زیاں سے خود کو جو آزاد رکھتا ہے کوئی موسم بھی ہو دل کو ہمیشہ شاد رکھتا ہے کوئی بھی حال ہو شکوے گلے کرتا ہے جو سب سے کبھی ہونٹوں پہ نالے اور کبھی فریاد رکھتا ہے ذرا سی چوک پر تنقید کی قینچی چلانے کو مرے شعروں پہ نظریں گاڑ کے نقاد رکھتا ہے کسی پیاسے کو پانی سے کبھی محروم ...

مزید پڑھیے

مرحلہ در مرحلہ یوں مجھ کو سر اس نے کیا

مرحلہ در مرحلہ یوں مجھ کو سر اس نے کیا میری نظروں سے گزر کر دل میں گھر اس نے کیا چھاؤں ہاتھ آئی نہیں یوں ہی گھنے اشجار کی چلچلاتی دھوپ میں بھی طے سفر اس نے کیا ہر قدم پر ساتھ میرے لغزشوں کی بھیڑ تھی چشم بالغ سے انہیں صرف نظر اس نے کیا کہہ رہے ہیں کالے گہرے آنکھ کے وہ دائرے زہر پی ...

مزید پڑھیے

دوستوں کی محفل ہو ریشمی اجالا ہو

دوستوں کی محفل ہو ریشمی اجالا ہو سامنے کی باتیں ہوں کوئی سننے والا ہو کوئی معجزاتی سا ایک دل ربا لمحہ اس کے ہونٹ کھل جائیں میرے لب پہ تالا ہو خواب سارے تکیے پہ چین کی ہوں سوتے نیند میرؔ جی کے جیسا ہی روگ ہم نے پالا ہو اپنے لب پہ چھو چھو کے جام لائے گردش میں یہ مزہ نشے والا اور ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1431 سے 6203